اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر دلی تعزیت پیش کرتے ہیں، پاکستان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پربھی تشویش کا اظہار کرتا ہے ، سربراہان مملکت کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے ۔ آیت اللہ خامنہ ای کی روح کے لیے دعا گو ہیں، اللہ ایرانی قوم کو صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’پر اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام دکھ کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ شریک ہیں۔ اللہ تعالٰی ایرانی عوام کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت اور استقامت عطا فرمائے ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین اور اردن کی قیادت سے ٹیلیفونک رابطے کیے اور علاقائی امن کیلئے تعاون کی پیشکش کی ، وزیراعظم نے بحرین کے فرمانرواا حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں اسرائیل اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور ایران کی جانب سے کئی خلیجی ممالک بشمول مملکت بحرین پر جوابی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جاری بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ بلا اشتعال جارحیت صورتحال کو مزید خراب کرتی ہے اور پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہے ۔انہوں نے بحرین کی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں بحرین اور دیگر برادر خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور تحمل سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا۔شہباز شریف نے بین الاقوامی قانون کی بالادستی قائم رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاکستان امن کی کوششوں کی حمایت کے لیے ہمیشہ پرعزم رہے گا، اور تمام فریقین پر زور دے گا کہ وہ سفارت کاری کے ذریعے بحران کا مذاکراتی حل تلاش کریں۔وزیراعظم شہباز شریف نے عبداللہ دوئم ابن الحسین فرمانروائے اردن سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر تفصیلی بات چیت کی جو ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد مزید شدت اختیار کر گئی اور جس کے نتیجے میں اردن اور دیگر علاقائی ممالک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ وزیرِاعظم نے موجودہ صورتحال پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے تحفظ کے لیے فوری طور پر تحمل، کشیدگی میں کمی اور بامقصد مکالمے کی ضرورت ہے ۔وزیراعظم نے اس مشکل گھڑی میں مملکتِ اردن سمیت خطے کے دیگر برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور خطے میں امن کی بحالی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی۔دونوں رہنماؤں نے علاقائی پیش رفت پر قریبی رابطہ اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں علاقائی و خطے کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سی ڈی ایف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ پاکستان کے خطے میں امن کے قیام کیلئے کردار اور مختلف اقدامات زیر غور آئے ۔اجلاس میں افغانستان کی صورتحال کا بھی بغور جائزہ لیا گیا، اجلاس کو ملک کی داخلی صورتحال اور سکیورٹی انتظامات پر بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم کی ہدایت پر پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلا کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دفتر خارجہ نے تفصیلی بریفنگ دی کہ آذربائیجان کے ذریعے پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلا کو ممکن بنایا جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں بدلتی عالمی سکیورٹی صورتحال اور ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے مغربی سرحد پر افغان طالبان رجیم کی جاری جارحیت کے خلاف جوابی کارروائی کا جائزہ لیا۔ شرکا نے پاک افواج کی جانب سے فتنہ الخوارج کی سرکوبی کیلئے مؤثر اور جامع کارروائیوں کی تعریف کی اور سالمیت، خود مختاری اور وقار کیلئے ہر قیمت پر حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا۔ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی اجلاس میں امریکا و اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک میں ہونے والے حملوں کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا۔وزیراعظم سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملاقات کی جس میں ملکی داخلی اور مجموعی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو روم اور اٹلی میں ہونے والے چار ملکی وزراء داخلہ اجلاس میں اپنی شرکت کے بارے میں بریفنگ دی جس میں پاکستان کے علاوہ اٹلی، سپین اور یونان کے وزراء داخلہ شریک ہوئے ۔ وزیر داخلہ نے بتایاکہ دونوں کانفرنسز میں شریک ممالک نے پاکستانیوں کے لئے قانونی ورک پرمٹ کے جلد از جلد اجراء پر اتفاق کیا، رکن ممالک نے یورپی ممالک کی جانب غیر قانونی طور پر سفر کرنے والوں کی تعداد میں صرف ایک سال میں 47 فیصد کمی لانے اور انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لئے اقدامات پر پاکستان کی کارکردگی کو سراہا۔ پولینڈ اور اٹلی پاکستانی سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے جلد ویزا کی شرط ختم کردیں گے ۔پاکستان کی امیگریشن اور بارڈر سکیورٹی کی صلاحیت اور استعداد کار میں بہتری کے لئے یورپی یونین میں جلد از جلد پلان پیش کیا جائے گا۔
سربراہان مملکت کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے،وزیراعظم کا خامنہ ای کی شہادت پر اظہار غم



