اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد ملک خالق اعوان نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے اپیل کی ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں نے ماضی میں پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر، بالخصوص ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے مختلف پراجیکٹس میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی، جس میں ڈی ایچ اے کوئٹہ نمایاں ہے، جہاں ہزاروں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی اور محنت مزدوری کی کمائی سے مہنگے داموں پلاٹس خریدے؛ تاہم موجودہ معاشی صورتِ حال، حکومتی پالیسیوں اور ہاؤسنگ سیکٹر پر عائد ٹیکسوں کے باعث پراپرٹی مارکیٹ میں شدید مندی آ چکی ہے اور خصوصاً ڈی ایچ اے کوئٹہ کی مارکیٹ میں نمایاں گراوٹ نے اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد متزلزل کر دیا ہے، لہٰذا ان کی گزارش ہے کہ ایسی مؤثر اور سرمایہ کار دوست پالیسیاں نافذ کی جائیں جن سے ملک بھر کے ڈی ایچ ایز کی پراپرٹی ویلیو میں استحکام اور بہتری آئے، اربوں روپے کے نقصانات کا کسی حد تک ازالہ ہو سکے اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کا اعتماد بحال ہو، کیونکہ اگر یہ اعتماد دوبارہ قائم ہو گیا تو اوورسیز پاکستانی مستقبل میں بھی پاکستان میں بھرپور سرمایہ کاری جاری رکھیں گے۔ خالق اعوان نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی پاک فوج سے گہری محبت اور وابستگی رکھتے ہیں اور اسی جذبے کے تحت انہوں نے ملک بھر کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے منصوبوں، خصوصاً ڈی ایچ اے کوئٹہ کی لانچنگ کے وقت اپنی عمر بھر کی جمع پونجی سرمایہ کاری کی نیت سے لگائی، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہ منصوبہ محفوظ اور مستحکم ہوگا؛ تاہم حکومتوں کی تبدیلی اور بعد ازاں متعارف کرائی گئی پالیسیوں اور ٹیکس اقدامات کے باعث ہاؤسنگ سیکٹر شدید متاثر ہوا اور سب سے زیادہ گراوٹ ڈی ایچ اے کوئٹہ میں دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں اوورسیز پاکستانیوں کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا، لہٰذا ان کا مطالبہ ہے کہ ایسے مؤثر اور سرمایہ کار دوست اقدامات کیے جائیں جن سے ڈی ایچ اے کوئٹہ کی پراپرٹی ویلیو مستحکم ہو، متاثرہ سرمایہ کاروں کے نقصانات کا ازالہ ہو اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔
ڈی ایچ اے کوئٹہ میں پراپرٹی بحران: اوورسیز پاکستانیوں کا اربوں روپے داؤ پر، پالیسی اصلاحات کا مطالبہ



