جنرل فیض حمید کا نام پاکستان کی تاریخ کے ان متنازع ترین کرداروں میں شمار ہوگا جن پر یہ الزام لگتا ہے کہ انہوں نے ریاستی طاقت کو قومی سلامتی کے بجائے ذاتی اقتدار، سیاسی انجینئرنگ اور مالی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ یہ الزام محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آج پوری قوم مانگ رہی ہے۔
اس وقت تمام تر نظریں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر پر مرکوز ہیں۔ وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ فوج کے اندر احتسابی نظام مضبوط ہے، اور عملی طور پر کئی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت بھی کیا جا چکا ہے۔ مگر جنرل فیض حمید کا کیس ایک ایسا امتحان ہے جو نہ صرف فوج بلکہ خصوصاً آئی ایس آئی کی ساخت کو بہتر بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا تو یہ ادارے کے اندر صفائی (cleansing) کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگا۔
اصل مسئلہ صرف جنرل فیض حمید نہیں۔ اصل مسئلہ وہ پورا نیٹ ورک ہے جسے انہوں نے اپنے دور میں مالیاتی طور پر نوازا، استعمال کیا اور ریاستی طاقت کا کندھا فراہم کیا۔ آج انہی میں سے اکثریت پاکستان سے باہر بیٹھ کر پاکستانی اداروں کے خلاف زہر اگل رہی ہے، عوام کو ریاست سے بدظن کر رہی ہے اور اندرونی انتشار کو ہوا دے رہی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کے اندر کاروبار کو منظم طریقے سے تباہ کرنے میں نام نہاد یوٹیوبرز اور مخصوص میڈیا نیٹ ورکس کا بڑا کردار ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کل تک ریاستی فنڈنگ سے فیضیاب ہوتے رہے اور آج ریاست ہی کو گالیاں دے رہے ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت اس وقت ایک کمپرومائز پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے، حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ ریاست کمزوری دکھائے گی تو مافیا مضبوط ہوگا۔
واحد حل یہ ہے کہ جنرل فیض حمید کے دور کے تمام کیسز، خصوصی طور پر ٹاپ سٹی کیس کو بطور ٹیسٹ کیس لیا جائے۔ اس میں شامل ہر شخص کو بے نقاب کیا جائے۔ اگر جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل ہوا ہے تو ان تمام افراد کا بھی احتساب ہونا چاہیے جنہوں نے:
سرکاری فنڈز لیے
مالیاتی مراعات حاصل کیں
کردار کشی کی مہمات چلائیں
ریاستی طاقت کا غلط استعمال کیا
اور ان سے وہ تمام مراعات واپس لی جائیں جو انہوں نے قومی خزانے سے حاصل کیں۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو مثال بن سکتا ہے۔
ریاستی ادارے کسی فرد کی جاگیر نہیں ہوتے۔ مگر ماضی قریب میں طاقت کا ایسا ارتکاز ہوا جس نے جمہوری نظام کو یرغمال بنا لیا۔ سیاسی جماعتیں توڑی گئیں، وفاداریاں خریدی گئیں، اور عوام کے ووٹ کی وقعت ختم کر دی گئی۔
اس سیاسی انجینئرنگ کا سب سے بڑا شکار معیشت بنی۔ سرمایہ کاری رکی، صنعتیں بند ہوئیں، مہنگائی بڑھی اور غربت میں اضافہ ہوا۔ آج جو معاشی تباہی نظر آ رہی ہے، یہ کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم پالیسی کا انجام ہے۔
میڈیا کو خریدا گیا۔ صحافت کو بلیک میلنگ کا ہتھیار بنایا گیا۔ مخصوص صحافیوں کو نوازا گیا اور سچ بولنے والوں کو دیوار سے لگایا گیا۔
میں پورے ذمہ دارانہ انداز میں یہ بات دہراتا ہوں کہ جب جنرل فیض حمید کے دور میں ٹاپ سٹی اور کنورمعیز خان کیس کو میڈیا پر بریک کیا گیا، اس وقت میں بول ٹی وی اسلام آباد میں بطور ڈائریکٹر نیوز نارتھ خدمات انجام دے رہا تھا۔ میں واحد صحافی تھا جس نے وہ خبر نشر نہیں کی۔ اس کی سزا مجھے اپنی نوکری کی صورت میں بھگتنا پڑی۔
مجھ پر دباؤ ڈالا گیا، مگر میں نے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔
اسی وقت میں نے دیکھا کہ کس طرح فاروق فیصل خان جیسے لوگ ٹاپ سٹی، کنور معیزخان اور ان کے اہل خانہ کے خلاف انتہائی گندی زبان استعمال کر رہے تھے۔ آج تک وہ ایک الزام ثابت نہیں کر سکے۔
یہ صحافت نہیں تھی۔ یہ ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی غنڈہ گردی تھی۔
آج اگر ہم واقعی پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں تو آدھے سچ سے کام نہیں چلے گا۔ پورا سچ سامنے لانا ہوگا۔ پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا ہوگا۔
ریاست افراد سے بڑی ہے۔
اور جو اس اصول کو عملی طور پر نافذ نہیں کرے گا، وہ تاریخ کے کٹہرے میں مجرم ٹھہرے گا۔
“جنرل فیض اور ٹاپ سٹی کیس: فوج و ریاست کا امتحان”



