ہوشے کے جانباز

تحریر: سعدیہ نارو

ہوشے گاؤں گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کا آخری رہائشی گاؤں ہے۔ یہاں سے کئی بڑی چوٹیوں اور ٹریکنگ مقامات تک رسائی ہوتی ہے۔ ہوشے کی زندگی روایتی بلتی ثقافت اور قدرتی ماحول کے ساتھ جڑی ہے۔ یہاں کے بہت سے نوجوان گائیڈز اور پورٹرز کی خدمات سرانجام دیتے ہیں اور آج یہ ایک عالمی ٹریکنگ ہب کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

ہوشے سالوں سے حوصلے، مہارت اور اجتماعی ذمہ داری کی روایت کو نبھا رہا ہے۔ یہاں انتظامی کمیٹی کی مشاورت سے ہر سال ایک ریسکیو ٹیم تشکیل دی جاتی ہے۔ یہ ٹیم دس سے بارہ مضبوط اور ماہر ہائی آلٹیٹیوڈ پورٹرز پر مشتمل ہوتی ہے۔

جون کی تیز دھوپ جب برفیلی سرزمین میں رسائی کے در کھولتی ہے تو یہ پہاڑ زادے اپنے سازوسامان سمیت گھروں سے جی جی لا کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ درے پر صرف رسیاں نہیں بلکہ آنے والے ہر مسافر کی سلامتی کا یقین باندھتے ہیں۔ خطرناک ڈھلوانوں پر اینکر جما کر، گرہیں کس کر، وہ ٹاپ تک پہنچتے ہیں اور پھر دوسری سمت برف پر راستہ تراش کر اس قرینے سے رسی لگا دیتے ہیں جیسے کسی ہنرمند نے سفید اوڑھنی پر باریک ٹانکے لگائے ہوں۔

اس کےبعد علی کیمپ ان کا عارضی گھر بن جاتا ہے۔ یہیں سے ڈیوٹی کا اصل مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ دو افراد جی جی لا ٹاپ کے خیمے میں رات گزارتے ہیں جہاں ہوا کا شور، جما دینے والی برف اور ستاروں کی سرد روشنی ان کی ہم نشین ہوتی ہے۔ جبکہ باقی نیچے علی کیمپ میں آنے والے قافلوں کے منتظر رہتے ہیں۔ اپنا طے شدہ وقت پورا کر کے وہ دو افراد نیچے علی کیمپ میں واپس آ جاتے ہیں اور نئے دو جوان اوپر ڈیوٹی دینے پہنچ جاتے ہیں۔ جب کوئی گروپ لا عبور کرنے نکلتا ہے تو ریسکیو ٹیم کا ایک ممبر ان کے ساتھ سایہ بن کر چلتا ہے۔ ڈھیلی رسی درست کرتا، برف میں نئے قدم بناتا اور حادثے کی صورت میں زندگی کی ڈور سنبھال لیتا ہے۔

یہ مشقت ان کا روزگار ہے۔ ریسکیو ٹیم ہر ٹور آپریٹر سے فی ٹریکر فیس وصول کرتی ہے جس سے ان کے گھروں کا چولہا جلتا ہے۔ جون کے وسط سے ستمبر کے ابتداء تک وہ اسی بلند و بالا جہان میں مقیم رہتے ہیں۔ موسم کی سختی اور خطرے کا احساس ان کے معمول کا حصہ بن جاتا ہے۔ پھر ایک دن وہ رسیاں سمیٹتے، اینکر نکالتے اور درے کو اگلے سیزن تک اس کی خاموشی کے حوالے کر کے واپس ہوشے اُتر جاتے ہیں۔

جی جی لا کراس کرنے والے ہمارے انیس رُکنی گروپ کے دو گائیڈز نور عالم اور موسیٰ بھی ہوشے سے تھے۔ کنکورڈیا سے علی کیمپ اور پھر علی کیمپ سے جی جی لا ٹاپ پر چڑھائی اور وہاں سے اُترائی میں نور عالم میرے ساتھ سائے کی طرح رہا۔ لا کی اُترائی میں ایک مقام پر ڈھلوان اس قدر دشوار تھی کہ نور عالم نے مجھے ریسکیو گروپ کے ایک لڑکے کے سپرد کر دیا۔ وہ مجھ سے آگے اپنا جوتا جما کر کھڑا ہوتا اور میں اس کے قدم کے ساتھ قدم رکھتے ہوئے نیچے اُترتی۔ وہ مشکل حصہ پار کروانے کے بعد واپس اوپر کیمپ کی طرف لوٹ گیا اور میں دوبارہ نور عالم کے ساتھ ہو لی۔

یوں جی جی لا کی کراسنگ ان گمنام جانبازوں کی ہمت اور محنت سے ہی ممکن ہو پاتی ہے۔ اگر ان کے جفاکش ہاتھ یہ رسیاں نہ باندھیں اور ان کے قدم مسافروں کی رہنمائی نہ کریں تو یہ درہ برف، ہوا اور خاموشی کی ملکیت رہتا۔ اب یہ ریسکیو ٹیم اپنے ساز و سامان کے ساتھ اس ایکو سسٹم کا حصہ بن چکی ہے۔



  تازہ ترین   
ایرانی پاسداران انقلاب کا آپریشن وعدہ صادق 4 کا 19 واں مرحلہ شروع کرنے کا اعلان
پاکستان کا بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر تشویش کا اظہار
لبنان میں حماس رہنما شہید، قطر، بحرین اور آذربائیجان میں دھماکے، ایرانی ٹی وی اور ریڈیو نشانہ
وزیراعظم سے جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، مشرق وسطی پر اعتماد میں لیا
قتلِ عام کو روکا، حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا: امریکی صدر
امریکی سینیٹ ایران پر حملہ روکنے میں ناکام، سعودیہ کا ایرانی کروز میزائل گرانے کا دعویٰ
روس یورپ کو گیس سپلائی روکنے پر غور کرسکتا ہے: پیوٹن
عراقی کردوں نے ایران پر زمینی حملہ شروع کر دیا، امریکا کا دعویٰ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر