لاہور(نیشنل ٹائمز) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جاری مسائل کو سمجھے بغیر ان کا حل تلاش نہیں کیا جا سکتا، ماضی کی غلطیوں کو بدلا نہیں جا سکتا تاہم مستقبل کے لئے درست سمت کا تعین کرنا ناگزیر ہے ،بلوچستان میں اس وقت دو الگ الگ بحران موجود ہیں، مگر ہم غلطی یہ کر رہے ہیں کہ دونوں کو ایک ہی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،جب تک یہ واضح نہیں ہوگا کہ اصل بحران کیا ہے تب تک مسئلے کی جڑ تک پہنچنا ممکن نہیں ۔ عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بے گناہ بچوں اور خاندانوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر گولیاں ماری جاتی ہیں لیکن کیا کبھی کسی نے یہ کہا کہ یہ کارروائیاں بلوچستان کے عوام کرتے ہیں؟ ۔ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ یہ دہشتگرد ہیں جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے اور ان کا کسی قوم یا صوبے سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے افراد اربوں روپے کا کاروبار کر رہے ہیں۔مگر کوئی ایک مثال بھی نہیں دی جا سکتی کہ پنجاب میں کسی بلوچ کو نفرت یا تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ یہ حقیقت اس تاثر کو رد کرتی ہے کہ ملک میں نسلی بنیادوں پر نفرت پائی جاتی ہے ۔انہوں نے زور دیا کہ ملک میں پائیدار امن کے لئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، جبکہ بلوچستان کا امن اور ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے ،بلوچ محب وطن پاکستانی ہیں ،دہشتگردوں کا بلوچوں سے کوئی تعلق نہیں۔بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومتی اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے میں سپریم کورٹ گیا، پارلیمنٹ میں تقریریں کیں اور سیمیناروں میں تجاویز دیں ،جس کے بدلے ہمیں غدار کہا گیا ، بلوچستان اب پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکا ہے ۔لاہورمیں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرداراختر مینگل نے کہا کہ موجودہ حکومت کا 8 فروری کا الیکشن جس پر آج احتجاج کیا جا رہا ہے اور اسی 8 فروری کے الیکشن کے بعد آپ نے بلوچستان کی مصنوعی قیادت بنائی۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ اس پر احتجاج کریں گے تو پھر ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی کی طرح ایک ٹویٹ پر 17 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے ۔
بلوچستان میں مستقبل کیلئے درست سمت کا تعین ناگزیر :رانا ثنا اللہ



