نیویارک (شِنہوا) امریکہ کے شہر نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے نیویارک شہر میں جاری شدید سردی کی لہر کے باعث 14 افراد کھلے آسمان تلے ہلاک ہو چکے ہیں۔
مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 8 افراد کی موت میں ‘ہائپوتھرمیا’ یعنی شدید سردی کے باعث جسمانی درجہ حرارت میں شدید کمی کا بڑا عمل دخل تھا۔
25 جنوری کو آنے والے ایک بڑے برفانی طوفان نے برف باری کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے جس کی وجہ سے سڑکیں اور فٹ پاتھ کیچڑ اور پگھلتی برف کا ڈھیر بن گئے۔
میئر ممدانی کے مطابق اب تک 6 کروڑ 70 لاکھ پاؤنڈ برف پگھل چکی ہے جبکہ برف ہٹانے کے لئے 18 کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ نمک کا استعمال کیا جا چکا ہے۔
بے گھر افراد کو جما دینے والی سردی سے بچانے کے لئے نئے اقدامات بھی کئے گئے ہیں۔ بے گھر افراد کے لئے نئے انفرادی کمروں والی پناہ گاہیں کھول دی جائیں گی جبکہ نیویارک کے پانچوں اضلاع میں حرارت فراہم کرنے والے مراکز بھی عوام کے لئے کھلے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر بھر میں 20 “وارمنگ بسیں” بھی کھڑی کی گئی ہیں۔
نیویارک سٹی میں شدید سردی کی لہر کے باعث 14 افراد ہلاک



