لاہور، اسلام آباد، پشاور(نیشنل ٹائمز) افغانستان کی جارحیت کے بعد شروع ہونے والا آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے، سیف اللہ اللہ سیکٹر میں دراندازی ناکام بنا دی گئی۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت سے دہشتگردوں کی تشکیل کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، متعدد دہشت گرد ہلاک ہو گئے، پاک افغان سرحد پر دہشتگردوں کی نقل وحرکت پرکڑی نگرانی جاری ہے۔ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ نے افغانستان کے صوبے ننگرہار کی مہمند دھارا بیس میں 2اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا، آپریشن غضب للحق میں افغان طالبان رجیم کو پاکستان کے ہاتھوں بھاری جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔پاک فضائیہ نے قندھار میں فضائی حملے کے دوران افغان فوج کے ہیڈ کوارٹرز کو مؤثر انداز میں نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، پاک فوج کامیابی سے افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کو تباہ کر رہی ہیں۔سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ افغان طالبان رجیم کو بلا اشتعال جارحیت کے خلاف بھرپور اور موثر جواب دیا جارہا ہے، پاک فوج نے میرانشاہ کے قریب افغان طالبان کے پوسٹ ٹاور کو انتہائی مہارت سے تباہ کر دیا ہے۔ادھر اعظم وارسک سیکٹرمیں افغان طالبان کی شاگاپوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیاگیا، ضلع خیبر میں وادی تیراہ سے پاک فوج نے افغانستان کے علاقہ دوربابا میں افغان پوسٹ پر گولہ باری کی جس کے نتیجے میں 2 اہم طالبان کمانڈرز سمیت 4 افراد مارے گئے۔
افغانستان کے حملے پر آپریشن غضب للحق: متعدد طالبان ہلاک، اسلحہ، توپ خانے، چوکیاں تباہ
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع خیبر کی وادی تیراہ سے سرحد پار افغانستان کے علاقے دوربابا میں افغان طالبان کے ایک مرکز (دوربابا ) کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چار افراد مارے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گولہ باری میں مارے جانے والوں میں دو اہم طالبان کمانڈرز بسم اللہ اور رستم شامل ہیں، جبکہ دو دیگر افراد افغان طالبان کے رضاکار تھے۔سکیورٹی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران دوربابا میں قائم افغان پوسٹ( دوربابا مرکز) بھی تباہ ہوگئی، کارروائی مخصوص اہداف کے خلاف کی گئی، واقعہ کے بعد سرحدی علاقوں میں کشیدگی بڑھ گئی اور سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف حاصل ہونے تک جاری رہے گا۔
قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں دراندازی ناکام، قندھار میں فوجی ہیڈکوارٹرز پر بمباری



