واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت کا دعویٰ کر دیا۔
امریکی صدر نے ایران پر حملوں کے بعد اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ جو ایران میں بیشتر فیصلے کرتے تھے اب مارے جاچکے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا خامنہ ای ہمارے انٹیلیجنس اور ٹریکنگ سسٹم کو مات نہیں دے سکتے تھے، ہمارے اور اسرائیل کے مشترکہ کھوج کے سامنے وہ اور ساتھی کچھ نہیں کرسکتے تھے۔
امریکی صدر نے کہا خامنہ ای کی موت نہ صرف ایرانی عوام بلکہ دنیا کے لیے انصاف ہے ، ایران کے عوام کے لیےبڑا موقع ہے کہ وہ ملک کو واپس حاصل کریں۔
امریکی صدر نے اہداف کے حصول تک ایران پر شدید بمباری جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔
دوسری جانب اپنے ویڈیو بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایرانی سپریم لیڈرخامنہ اب نہیں رہے لیکن خامنہ ای کی موت کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھاکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈربھی مارے گئے ہیں، خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ اورسینئرجوہری حکام بھی مارے گئے اور آنے والے دنوں میں دہشت گرد حکومت کے مزید ہزاروں اہداف کو نشانہ بنائیں گے۔
نیتن یاہو کا کہنا تھاکہ ایران کے خلاف کارروائی جب تک ضروری ہوگا جاری رہے گی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کےکمپاؤنڈپر30 بم گرائےگئے، ایران میں 500 اہدف کو 200اسرائیلی طیاروں نےنشانہ بنایا۔ دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای ٹھیک اورمحفوظ مقام پرہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بحری اور فضائی حملے کیے جن میں 201 ایرانی شہری شہید اور 747 زخمی ہو گئے۔
خبر ایجنسی کے مطابق حملوں میں ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد پاکپور شہید ہوگئے ہیں۔
ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب سات میزائل گرے تاہم ایران نے صدر مسعود پزشکیان اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے محفوظ رہنے کا اعلان کیا۔
امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم نے آیت اللہ خامنہ ای کی موت کا دعویٰ کر دیا



