ٹریک پر اصل امتحان: جوتے

تحریر: سعدیہ نارو

ٹریکنگ ایک مہنگا شوق ہے۔ اس میں استعمال ہونے والی اشیاء ایک تو بہت قیمتی ہوتی ہیں دوسرا پاکستان میں ان کی دستیابی نہایت محدود۔ چنانچہ مجھ جیسے متوسط طبقے کے ٹریکرز کو اکثر ان چیزوں پر گزارا کرنا پڑتا ہے جنہیں عرفِ عام میں لنڈا اور مہذب زبان میں Pre-loved کہا جاتا ہے۔

ٹریکس پر استعمال ہونے والی اشیاء جیسے کہ ڈاؤن جیکٹس، ڈرائی فِٹ شرٹس، ٹراؤزرز، واٹر پروف اپرز، واٹر پروف ٹریکنگ شوز، سلیپنگ بیگز، ڈے بیگز اور ڈفل بیگز نئی حالت میں خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ مگر شوق کا کوئی مول نہیں، جن لوگوں نے ساری عمر کسی کے میلے کپڑے کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہوتا، وہ بھی اپنے شوق کی تکمیل کے لیے استعمال شدہ سامان خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ایسے سامان کا مناسب قیمت پر مل جانا ہی خوش قسمتی سمجھا جاتا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ سب کچھ ایک ہی بار میں دستیاب ہو جائے۔ جیسے جیسے شوق پروان چڑھتا ہے، ویسے ویسے ٹریکنگ کا سامان بھی جمع ہوتا چلا جاتا ہے۔

جون ۲۰۲۲ میں جب میں نے معظم علی کے ساتھ اپنا پہلا ٹریک، ڈگری بنگلہ کیا تو صورت حال کچھ یوں تھی کہ بیٹی کا بیگ، روزمرہ استعمال کی شرٹس، ٹراؤزرز، اسکارف اور جوگرز ہی کل اثاثہ تھے۔ تب سلیپنگ بیگ کا نام بھی پہلی بار سنا تھا۔ عامر مغل کی مہربانی کہ انہوں نے اپنا سلیپنگ بیگ اُدھار دیا اور آج کے دن تک واپس نہیں لیا، گو کہ اس کے بعد میں نے اپنا سلیپنگ بیگ خرید لیا تھا۔

ٹریک پر جس واحد سیکنڈ ہینڈ چیز پر میں کبھی مکمل اعتماد نہیں کر سکی وہ ٹریکنگ شوز ہیں۔ جون ۲۰۲۳ میں چرکو پیک جانے سے پہلے میں نے میو اسپتال لاہور کے عقب میں واقع مشہور زمانہ بازار سے ٹریکنگ شوز خریدے۔ وہ مجھے پہاڑ کی چوٹی تک تو لے گئے، مگر آخری روز بیس کیمپ سے واپسی پر ان کی ہمت جواب دے گئی۔ جوتوں کا تلا اکھڑ گیا اور میں انہیں ڈوریاں باندھ کر بمشکل واپس پہنچی۔

اسی برس جولائی میں کشمیر ٹریک کے لیے دوبارہ وہیں سے جوتے خریدے، جو تیسرے ہی دن کھل گئے اور مجھے ایک بار پھر اسی آزمائش سے گزرنا پڑا۔

مشکل اور طویل ٹریکس پر سیکنڈ ہینڈ ٹریکنگ شوز پر مکمل بھروسہ بڑی مشکل کھڑی کر سکتا ہے۔ میرے حالیہ کےٹو ٹریک میں ہمارے ایک ساتھی کے جوتے پہلے ہی دن اسکولی سے جھولا جاتے ہوئے کھل گئے، جس کے باعث انہیں خاصی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔ ماضی میں بھی کےٹو جیسے طویل ٹریکس پر استعمال شدہ یا Pre-loved جوتوں کے سبب کئی ٹریکرز شدید مشکلات میں مبتلا ہوتے رہے ہیں۔

اپنے تجربات نے مجھے یہی سبق دیا ہے کہ ایسے جوتے بے وفا صنم کی طرح بیچ راستے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے ٹریک پر خواری سے بچنے کا واحد محفوظ راستہ یہی ہے کہ ہمیشہ نئے اور معیاری ٹریکنگ شوز استعمال کیے جائیں۔ ان دو تجربات کے بعد میں نے امریکہ سے نئے ٹریکنگ شوز منگوائے جو میں پچھلے دو سال میں مختلف ٹریکس پر استعمال کر چکی ہوں۔

بلاشبہ ٹریکنگ حوصلے اور ہمت کا امتحان ہے مگر اس امتحان میں قابلِ بھروسہ جوتوں کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ان برسوں میں میں نے یہ بھی سیکھا کہ ٹریکنگ شوز ہمیشہ اپنے عام جوتوں کے ناپ سے آدھا یا ایک نمبر بڑے لینے چاہئیں۔ اس کی وجوہات سادہ ہیں۔ ایک تو بلند مقامات پر طویل مسافت کے باعث پاؤں سوج جاتے ہیں۔ دوسرا ڈھلوان پر اترتے وقت انگلیوں پر دباؤ پڑتا ہے اور تیسرا موٹے ٹریکنگ موزوں کے لیے اضافی جگہ درکار ہوتی ہے۔

اگر کسی کے لیے نئے ٹریکنگ شوز خریدنا ممکن نہ ہو تو دو باتوں پر سختی سے عمل کرنا ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ ٹریک پر روانگی سے قبل جوتوں کو دو چار بار اچھی طرح استعمال کر لیا جائے تاکہ اگر انہیں کھلنا ہو تو بروقت پتہ چل جائے اور دوسری یہ کہ سامان میں جوتوں کا ایک اضافی جوڑا لازماً رکھا جائے۔ اگرچہ اس سے وزن بڑھے گا، مگر یہی اضافی جوڑا کسی مشکل میں آپ کا نجات دہندہ ثابت ہو سکتا ہے۔

نئے جوتے خریدتے وقت ایک اور نہایت اہم پہلو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے۔ جوتوں کی بھی شیلف لائف ہوتی ہے۔ چاہے جوتے استعمال میں نہ بھی آئے ہوں، وقت گزرنے کے ساتھ وہ اپنی عمر پوری کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے جوتوں کا سول سخت یا کمزور ہو سکتا ہے، گوند اپنی گرفت کھو سکتی ہے اور ربڑ میں دراڑیں پڑ سکتی ہیں۔ اس لیے ٹریکنگ شوز خریدتے وقت ان کی مینوفیکچرنگ یا شیلف ڈیٹ ضرور چیک کرنی چاہیے۔

اسی طرح اگر نئے جوتے طویل عرصے تک محفوظ رکھنے ہوں تو انہیں وقفے وقفے سے استعمال میں لانا بھی ضروری ہے، کیونکہ مسلسل عدم استعمال سے بھی مٹیریل خراب ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

یہ سب باتیں میں نے کسی کتاب میں نہیں پڑھیں بلکہ میرے گزشتہ چار برسوں کی ٹریکنگ میں حاصل ہونے والے تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ ہیں۔ سیکھنے کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا کیونکہ پہاڑ ہر بار ایک نیا سبق دے جاتے ہیں اور ٹریکر ہر بار کچھ نہ کچھ نیا سیکھ کر لوٹتا ہے۔



  تازہ ترین   
سلمان صفدر کی عمران خان سے طویل ملاقات، رپورٹ کل سپریم کورٹ میں پیش کرینگے
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر اتفاق
پاک فضائیہ کی سعودی عرب میں ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں شاندار شرکت
پشاور میں رواں سال پی ایس ایل میچز کے انعقاد کا فیصلہ
بلوچستان کو درپیش چیلنجز میں حکومت پنجاب ہر ممکن تعاون کرے گی: مریم نواز
سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پر سیپشن انڈیکس 2025ء جاری کردیا
صدر مملکت نے ازبک ہم منصب کی دورہ ازبکستان کی دعوت قبول کر لی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر