تاریخ کبھی خاموش نہیں رہتی۔ وہ بولتی ہے، لیکن اکثر ہم سننا نہیں چاہتے۔ افغانستان کی جنگ، جسے کبھی جہاد کہا گیا، کبھی آزادی کی تحریک اور کبھی دہشت گردی کے خلاف عالمی معرکہ — دراصل طاقت کی سیاست کا وہ باب ہے جس کی قیمت آج بھی پاکستان ادا کر رہا ہے۔
انیس سو اناسی میں جب امریکی صدر Jimmy Carter نے افغانستان میں خفیہ مداخلت کی منظوری دی تو شاید واشنگٹن کے پالیسی سازوں کے ذہن میں صرف ایک ہدف تھا: سوویت یونین کو کمزور کرنا۔ بعد میں Ronald Reagan کے دور میں اس مہم کو کھل کر آگے بڑھایا گیا۔ اسلحہ آیا، پیسہ آیا، اور نظریاتی جنگ کا بیانیہ تیار ہوا۔ پاکستان اس پوری بساط کا مرکزی مہرہ بن گیا۔
دسمبر 1979 میں سوویت افواج افغانستان میں داخل ہوئیں۔ پاکستان میں اس وقت Muhammad Zia-ul-Haq کی حکومت تھی۔ ریاستی سطح پر اس جنگ کو “جہاد” کا نام دیا گیا۔ مدارس، مذہبی جماعتیں اور خطباء ایک نئی حرارت کے ساتھ میدان میں اترے۔ سرحدی علاقوں میں تربیتی مراکز قائم ہوئے، نوجوانوں کو نظریاتی جوش کے ساتھ جنگ کی طرف بھیجا گیا۔ اُس وقت یہ سب ایک مقدس فریضہ محسوس ہوتا تھا۔ لیکن کیا کسی نے سوچا کہ یہ بندوقیں ایک دن رخ بھی بدل سکتی ہیں؟
سوویت انخلا کے بعد افغانستان میں امن نہیں آیا۔ مجاہدین آپس میں لڑ پڑے۔ کابل کھنڈر بنتا گیا۔ اسی ملبے سے 1994 میں طالبان ابھرے اور 1996 میں کابل پر قابض ہوگئے۔ ان کے سربراہ Mullah Omar تھے۔ ابتدا میں کئی حلقوں نے انہیں امن لانے والی قوت سمجھا۔ لیکن جلد ہی سخت گیر پالیسیاں، عالمی تنہائی اور القاعدہ کی موجودگی نے افغانستان کو ایک اور بحران کی طرف دھکیل دیا۔
القائدہ کے سربراہ Osama bin Laden کو افغانستان میں پناہ ملی۔ پھر 11 ستمبر 2001 آیا۔ دنیا بدل گئی۔ امریکی صدر George W. Bush نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ پاکستان نے بھی اپنی سمت بدلی۔ اُس وقت کے صدر Pervez Musharraf نے عالمی اتحاد کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔
یہ فیصلہ وقتی طور پر سفارتی مجبوری ہو سکتا تھا، لیکن اس کے نتائج پاکستان کے لیے خوفناک ثابت ہوئے۔ خودکش حملوں کی لہر اٹھی۔ بازار، مساجد، اسکول، حتیٰ کہ فوجی تنصیبات بھی محفوظ نہ رہیں۔ ہزاروں جانیں گئیں۔ وہ نیٹ ورک جو کبھی بیرونی مقصد کے لیے پروان چڑھائے گئے تھے، ان میں سے کچھ عناصر ریاست ہی کے خلاف کھڑے ہوگئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب “پراکسی جنگ” نے اپنا رخ موڑ لیا۔
آج 2021 کے بعد طالبان دوبارہ کابل میں ہیں۔ تاریخ گویا ایک دائرہ مکمل کر چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس پورے سفر سے کچھ سیکھا؟ یا ہم اب بھی وہی پرانی غلطیاں دہرانے کی تیاری میں ہیں؟
یہ کہنا آسان ہے کہ سب کچھ بیرونی طاقتوں کی سازش تھی۔ یہ بھی آسان ہے کہ تمام ذمہ داری مذہبی قیادت پر ڈال دی جائے۔ مگر حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ عالمی طاقتوں نے اپنے مفادات کے لیے اس خطے کو استعمال کیا، مگر ہم بھی اس کھیل کا حصہ بنے۔ ہم نے نظریاتی جوش کو جغرافیائی سیاست کے ساتھ جوڑا۔ ہم نے قلیل مدتی فائدے کو طویل مدتی استحکام پر ترجیح دی۔
اتوار کے سکون میں بیٹھ کر جب ہم پچھلے چالیس برسوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک تلخ سچ سامنے آتا ہے: آگ باہر سے آئی ضرور، مگر اسے بھڑکانے کے لیے ایندھن ہم نے فراہم کیا۔
آج بھی اگر ہم تعلیمی اور مذہبی اداروں کو سیاست اور عسکری حکمت عملی سے الگ نہ کر سکے، اگر ہم نے خارجہ پالیسی کو داخلی استحکام کے تابع نہ کیا، تو تاریخ پھر وہی سوال دہرائے گی۔
یہ محض افغانستان کی کہانی نہیں، یہ پاکستان کی اپنی کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس میں نظریہ، طاقت، مذہب اور سیاست اس طرح گڈمڈ ہو گئے کہ حقیقت دھندلا گئی۔
اور شاید سب سے اہم سوال یہی ہے:
کیا ہم آئندہ نسل کو وہی آگ ورثے میں دینا چاہتے ہیں، یا اب وقت آ گیا ہے کہ اس کے شعلوں کو واقعی بجھا دیا جائے؟
آگ، جو ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے سلگائی



