ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت، رہبرِ انقلاب کی جدوجہد کو سلام — نصف صدی پر محیط مزاحمت کی داستان

تحریر: منظر نقوی
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر نے نہ صرف ایران بلکہ پوری امتِ مسلمہ کو غم و اندوہ میں مبتلا کر دیا ہے۔ پانچ دہائیوں پر محیط جدوجہد، استقامت اور نظریاتی وابستگی کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا۔ وہ شخصیت جس نے 1979ء کے اسلامی انقلاب کی روح کو زندہ رکھا، بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا، اور ایران کی خودمختاری کو اپنا شعار بنایا، آج تاریخ کے اوراق میں امر ہو گئی۔

آیت اللہ خامنہ ای صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ اسلامی مزاحمت کی علامت تھے۔ انہوں نے شاہِ ایران کے خلاف تحریک میں حصہ لیا، جیلیں کاٹیں، پابندیاں برداشت کیں، اور انقلاب کی کامیابی کے بعد نظامِ ولایتِ فقیہ کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 1989ء میں امام خمینیؒ کے انتقال کے بعد جب انہوں نے قیادت سنبھالی تو ایران کو داخلی خلفشار، عراق جنگ کے اثرات اور عالمی تنہائی جیسے چیلنجز کا سامنا تھا۔ مگر انہوں نے ثابت قدمی سے ریاستی ڈھانچے کو مضبوط کیا اور ایران کو خطے میں ایک مؤثر قوت کے طور پر منوایا۔

ان کی قیادت میں ایران نے شدید ترین اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور عسکری خطرات کا سامنا کیا، مگر اپنے نظریاتی مؤقف سے پیچھے نہ ہٹا۔ ان کا پیغام واضح تھا: ایران اپنی آزادی، خودمختاری اور اسلامی شناخت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا بھر میں مزاحمتی بیانیے کے علمبردار کے طور پر جانے جاتے رہے۔

تاہم ان کی قیادت ہمیشہ عالمی طاقتوں کی آنکھ میں کھٹکتی رہی۔ خصوصاً امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیاں ایران کے خلاف انتہائی جارحانہ رہیں۔ اقتصادی پابندیوں کی سختی، سفارتی معاہدوں سے یکطرفہ علیحدگی اور مسلسل عسکری دھمکیاں خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلتی رہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ طاقت کے زور پر سیاسی مسائل حل کرنے کی یہ حکمت عملی نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی روح کے منافی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کو مستقل کشیدگی کی طرف لے جاتی ہے۔

ایران کی قیادت کا مؤقف ہے کہ رہبرِ انقلاب کی شہادت محض ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ قومی خودمختاری پر حملہ ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ اپنی سلامتی اور وقار کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس اعلان نے خطے کی فضا کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور دنیا کی نظریں اب ایران کے آئندہ لائحۂ عمل پر مرکوز ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی اختلافات سے خالی نہیں تھی۔ ان کے ناقدین داخلی سیاسی سختیوں اور بعض پالیسیوں پر سوال اٹھاتے رہے۔ مگر ان کے حامیوں کے نزدیک وہ ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے دباؤ کے ہر مرحلے پر مزاحمت کو ترجیح دی اور اسلامی انقلاب کی روح کو برقرار رکھا۔ ان کی شخصیت نے ایران کی خارجہ پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور نظریاتی سمت کا تعین کیا۔

آج جب ان کی جدوجہد کو یاد کیا جا رہا ہے تو یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا طاقت کے ذریعے قیادتوں کا خاتمہ خطے میں امن لا سکتا ہے؟ یا یہ مزید کشیدگی اور عدم اعتماد کو جنم دیتا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ نظریات کو بموں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی رہنما کی موت اگر سیاسی تنازع کے نتیجے میں ہو تو وہ اکثر ایک نئے باب کا آغاز بن جاتی ہے، جس کے اثرات طویل المدت ہوتے ہیں۔

رہبرِ انقلاب کی نصف صدی پر محیط جدوجہد کو ان کے چاہنے والے استقلال اور مزاحمت کی مثال کے طور پر یاد رکھیں گے۔ ان کی شہادت نے ایران کے سیاسی منظرنامے میں ایک خلا ضرور پیدا کیا ہے، مگر ان کے نظریات اور بیانیے کی بازگشت آنے والے وقت میں بھی سنائی دیتی رہے گی۔

خطے کے لیے یہ لمحہ نہایت حساس ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی طاقتیں تصادم کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کریں تاکہ مزید خونریزی اور تباہی سے بچا جا سکے۔ کیونکہ بالآخر امن ہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو پائیدار استحکام فراہم کرتا ہے



  تازہ ترین   
کویت میں متعدد امریکی فوجی طیارے تباہ، ایران کا ایک جنگی جہاز ایف 15 گرانے کا دعویٰ
لائیو: اسرائیل کے لبنان پر حملے میں 31 شہید، ایران کا امریکا سے مذاکرات سے انکار
بھارتی قبضے سے کشمیر کی آزادی تک جنوبی ایشیا محفوظ نہیں ہو سکتا: صدر زرداری
ایران پر حملہ: پاکستان سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی، 16000 سے زائد پوائنٹس کی کمی
ایران پر حملے کے لیے امریکا پر دباؤ نہیں ڈالا: سعودی ترجمان
کویتی فضائی دفاعی نظام نے غلطی سے امریکی لڑاکا طیارے مار گرائے: امریکی سینٹ کام
خلیجی ملکوں پر ایرانی حملے افسوسناک، پاکستان مذاکرات کا حامی ہے: اسحاق ڈار
لبنان میں 31 شہید، امریکی طیارہ تباہ، ٹرمپ کی مذاکرات کی پیشکش، ایران کا صاف انکار





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر