لاہور (نیشنل ٹائمز)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا کہ خواتین کی خودمختاری، طاقت اور صلاحیت میرے دل کے قریب ہے ۔ میرا سفر بھی بحیثیت عورت دوسروں سے زیادہ مختلف نہیں، دور سے سب اچھا لگتا ہے لیکن ایسا بالکل نہیں ہوتا۔جدوجہد کرنیوالی خواتین دوسروں کے لئے رول ماڈل بن سکتی ہیں۔جماعتوں میں مردوں کی اجارہ داری ہے ، وزیراعلیٰ بننے کا سفر آسان نہیں تھا،مخصوص مائنڈ سیٹ سے لڑ کرسامنے آئی، لیڈر شپ صنفی امتیاز سے ماورا ہے ،خاتون ہو کر صوبے کو چلارہی ہوں ۔جدوجہد کرنیوالی خواتین دوسروں کیلئے رول ماڈل ہیں ، لیڈر ایوارڈ حاصل کرنیوالی خواتین کو سلام پیش کرتی ہوں ۔عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے ہم لیڈرایوارڈ کی منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ویمن لیڈر ایوارڈ تقریب سے خطاب میں شرکت میرے لئے باعث فخر ہے ،شکریہ اد اکرتی ہوں۔ پنجاب بلکہ پاکستان کی پہلی سی ایم بننے کا اعزاز حاصل کیا، سی ایم بننا ہر ماں،بہن اوربیٹی کیلئے اعزاز ہے ۔آج لوگ کہتے ہیں پنجاب اچھا پرفارم کررہا ہے کیوں پرفارم کررہا ہے اس کے پیچھے محنت ہیں۔اللہ نے جب محبت کی مثال دی تو کہا کہ میں 70ماؤں سے زیادہ پیارکرتا ہوں۔ سلطانہ آپا جیسی عظیم خواتین کے بچے ان کی قدرکرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کتنی قربانیاں دی گئی ہیں۔پنجاب 12کروڑ عوام کا صوبہ ہے ،جہاں گلی،محلو ں،سڑکوں کی صفائی اورانفراسٹرکچر کو بہتر کیا جا رہا ہے ۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں خواتین کو تحفظ کے ساتھ رزق کمانے کے مواقع دیئے جارہے ہیں۔ بہت مراعات یافتہ اوراچھے گھرسے تعلق ہونے کے باوجود میرے والد مشرقی روایات کے امین ہیں۔ڈری سہمی لڑکی کا سی ایم بننا آسان سفر نہیں،کرسی تک پہنچنا آسان نہیں تھا،میری جدوجہد کے سفر کو لوگ نہیں جانتے ۔اڈیالہ جیل میں تھی تو پتہ نہیں تھا کہ میرا جرم کیا ہے ۔آفس میں سی ایم ہوتی ہوں لیکن گھر میں ایک ماں ہوتی ہوں۔مرد حضرات بہت محنت کرتے ہیں مگر خواتین بیک وقت کئی امور کو متوازی لے کر چلتی ہیں۔ چھوٹے شہروں میں جائیں تو بچے مجھے سب کی ماں کہتے ہیں۔ پارٹی کے لوگ کہتے تھے کہ مریم نواز صوبہ کیسے چلائے گی، بڑے کہتے تھے کہ مریم نوازکیسے بگڑے ہوئے نظام کو ٹھیک کرے گی۔ میرے والد مجھے کہتے تھے گھبرانا نہیں میں تمہارے پیچھے کھڑا ہوں، والدین ساتھ ہیں تو بیٹیاں وہ کامیابیاں لائیں گی جس پرسر فخر سے بلند ہوگا۔ آج پنجاب میں وزیراعلیٰ،چیف جسٹس،وزراء،سیکرٹریز،کمشنر،ڈپٹی کمشنر اورڈی پی اوخواتین ہیں۔ خواتین پاک فوج، ایئر فورس اورنیوی میں آرہی ہیں، ڈاکٹر بن رہی ہیں،دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے ۔کسی سکیم میں خواتین کا کوٹہ نہیں رکھا اوپن میرٹ پر جتنی بھی آجائیں۔وسائل سے محروم بچوں کوہونہار سکالرشپ دے رہے ہیں۔گرین بسوں میں لیڈیز ڈیپارٹمنٹ الگ ہے خواتین سے کوئی کرایہ نہیں لیا جاتا۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ مریم اورنگزیب،عظمیٰ بخاری،ثانیہ عاشق اورسلمیٰ بٹ شاندار کام کررہی ہیں۔ بچیوں کو ہراسانی جیسے واقعات سے محفوظ رکھنے کیلئے ورچوئل پولیس سٹیشن قائم کیے ۔خواتین کے لئے تھانے جانا تکلیف دہ ہوتا ہے ، ویڈیو کال کرسکتی ہیں۔پینک بٹن لگائے جہاں صرف بٹن دبانے پر پولیس پہنچ جاتی ہے ۔ٹرین میں بچی کو ہراساں کرنے کی اطلاع پر ملزم کو اگلے ہی سٹیشن پر پولیس نے گرفتار کرلیا۔ پنجاب کی خاتون اب خود کومحفوظ تصورکرتی ہے ۔ اگر پاکستان کی 51فیصد ورک فورس ترقی کی جدوجہد میں حصہ نہیں ڈالیں گی تو ترقی پیچھے رہ جاتی ہے ۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ بیٹی ساتھ ہو تو ہر والد دنیا کا سب سے اہم شخص ہوتا ہے ، 2016میں پاناما کا جھوٹا کیس بنایا گیا تو والد کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہوگئی۔ بیمار ماں کو چھوڑ کر وطن واپس آئی تو پنڈی سے اڈیالہ جیل بھیجاگیا۔اڈیالہ جیل میں موت کی کوٹھڑی سے آسمان تک نظر نہیں آتا۔ 50ڈگری پر جیل کا سیل تپ رہا ہوتا تھا،سیل میں جائے نماز بچھانے کیلئے بھی پوری جگہ نہیں تھی۔اللہ کے پلان کو کوئی نہیں سمجھ سکتا،ہر مشکل دراصل ایک موقع ہوتا ہے ۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے وومن لیڈر ایوارڈ حاصل کرنے والی خواتین یاسمین قریشی،انیس ہارون،جہاں آرااورمائی جنداکو ایوارڈ دیئے ۔
جماعتوں میں مردوں کی اجارہ داری،وزیراعلیٰ بننے کا سفر آسان نہیں:مریم نواز



