لندن (نیشنل ٹائمز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ اتحادی ممالک، جن میں برطانیہ بھی شامل ہے ، ‘آبنائے ہرمز جائیں اور بس تیل لے آئیں۔’برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ بات ان کے کچھ انتہائی پُر جوش حامیوں کو تو پسند آ سکتی ہے لیکن ایک ایسی جنگ کے دوران جس کا اختتام نظر نہیں آ رہا، ایسی بات کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ۔امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ‘مشکل کام کر لیا گیا ہے ’ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ بہت کم ممالک کو ان کی بات پر یقین ہے ۔ابھی تک کوئی بھی ملک ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر قائم گرفت کو چیلنج کرنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی جہاز بھی ایسا نہیں کر سکے ۔امریکی صدر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ٹھیک جا رہے ہیں مگر اس کا بھی کوئی ٹھوس ثبوت ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس میں بے صبری کا لہجہ بڑھ رہا ہے ۔ انھوں نے اپنی پوسٹ میں فرانس کو ‘بہت غیر مدد گار’ قرار دیا۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ٹرمپ کو معلوم ہو چکا ہے وہ مشکل میں پھنس چکے ہیں۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک معروف محاورے کا حوالہ دیا جائے تو ‘تمام پتے ’ ایران کے ہاتھ میں ہیں۔باوجود اس کے کہ ایران کے پاس روایتی بحریہ اب موجود نہیں رہی اور اس کی بحریہ کے سربراہ بھی ہلاک کیے جا چکے ہیں، تاہم ایک چیز ایسی ہے جو ایران سے چھینی نہیں جا سکتی؛ اس کا جغرافیہ۔سٹرٹیجک طور پر اس انتہائی اہم سمندری راستے کے ساتھ ایران کا صوبہ ہرمزگان واقع ہے ۔ یہ صوبہ مشرق میں خلیجِ عمان سے لے کر مغرب میں عسلویہ تک پھیلا ہوا ہے ۔ یہاں اسرائیل نے ایران کی پارس گیس فیلڈ پر حملہ کیا تھا۔خلیج کے تمام ممالک میں سب سے طویل ساحل ایران کے پاس ہے۔اس کے ساتھ قشم، لارک، ہرمز اور ابو موسیٰ سمیت متعدد جزائر موجود ہیں۔ایران چاہے تو ان میں سے کسی بھی جزیرے کو ڈرون حملے کرنے ، سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے یا بحری جہازوں سے ٹکرا کر پھٹ جانے والی کشتیوں کے حملے کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے ۔ ہرمزگان اور اس سے ملحقہ جزائر کی ساخت دفاع کے لیے موزوں ہے ۔ یہ چٹانی پہاڑی علاقہ ہے جس میں بے شمار غار، سرنگیں اور قدرتی پناہ گاہیں موجود ہیں۔امریکہ ہر ایک میزائل اور ڈرون لانچ سائٹ کو تباہ کر دے ، یہاں تک کہ اپنے فوجی بھی اس سر زمین پر اتار کر ‘یہ بات یقینی بنا لے کہ کام مکمل ہو گیا ہے ،’ اس کے باوجود ایران اپنے ہتھیاروں کا ذخیرہ دوبارہ بنا لے گا، غالباً چین اور روس کی مدد سے ۔اسی لیے آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے کا سب سے ممکنہ راستہ مذاکرات ہی ہے ۔
ٹرمپ کی بے صبری بتا رہی ہے کہ وہ مشکل میں پھنس چکے



