اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں بالترتیب 458 روپے 40 پیسے اور 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہیں۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 3 اپریل کی رات 12 بجے سے ہوگا۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے اور خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث حکومت کو یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ، عسکری قیادت اور دیگر حکام نے شرکت کی، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ حالات میں سبسڈی صرف مخصوص طبقوں تک محدود رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی 90 فیصد تیل کی ضروریات دبئی اور عمان سے پوری کرتا ہے، جہاں قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور ڈیزل کی عالمی قیمت 250 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔
حکومت نے عوامی دباؤ کو کم کرنے کے لیے محدود ریلیف اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق موٹرسائیکل سواروں کو 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی، جو ماہانہ 20 لیٹر تک تین ماہ کے لیے دستیاب ہوگی۔
اسی طرح مال بردار اور مسافر گاڑیوں کے لیے بھی سبسڈی پیکج متعارف کروایا گیا ہے، جس کے تحت مختلف کیٹیگریز کے لیے ماہانہ مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ چھوٹے کسانوں کو فصل کی کٹائی کے دوران 1500 روپے کی ایک وقتی سبسڈی بھی دی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ حکومت ایک ماہ بعد سبسڈی پالیسی کا دوبارہ جائزہ لے گی جبکہ ریلوے کو بھی سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ کم آمدنی والے مسافروں کو سہولت دی جا سکے۔
حکومت نے توانائی بچانے کے لیے مارکیٹوں کے اوقات کار دن کے وقت تک محدود کرنے کا اصولی فیصلہ بھی کیا ہے، جس پر عملدرآمد آئندہ ہفتے صوبائی مشاورت سے طے کیا جائے گا۔



