مرکزی جامع مسجد راولپنڈی

تحقیق و تحریر: محمد عثمان صدیقی

فضائی منظر سے آپ کو راولپنڈی کے اندرون علاقے میں جو تین گنبد والی وسیع صحن پر مشتمل مسجد نظر آرہی ہے یہ بنی چوک سے زرا آگے جامع مسجد روڈ پر قدیمی مرکزی جامع مسجد ہے۔

1800 کے آخری عشرے میں راولپنڈی میں مسجد کی کمی محسوس کی گئی تو زعما شہر نے فیصلہ کیا کہ ایک عظیم الشان مسجد تعمیر کی جائے

ایک پلاٹ خریدلیا گیاجامع مسجد کی بنیادیادگار اسلاف سرخیل مجاہدین ختم نبوت فاتح قادیانیت جناب سید پیر مہر علی شاہ نور اللہ مرقدہ اور پیر میرا شریف نے 1896ء میں رکھی جو1902ء میں مکمل ہوئی

جس وقت اس مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا اس وقت پنجاب میں سکھوں کی حکومت تھی اور مسجد کے بالکل ساتھ باغ سرداراں موجود ہے جو کہ دراصل اس وقت سکھوں کا دارالحکومت تھا۔

راولپنڈی کے ہندوؤں نے مسجد کی تعمیر کےخلاف تحریک چلادی ساتھ ہی اس جگہ کے قریب ایک لکشمی سینما ہوا کرتا تھا اس کے مالکان بھی مسجد کہ تعمیر کے خلاف ہوگئے چونکہ علاقے میں سکھوں کی ایک کثیر تعداد مقیم تھی وہ بھی یندوؤں کے ساتھ اس تحریک میں شامل ہوگئے۔

مسجد کی تعمیر کےلیے راولپنڈی شہر کی عظیم شخصیت میاں قطب الدین صاحب میاں نبی بخش بیرسٹرسراج الدین اورگوجر خان کے قاضی گوہر دین کی قیادت میں مسلمانوں نے دن رات ہندوؤں سکھوں کی تحریک کا ڈٹ کرمقابلہ کیا پیر مہر علی شاہ صاحب نے جس روز اس کا سنگ بنیاد رکھا اس دن اس مسجد کی تعمیر کے لیے مدد فرماتے ہوئے عام مسلمان مردوں و خواتین سے درخواست کی کہ جو شخص مستری مزدور ہے تو اپنا وقت اس مسجد کے لیے وقف کرے اور عورتوں سے درخواست کی صبح و شام ایک مٹھی آٹے کی جمع کرتی رہیں اور جمعہ کے روز مسجد میں جمع کروائیں مسلمان عورتیں ایسا ہی کرتیں اور اسی آٹے کو فروخت کر کے اس مسجد کا تعمیراتی سامان اکٹھا کیا جاتا۔ بقیہ جید عمائدین شہرراولپنڈی نے باقاعدہ چندہ مہم شروع کی

پیر سید مہر علی شاہ علیہ الرحمہ مسجد کی تعمیر کےکام کا معائنہ فرمانے گولڑہ شریف سےاپنے گھوڑے پر مرکزی جامع مسجد بنفس نفیس تشریف لاتے تھے

سکھوں ہندوؤں کی مخالفت کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی ہوگئی مسلمان مستریوں نے دن رات مسجد کی تعمیر میں ایک کردیا

چھ سال کے عرصے میں مسجد کی تعمیر ہوئی

یہ علاقہ مسلمانوں کامرکز بننے لگا چناچہ اس وقت کے تمام مسلمانوں نے مرکزی جامع مسجد سےعید میلاد النبی ﷺ کے موقع بارہ ربیع الاول کو جلوس محمدی کا آغاز کیا پہلی بار اس مسجد سے جلوس محمدی اس شان و شوکت سے برآمد ہواکہ سکھوں ہندوؤں پر ہیبت طاری ہوگئی

خاکساروں کے بہت بڑے جیش نےمسجد کو سلامی دی

ہر طرف درودوسلام کی آوازیں مسلمانوں کے دلوں کو مسحور کررہی تھیں مسلمان مرد اپنے سروں پرتھال سجائے نیاز کی مٹھائی حلوہ ودیگر سوغات تقسیم کررہے تھے جگہ جگہ نعرہ تکبیر و رسالت سے عجیب سماں بنا ہواتھا مسجد کے افتتاح کے بعد سے اب تک عید میلاد النبی کا جلوس اسی جامع مسجد سے برآمد کیا جاتاہے۔

مسجد کی پرشکوہ عمارت بادشاہوں کے دور کی یاد تازہ کراتی ہے مسجد میں نقش ونگار انتہائی دیدہ زیب ہیں مسجد میں 10 ہزار نمازی نماز پڑھ سکتے ہیں وسیع صحن میں وضو کےلیے ایک تالاب بنایا گیا اس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس مسجد کا گنبد، مینار سب فلسطین کی مساجد کی طرز پر بنائے گئے ہیں۔

مسجد کے دائیں طرف ایک مدرسہ بھی ہے۔ 1992ء کے سیلاب کے دوران یہاں پانی پہنچا لیکن اس کی موٹی دیواروں کے باعث اس کو نقصان نہیں ہوا۔ یہ دیوار بھٹے کی کیری، خاص مٹی، سیمنٹ اور مسور کی دال وغیرہ کو مصالحہ کے طور پر استعمال کر کے بنائی گئی ہے، ان دیواروں کی چوڑائی چار فٹ تک ہے۔

مسجد میں 1960ء تک لاؤڈ اسپیکر کا انتظام نہیں تھا۔ اس مسجد کے ایک کونے کی تعمیر اس طرح کی گئی تھی کہ مؤذن اذان دیتا تو آواز پوری راولپنڈی میں گونج اٹھتی۔ راولپندی کی مرکزی جامع مسجد نہ صرف راولپنڈی، اسلام آباد بلکہ پورے پاکستان کے لیے خاصی اہمیت کی حامل مسجد ہے۔



  تازہ ترین   
بنوں: فتنہ الخوارج کا فورسز کے قافلے پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور سپاہی شہید، 5 دہشتگرد جہنم واصل
شناختی کارڈ زندگی کی بنیادی ضرورت، کوئی عدالت بلاک نہیں کر سکتی: سپریم کورٹ
مادری زبان کی حفاظت اور فروغ کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے: مریم نواز
کراچی میں ٹینکر سسٹم بند کرو، لوگوں کو لائنوں سے پانی دو: سندھ ہائیکورٹ
صدرِ مملکت کا قومی یکجہتی کے لیے مادری زبانوں کو فروغ دینے پر زور
نواز شریف کی طرح عمران خان کی سزاؤں کا فیصلہ بھی عدالتوں میں ہوگا: رانا ثنا
گیس چوری اور لیکج سے سالانہ 60 ارب روپے کے نقصان کا انکشاف
کراچی: سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کیلئے 300 دکانوں کا انتظام کر دیا گیا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر