آہ حسام قاضی۔ جو بھری جوانی میں اپنے کیریر کے عروج پر اس دنیا سے چلے گئے۔ آج حسام قاضی کی سالگرہ ہے۔
حسام قاضی 4 مارچ 1961 میں کوئٹہ، بلوچستان پاکستان میں پیدا ہوئے اور وہیں اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ پھر انہوں نے کوئٹہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور کامرس میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔ انہیں پڑھانے کا بہت شوق تھا اور اپنے اسی شوق کے پیش نظر حسام نے کالج میں لیکچرر کے طور پر ملازمت کا آغاز کیا اور اداکاری کے ساتھ ساتھ لیکچرر شپ کا بھی ساری زندگی جاری رکھا۔
حسام قاضی کو اداکاری کا بہت شوق تھا اور اسی شوق کے پیش نظر انہوں نے 1980 کی دہائی میں کوئٹہ ٹی وی سے اداکاری کا آغاز کیا اور 2004 میں اپنی موت تک مصروف اداکار رہے، انہوں نے اردو میں پی ٹی وی کے کلاسک ڈراموں کے ساتھ ساتھ بلوچی اور براہوی ڈراموں اور سیریلز میں بھی اداکاری کی۔حسام قاضی کا پہلا ڈرامہ کھلے ہاتھ تھا جسے پی ٹی وی کوئٹہ سینٹر سے دوست محمد گشکوری نے پروڈیوس کیا تھا اسے بعد حسام قاضی نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور پاکستان کے سب سے مشہور اور مصروف اداکار بن گئے۔
لیکچرر کی ملازمت کے باوجود، انہوں نے اپنے اداکاری کے کیریئر کو ساتھ ساتھ چلایا اور کوئٹہ کے علاوہ کراچی اور اسلام آباد کے مراکز سے تیار کیے گئے بہت سے ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ 1986 میں ہدایت کار کاظم پاشا نے ڈرامہ چھاوں میں
حسام قاضی کو کاسٹ کیا۔ انکے ساتھ لیلی زبیری اور ایوب کھوسو بھی ڈرامے کی کاسٹ میں شامل تھے۔ یہ ڈرامہ حسام قاضی کی پہچان بن گیا اور پھر انہوں نے بے شمار ڈراموں میں کیا اور انکا نام ڈراموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ ان کے دیگر مشہور ڈراموں میں ماروی، درد کی رشتے، دیس پردیس، مٹی کی مورت، سلسلے، لب دریا، کشکول، گھرانہ، محراب خان، چاکر اعظم شامل ہیں۔ اپنے پورے کیرئیر میں انہوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کیے۔
سال 2000 میں حسام قاضی کودل کا دورہ پڑا اورعلاج کی غرض سے وہ اہل خانہ سمیت کراچی میں سکونت اختیار کر گئے۔ 3 جولائی 2004 کوانہیں دوبارہ دل کا دورہ پڑا انہیں لیاقت نیشنل ہسپتال منتقل کیا گیا مگر تب تک وہ انتقال کر گئے تھے۔ ان کی میت تدفین کے لیے ان کے آبائی شہر کوئٹہ لے جائی گئی اور انہیں ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ان کا آخری ڈرامہ مٹی کی مورت تھا۔
حسام قاضی 43 سال کی عمر میں اپنے کیئریر کے عروج پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ وہ اپنے پیچھے تین بچے اور بیوی چھوڑ گئے۔ وہ پاکستانی ٹیلی ویژن انڈسٹری کا بہت بڑا اثاثہ تھے اور انڈسٹری کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔



