بیجنگ،ماسکو (نیشنل ٹائمز) چین نے امریکی اور اسرائیلی کارروائی میں ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت کو خلافِ قانون قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے ۔ زارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ ایران کی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی اصولوں کی پامالی ہے ۔ روسی صدر پیوٹن نے خامنہ ای کی شہادت کو اخلاق اور قانون کی بے رحمانہ خلاف ورزی قرار دیا۔ اپنے خط میں انہوں نے ایرانی صدر کو تعزیت کا پیغام بھی بھیجا اور کہا کہ یہ قتل انسانیت کے بنیادی اصولوں اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ روس نے واقعے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری مذاکرات کے دوران امریکا اور اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنا ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک خود مختار رہنما کا قتل اور حکومت کی تبدیلی کے لیے عوام کو اکسانا ناقابلِ قبول ہے ۔ حماس نے خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور اسے ظالمانہ اقدام قرار دیا۔فلسطینی اسلامی جہاد نے بھی شہادت کو “جنگی جرم” قرار دیا اور اسے “دھوکہ اور شریرانہ حملہ کہا۔ برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے کہا کہ خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہادت پر دنیا میں کم ہی لوگ افسوس کریں گے ۔امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور سعودی عرب پر ایرانی میزائل حملوں کی مذمت کی۔وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی خلاف ورزیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔دوسری جانب سعودی ولی عہد نے شامی صدر احمد الشرع سے بھی ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ احمد الشرع نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شام سعودی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کو مسترد کرتا ہے۔ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں علم ہے کہ خامنہ ای کے بعد ایران میں کون احکامات جاری کر رہا ہے ۔امریکی صدر نے ایران کو سخت خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی جوابی کارروائی سے باز رہے ۔ٹرمپ نے کہا اگر انہوں نے ایسا کیا تو ہم ایسی طاقت سے جواب دیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک پر حملے مس کیلکولیشن ہیں، ایران کو تنہا کر دیں گے ۔ ایران اپنے حواسوں میں واپس آجائے ، آپ کی جنگ آپ کے پڑوسیوں سے نہیں ہے ۔امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے ایران پر بڑے پیمانے پر امریکی فوجی حملوں اور خامنہ ای کی شہادت پر صدرٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عزم کے لبادے میں لپٹی لاپروائی قرار دیا ہے ۔اپنے بیان میں کملا ہیرس نے کہا کہ ٹرمپ امریکا کو ایک ایسی جنگ میں گھسیٹ رہے ہیں جسے امریکی عوام نہیں چاہتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی خطرناک اور غیر ضروری جواہے ،جو امریکی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کو بڑھا سکتا ہے ۔
خامنہ ای کی شہادت ،چین اور روس کی شدید مذمت



