لاہور (نیشنل ٹائمز)آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے رائو عبدالکریم کو آئی جی پنجاب تعینات کرنے کی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے منظوری دے دی ، جس کے بعد وفاق کو تین نام بھجوائے گئے جس میں رائو عبدالکریم کو آئی جی پنجاب تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ سے بذریعہ سرکولیشن منظوری لے لی گئی ہے ،اور سمری شہبازشریف کے پاس چلی گئی ہے جن کی منظوری کے فوری بعد نوٹیفکیشن جاری ہوجائے گا۔رائع کے مطابق آئی جی پنجاب کیلئے آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید، سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی وسیم سیال کے ناموں پر بھی غورکیا گیا تاہم ایڈ یشنل آئی جی سپیشل برانچ راؤ عبدالکریم کے حق میں فیصلہ ہوا۔وفاقی حکومت کے ذرائع کے مطابق عثمان انور کو وفاق میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے )تعینات کیے جانے کا امکان ہے ۔جبکہ راؤ عبدالکریم کا تعلق پولیس سروس کے 24ویں کامن سے ہے اور انہیں انتہائی پروفیشنل، منجھے ہوئے اور تجربہ کار افسران میں شمار کیا جاتا ہے۔اپنے طویل اور متنوع کیریئر کے دوران راؤ عبدالکریم نے ایڈیشنل آئی جی پی ایچ پی، کمانڈنٹ پی سی، ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب، آر پی او گوجرانوالہ اور ڈی آئی جی ٹیلی کمیونیکیشن سمیت متعدد اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔فیلڈ کمانڈ کے وسیع تجربے کے حامل راؤ عبدالکریم میانوالی، قصور اور جھنگ کے ڈی پی او بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا تعلق نواب شاہ سے ہے اور انہوں نے 1996 میں بطور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) پولیس سروس جوائن کی۔ابتدائی سروس کے دوران راؤ عبدالکریم نے اے ایس پی یو ٹی سکھر، ایس ڈی پی او سکھر سٹی، لطیف آباد حیدرآباد اور چنیوٹ میں فرائض انجام دئیے ۔
عثمان انور کی تبدیلی کا فیصلہ، رائو عبدالکریم نئے آئی جی پنجاب



