دبئی (نیشنل ٹائمز) دبئی کی شان و شوکت دھماکوں سے اڑ گئی ،دبئی کے خلیج کنارے واقع شاندار بادبانی شکل کا برج العرب ہوٹل جو شہر کی عظمت اور دولت کی علامت سمجھا جاتا تھا، ایران کے میزائل حملوں کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا اور اب خطے میں بحران کی زندہ تصویر بن گیا ہے ۔شہری دنگ رہ گئے جب سینکڑوں ڈرون اور میزائل جمعہ اور ہفتے کو متحدہ عرب امارات اور امریکا کے دیگر خلیجی اتحادیوں کو نشانہ بنانے کے لیے اُڑے ۔ یہ علاقے جو طویل عرصے سے تنازعات سے محفوظ ٹھہرے ، اب اچانک جنگ کی لپیٹ میں آ گئے ۔دبئی جو چند دہائیوں میں ایک معمولی قصبے سے دنیا کے امیر اور بلند و بالا عمارتوں والے شہر میں تبدیل ہو گیا، اب خوف کے پہرے میں ہے۔برج العرب جو1999سے دبئی کی پہچان اور شان کی علامت رہا، حملوں کی آگ میں جل اٹھا، حملوں نے دبئی کی پرامن شبیہ کو ہلا کر رکھ دیا اور خطے میں جاری کشیدگی کی شدت کو واضح کر دیا۔ دبئی کا ہوائی اڈہ، جو بین الاقوامی پروازوں کے لحاظ سے دنیا کا سب سے مصروف ہوائی اڈہ ہے ، اور جبل علی بندرگاہ بھی حملوں کی زد میں آ گئے ۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق یہ دونوں مراکز دبئی کی آمدنی کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ فراہم کرتے ہیں۔ ایک ساٹھ سالہ ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ لبنان کے اقتصادی بحران سے بچنے کے لیے دبئی منتقل ہوئے تھے ۔ ڈاکٹر نے کہا دبئی میرا محفوظ ٹھکانہ تھا، لیکن جنگ لبنان سے یہاں تک ہمارے پیچھے آئی۔بہت سے لوگ برج العرب، دبئی کی پہلی عالمی شہرت یافتہ عمارت، کو دنیا کے بلند ترین برج خلیفہ سے زیادہ پسند کرتے ہیں، جو2010میں شہر کے وسط میں کھولا گیا تھا۔برج العرب کو کبھی سات ستارہ ہوٹل کہا جاتا ہے ۔ یہاں کی مشہور سرگرمیوں میں 2005 میں زمین سے 210 میٹر بلند ہیلی پیڈ پر ٹینس کے لیجنڈز راجر فیڈرر اور آندرے اگاسی کے درمیان میچ بھی شامل ہے ۔پام جمیرا، کھجور کی شکل کا مصنوعی جزیرہ، مہنگے ہوٹل اور شاندار ولاز کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے ۔ اس میں شاہ رخ خان اور بیکہم خاندان جیسے مشہور رہائشی بھی رہ چکے ہیں۔دبئی کی سماجی زندگی کا لازمی حصہ سمجھے جانے والے طویل اور پرلطف برنچز بھی ہفتے کو ایک بڑے دھماکے اور فیئر مونٹ ہوٹل کے احاطے میں آگ لگنے کے بعد اچانک ختم ہو گئے ۔
دبئی کی شان و شوکت دھماکوں سے اڑ گئی



