اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی 14ویں وزارتی کانفرنس کے موقع پر کیمرون کے دارالحکومت یااوندے میں پاکستانی وفد نے وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی کی قیادت میں ایک مصروف اور مؤثر دن گزارا۔
وفد کے سربراہ بلال اظہر کیانی نے زراعت سے متعلق مرکزی اجلاس کی صدارت کی، جس میں تمام رکن ممالک نے شرکت کی۔ اس اہم سیشن کے دوران 76 ممالک کے نمائندوں نے زراعت، تجارت اور عالمی غذائی تحفظ سے متعلق وزارتی اعلامیے کے مسودے پر اپنی آراء پیش کیں۔ وزیر مملکت نے بطور “فسیلیٹیٹر” کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے مختلف ممالک کے ساتھ دوطرفہ اور چھوٹے گروپوں کی ملاقاتیں کیں تاکہ مشترکہ نکات پر پیش رفت اور اتفاقِ رائے ممکن بنایا جا سکے۔
کانفرنس کے دوران پاکستانی وفد نے یورپی یونین، سنگاپور اور کولمبیا کے ہم منصبوں کے ساتھ مل کر ‘ملٹی پارٹی انٹیرم ارینجمنٹ فار آربٹریشن’ (ایم پی آئی اے) کے اجلاس کی مشترکہ میزبانی بھی کی۔ اجلاس میں تجارتی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر، فعال اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا، جبکہ اس پلیٹ فارم میں نئے ارکان کی شمولیت کا خیر مقدم کیا گیا۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عالمی تجارت کے استحکام کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ عمل نظام ناگزیر ہے۔
اجلاس میں غذائی تحفظ، کسانوں کی فلاح، ماحولیاتی تبدیلی اور ترقیاتی امور پر مختلف آراء سامنے آئیں، تاہم رکن ممالک کی اکثریت نے اعلامیے کے مسودے کی حمایت کی اور بلال اظہر کیانی کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
وزیر مملکت نے جرمنی کے اعلیٰ سطحی وفد سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور جرمنی کے درمیان دوطرفہ تجارت اور معاشی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے عالمی تجارت میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیا اور تجارتی مواقع کو وسعت دینے پر غور کیا۔
ان تمام ملاقاتوں اور مذاکرات کے دوران ڈبلیو ٹی او میں پاکستان کے سفیر علی سرفراز حسین نے وزیر مملکت کی بھرپور معاونت کی۔
یہ کانفرنس عالمی تجارتی منظرنامے میں پاکستان کے فعال کردار اور اہم اقتصادی امور میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہے۔



