راولپنڈی (نیشنل ٹائمز) وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا جہاں عسکری قیادت نے انہیں پاکستان اور افغانستان کی حالیہ سرحدی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
دورے کے دوران وزیرِ اعظم نے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کے درمیان گٹھ جوڑ اور پاکستان کے خلاف شرپسند کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت اس معاملے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائے گی۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی پاکستان کے خلاف کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں۔
وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنا مؤثر دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے اور ملک کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفینس فورسز کی قیادت میں افواجِ پاکستان ملک کی سلامتی اور سرحدوں کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
وزیرِ اعظم نے سرحدی علاقوں میں حملوں کو پسپا کرنے اور بھرپور جوابی کارروائی پر افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور اعلیٰ مورال کو سراہا۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پوری قوم ارضِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کسی بھی خطرے کا متحد ہو کر مقابلہ کرے گی۔
وزیرِ اعظم کا جی ایچ کیو دورہ، افغان سرحدی صورتحال پر بریفنگ



