تاثرات — مظہر طفیل
پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی کیفیت ایک تلخ حقیقت کی عکاس ہے جہاں نفرت کی سیاست نے اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدل دیا اور سوشل میڈیا مکالمے کے بجائے کردار کشی اور تضحیک کا میدان بن گیا۔ سیاسی کشمکش ہماری تاریخ کا حصہ رہی ہے، مگر ایک ایسا دور بھی آیا جب اختلاف کو غداری سے تعبیر کیا گیا، صحافیوں، سیاست دانوں، بیوروکریٹس حتیٰ کہ عدلیہ کو منظم ڈیجیٹل مہمات کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوششیں ہوئیں اور گالم گلوچ کو وفاداری کا پیمانہ بنا دیا گیا۔ معاشروں میں نفرت کا کلچر ازخود جنم نہیں لیتا؛ اس کے پیچھے وسائل، سرپرستی اور منظم حکمت عملی کارفرما ہوتی ہے۔ متعدد مبصرین نے اس پورے عمل میں جنرل فیض حمید کے کردار پر سوال اٹھائے اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ اسی عرصے میں ایک منظم ڈیجیٹل برگیڈ نے جنم لیا جس نے سیاسی بیانیے کو اخلاقی حدود سے نکال کر دشنام طرازی میں بدل دیا—اگرچہ ان الزامات کا حتمی فیصلہ عدالتوں ہی نے کرنا ہے۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اسی دور میں معاشرہ شدید تقسیم اور پولرائزیشن کا شکار ہوا۔
2014 کے دھرنوں سے لے کر بعد کی تحریکوں تک ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے مناظر نے یہ سوال ضرور اٹھایا کہ آیا سیاسی عمل میں بعض ریاستی عناصر فریق بن گئے تھے، کیونکہ جب ادارے تاثر کی جنگ میں الجھ جائیں تو ان کی غیرجانبداری مشکوک ہو جاتی ہے اور ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ اگر کسی افسر کے خلاف قانونی کارروائی ہوئی بھی ہے تو یہ بحث باقی ہے کہ آیا یہ مکمل احتساب ہے یا محض ایک محدود پیش رفت۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ کیا سیاسی انجینئرنگ ہوئی، کیا میڈیا میں منظم فنڈنگ یا ڈیجیٹل نیٹ ورکس کی سرپرستی کی گئی، اور اگر یہ سب بے بنیاد ہے تو اسے واضح طور پر رد کیا جائے؛ اور اگر اس میں صداقت ہے تو سچ پوری شفافیت کے ساتھ سامنے لایا جائے، کیونکہ احتساب صرف سزا نہیں بلکہ سچائی کی بازیافت کا نام بھی ہے۔
آج عسکری قیادت کے سامنے سرحدی دفاع کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی غیرجانبداری کی بحالی کا چیلنج بھی موجود ہے۔ بالخصوص عاصم منیر پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام پہلوؤں کا غیرجانبدار جائزہ لیں اور یہ واضح پیغام دیں کہ ادارے کسی فردِ واحد کی حکمتِ عملی یا ذاتی مفادات کے تابع نہیں ہو سکتے۔ سیاسی معاملات میں مداخلت کے تمام راستے بند کرنا، متنازع ادوار کا غیرجانبدار احتساب کرنا اور سوشل میڈیا کے لیے واضح ضابطۂ اخلاق مرتب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ریاستی ادارے سیاسی تنازعات سے بالاتر رہ سکیں۔
گالم گلوچ برگیڈ کا کلچر نوجوان نسل کو دلیل کے بجائے ٹرولنگ کا عادی بنا رہا ہے۔ اگر اس ناسور کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں نفرت کی یہی وراثت اٹھائیں گی۔ آزادیٔ اظہار اور نفرت انگیزی کے درمیان واضح لکیر کھینچنا ریاست کی ذمہ داری ہے، کیونکہ تنقید جمہوریت کا حسن ہے مگر کردار کشی جرم ہے۔ یہ معاملہ کسی ایک جنرل یا کسی ایک جماعت تک محدود نہیں بلکہ ریاستی وقار اور قومی مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔
جنرل فیض حمید کو ٹاپ سٹی کیس میں سزا سنانا یقیناً ایک قانونی پیش رفت ہے، مگر سوال بدستور قائم ہے کہ کیا یہ اُن کے مبینہ کردار اور وسیع الزامات کے تناظر میں کافی ہے؟ اگر اُن کے دور کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ بعض فیصلوں نے سیاسی انتشار، ادارہ جاتی بداعتمادی اور سماجی تقسیم کو گہرا کیا۔ ناقدین کے مطابق اگر واقعی ایسے اقدامات ہوئے جن سے ریاستی اداروں کی ساکھ متاثر ہوئی یا بیرونی مفادات کو تقویت ملی، تو قوم کو مکمل آگاہی دینا ضروری ہے تاکہ احتساب جامع اور منصفانہ ہو، نہ کہ محض علامتی۔
تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جب پالیسیوں کے اثرات کا بروقت اور دیانت دارانہ محاسبہ نہیں کیا جاتا تو ان کے مضمرات دہائیوں تک قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں، جیسا کہ ضیاء الحق کے دور کی افغان پالیسی کے اثرات آج بھی مختلف شکلوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ادھورا باب مکمل کیا جائے، اصلاح کو جڑ سے شروع کیا جائے اور ریاست کو سیاسی کھیل سے ہمیشہ کے لیے الگ رکھا جائے۔ بصورتِ دیگر شکوک و شبہات کا بوجھ اداروں کو اندر سے کمزور کرتا رہے گا جبکہ قوم ایک واضح، شفاف اور آئینی راستے کی منتظر رہے گی۔



