تحریر: عزیزاُللہ خان ایڈووکیٹ
دل مضبوط کر لیجیے، کیونکہ پاکستان اس وقت جس بحران سے گزر رہا ہے وہ شور نہیں مچاتا، سڑکوں پر احتجاج کی صورت نظر نہیں آتا، مگر اس کے اثرات آنے والی نسلوں کی صحت، معیشت اور ریاستی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔ یہ بحران ہے ملک سے ڈاکٹروں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ہجرت کا۔ایک خبر کے مطابق صرف 2025 کے دوران تقریباً چار ہزار پاکستانی ڈاکٹر بیرونِ ملک چلے گئے، جو ملکی تاریخ میں ایک سال کے اندر ہونے والا سب سے بڑا “ڈاکٹرز ایکسوڈس” قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی ناکامی کا اعلان ہے جو اپنے ہی تربیت یافتہ دماغوں کو سنبھالنے میں ناکام ہو چکا ہے۔
پاکستان ہر سال ہزاروں طلبہ کو میڈیکل کالجز میں داخل کرتا ہے۔ ایک ڈاکٹر تیار کرنے پر ریاست براہِ راست اور بالواسطہ لاکھوں روپے خرچ کرتی ہے۔ سبسڈی، سرکاری اسپتالوں میں تربیت، ہاؤس جاب اور پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ—یہ سب عوامی وسائل سے ممکن ہوتا ہے۔ مگر جب یہی ڈاکٹر تجربہ حاصل کرتے ہیں تو ان کے سامنے ایک تلخ حقیقت کھڑی ہوتی ہے: کم تنخواہیں، طویل اوقاتِ کار، غیر محفوظ ماحول، سیاسی دباؤ اور پیشہ ورانہ ترقی کے محدود مواقع۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں برطانیہ، آسٹریلیا، خلیجی ممالک اور یورپ کا رخ کر لیتے ہیں۔
سرکاری اسپتالوں کی صورتحال اس مسئلے کی بنیادی جڑ ہے۔ ایک ڈاکٹر کو روزانہ سینکڑوں مریض دیکھنے پڑتے ہیں جہاں فی مریض اوسطاً دو منٹ سے بھی کم وقت ملتا ہے۔ ایسے ماحول میں نہ معیاری علاج ممکن ہے اور نہ ڈاکٹر کی ذہنی صحت برقرار رہ سکتی ہے۔ مسلسل دباؤ، طبی سہولیات کی کمی اور مریضوں کے لواحقین کی جانب سے بڑھتا ہوا تشدد نوجوان ڈاکٹروں کو شدید مایوسی میں مبتلا کر رہا ہے۔ جب ایک ڈاکٹر اپنی جان کے خطرے، پیشہ ورانہ بے عزتی اور معاشی عدم استحکام کے درمیان کام کرے گا تو ہجرت اس کے لیے ایک منطقی فیصلہ بن جاتی ہے۔
معاشی عوامل بھی اس بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ایک نوجوان ڈاکٹر کی ابتدائی تنخواہ مہنگائی کے تناسب سے انتہائی کم ہے، جبکہ بیرونِ ملک وہی ڈاکٹر چند گنا زیادہ آمدنی کے ساتھ بہتر ورک لائف بیلنس حاصل کر سکتا ہے۔ عالمی سطح پر صحت کے شعبے میں ڈاکٹروں کی کمی نے پاکستانی ڈاکٹروں کیلئے دروازے مزید کھول دیے ہیں، کیونکہ پاکستانی ڈاکٹر اپنی تربیت، محنت اور انگریزی زبان پر عبور کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں آسانی سے جگہ بنا لیتے ہیں۔
یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے: کیا پاکستان اپنے شہریوں کے علاج کیلئے ڈاکٹر تیار کر رہا ہے یا غیر ارادی طور پر ایک “میڈیکل ایکسپورٹ انڈسٹری” بن چکا ہے؟ اگر ریاست سرمایہ لگائے اور فائدہ دوسرے ممالک اٹھائیں تو یہ قومی پالیسی کی ناکامی تصور ہوگی۔ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں پہلے ہی ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے، اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل میں بنیادی صحت کی سہولیات بھی ناپید ہو سکتی ہیں۔
ماہرینِ صحت، جن میں سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر سعد نیاز جیسے افراد بھی شامل ہیں، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسئلہ صرف تنخواہوں کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ساخت کا ہے۔ صحت کے بجٹ کی کمی، انتظامی بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور میرٹ پر مبنی ترقی کے فقدان نے ڈاکٹر کے پیشے کو غیر پرکشش بنا دیا ہے۔ نوجوان ڈاکٹر خود کو غیر محفوظ اور غیر یقینی مستقبل کا شکار محسوس کرتے ہیں۔
اس بحران کا حل وقتی اقدامات میں نہیں بلکہ جامع اصلاحات میں پوشیدہ ہے۔ سب سے پہلے ڈاکٹرز کے لیے محفوظ اور باوقار ورکنگ ماحول یقینی بنانا ہوگا۔ اسپتالوں میں سیکیورٹی، مناسب اسٹاف کی فراہمی اور مریضوں کے بوجھ کو متوازن کرنا ضروری ہے۔ تنخواہوں اور مراعات کو مہنگائی کے مطابق بہتر بنانا ہوگا، جبکہ پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ اور تحقیق کے مواقع ملک کے اندر بڑھانے ہوں گے تاکہ ڈاکٹر کو ترقی کے لیے بیرونِ ملک جانے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرنا بھی ناگزیر ہے۔
اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پاکستان کو ایک ایسے صحتی بحران کا سامنا ہوگا جہاں اسپتال عمارتوں کی شکل میں تو موجود ہوں گے مگر ان میں علاج کرنے والے ماہر ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوں گے۔ یہ صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور انسانی ترقی کا مسئلہ ہے۔
ڈاکٹروں کی ہجرت دراصل ایک پیغام ہے — ملک کے ذہین ترین نوجوان خاموشی سے ووٹ دے رہے ہیں، اور ان کا ووٹ ہجرت کے حق میں جا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ چار ہزار ڈاکٹر کیوں چلے گئے، اصل سوال یہ ہے کہ اگر حالات نہ بدلے تو اگلے سال کتنے مزید جائیں گے — اور تب پاکستان کے مریضوں کا علاج کون کرے گا؟



