بیجنگ(شِنہوا) چین کے تھیان گونگ خلائی سٹیشن پر موجود شین ژو-21 کے عملے نے گزشتہ ہفتے کے دوران خلائی طبی تجربات اور طبعی سائنس کی تحقیق میں نمایاں پیش رفت کی جبکہ ساتھ ہی سٹیشن کے قابل رہائش ماحول کو بھی برقرار رکھا۔
چین کے انسان بردار خلائی ادارے کے مطابق خلائی طب کے شعبے میں ژانگ لو، وو فی اور ژانگ ہونگ ژانگ پر مشتمل عملے نے طویل مدت تک خلا میں رہنے کے نفسیاتی اور جسمانی اثرات کو سمجھنے پر توجہ دی۔ چائنہ میڈیا گروپ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے لیپ ٹاپس کے ذریعے “اعتماد اور ہم آہنگی کے طریقہ کار” اور “انسان اور مشین کے درمیان اعتماد” سے متعلق ٹیسٹ مکمل کئے جو مستقبل کے خلائی جہازوں کے انٹرفیس کے ڈیزائن اور خلا نوردوں اور خودکار نظاموں کے درمیان موثر ٹیم ورک کو یقینی بنانے کے لئے نہایت اہم ہیں۔
ایک اہم پیش رفت خلائی رامن سپیکٹرو میٹر کے استعمال سے حاصل ہوئی جو ایک ایسا آلہ ہے جو نمونے پر لیزر ڈال کر سالماتی ساخت کی شناخت کرتا ہے۔ خلا نوردوں نے اس آلے کی مدد سے پیشاب کے نمونوں میں میٹابولک اجزاء کا تجزیہ کیا۔ حاصل شدہ ڈیٹا مدار میں خلانوردوں کی صحت کی نگرانی کے طبی معیار کو بہتر بنانے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
یہ جاننے کے لئے کہ کشش ثقل کے بغیر دماغ مادی دنیا کو کیسے محسوس کرتا ہے، انہوں نے “مائیکرو گریویٹی میں فطری طبعی رویے” کے تجربات بھی کئے۔
شین ژو-21 انسان بردار خلائی جہاز کو چین کے شمال مغربی جیو چھوان سیٹلائٹ لانچ سنٹر سے 31 اکتوبر 2025 کو لانچ کیا گیا تھا۔ شین ژو-21 کے عملے نے 9 دسمبر کو اپنے مشن کی پہلی سیریز کی خلائی چہل قدمی مکمل کی۔
شین ژو-21 کے عملےکے خلا میں جدید طبی معائنے اور دماغی سائنس کے تجربات



