تحریر: عابد حسین قریشی
اگر دنیا میں کچھ نہ ہوتا، اور صرف اللہ ہوتا، تو پھر بھی محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور ہوتا، کہ یہ نور تو تخلیق آدم علیہ السلام سے بھی ہزاروں سال پہلے موجود تھا۔ آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا کیا اور مجھ سے اس وقت میثاق نبوت لیا جب ابھی آدم علیہ السلام روح اور جسد کے درمیان تھے۔ اللہ تعالٰی نے ان گنت نبی اور پیغمبر مبعوث فرمائے مگر کسی کو یہ استحقاق تو نہ دیا کہ اس کا نور تخلیق آدم سے پہلے پیدا کر دیا۔ یہ استحقاق، یہ خصوصی پروٹوکول صرف ہمارے آقا و مولا نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حصہ میں ہی آیا۔ اس واحد privilege پر ہی مسلمان اگر نازاں و شاداں رہیں، تو پھر بھی کافی ہے، مگر بات اس سے کہیں بڑھکر ہے۔ محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے بعثت اور پھر وصال مبارک تک ان گنت واقعات و معجزات ہیں، جو ہمارے آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کو سب نبیوں سے ممتاز کرتے ہیں۔ مکہ کے اس در یتیم کو اللہ تعالٰی نے ان جاودانی رفعتوں اور عظمتوں سے ہمکنار کیا کہ انسانیت ان پر ہمیشہ نازاں و فرحاں رہے گی۔ میری عاجزانہ رائے میں اگر ظہور مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ ہوتا، تو شاید یہ دنیا ہی نہ ہوتی۔ محمد عربی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر کونسی دنیا اور کیسی دنیا۔ اللہ تعالٰی کو تو اپنے اس نبی سے اسلئے بھی محبت و وارفتگی تھی، کہ یہ آخری نبی تھے۔ اور انسانیت کے لئے منبع و سرچشمہ ہدایت، جس نے قیامت تک قائم و دائم رہنا تھا۔ اللہ تعالٰی تو قرآن پاک میں یہ بھی فرما رہے ہیں، کہ یہ نبی انسانوں کی فلاح کا حریص ہے، اور اسے لوگوں کی تکلیف پریشان کر دیتی ہے، تو جو نبی انسانیت کی فلاح کا حریص ہو، اس سے بڑھکر انسانیت کا محسن اور خیر خواہ کون ہو سکتا ہے۔ نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ساری زندگی اپنے قول و عمل سے یہ ثابت کیا کہ وہ تو انسانوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے دنیا میں تشریف لائے ہیں۔ مسجد نبوی میں جب حج پر ہونے والی گفتگو کے دوران ایک صحابی نے پوچھا کہ کیا حج صرف ایک بار ہی فرض ہے یا زیادہ کی بھی گنجائش ہے، تو آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار ابھرے اور فرمایا کہ کیوں اس طرح کے سوال پوچھتے ہو کہ جس سے لوگوں کے لئے تنگی یا تکلیف کا پہلو نکلتا ہو۔ وہ تو اس قدر کریم اور لوگوں کے آرام اور تکالیف کا خیال رکھنے والے تھے کہ اگر دوران نماز کسی بچے کے رونے کی آواز آتی، تو نماز مختصر فرما دیتے کہ بچے کو یا بچے کی ماں کو تکلیف نہ ہو۔ دل کی نرمی، محبت و شفقت، انس و پیار، خلوص و مروت میں یکتا نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زندگی بھر کمزوروں، بیواؤں اور یتیموں کی دستگیری کی۔ ایک طرف اللہ تعالٰی انہیں قرآن کریم میں یہ پروٹوکول دے رہا ہے، کہ لوگوں کو آقا کریم صل للہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سرگوشی کرنے سے پہلے بھی صدقہ دینے کا حکم فرما رہا ہے۔ اپنی آوازیں نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پست رکھنے کا حکم ہو رہا ہے، اور دوسری طرف یہ عظیم و کریم اور باکمال ہستی اپنی پیاری اور چہیتی دختر فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی آمد پر ہمیشہ کھڑے ہو کر استقبال کرتے ہیں۔ امت کو یہ بتانا مقصود تھا، کہ عورت اور بیٹی کا کیا مقام ہے، اور یہ بھی کہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا مصطفٰی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دل کا سرور اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ اور یہ بات کون بھول سکتا ہے، کہ نبی آخرالزماں صل للہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد کا سلسلہ اللہ تعالٰی نے آپ کی اسی بیٹی سے آگے بڑھایا اور سورہ کوثر تو نازل ہی اسی تناظر میں ہوئی، کیا نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہل بیت کا تقابل کسی اور سے کرنا ممکن ہے ۔؟ ان اہل بیت کا اپنا ایک مقام، رتبہ، تقدس اور استحقاق ہے، انکے تقابل یا موازنہ کی کوئی صورت ہی نہیں بنتی۔ وہ تو اس نبی مکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل مبارک ہے، کہ جو وجہ تخلیق کائنات ہیں، جو نبوت کی آخری اینٹ اور حامل قرآن ہیں۔ جن کا رتبہ اور جن کی فضیلت مجھ جیسے کم فہم سے کس طور بیان ہو سکتی ہے، کہ جن کی تعریف و توصیف خود مالک کائنات قرآن کریم میں جگہ جگہ فرما رہے ہیں۔ کبھی رحمتہ العالمین اور کبھی محسن انسانیت، کبھی اخلاق و کردار کا پیکر، اور کبھی انسانوں کی فلاح کا حریص، کبھی نرم دل، نرم گفتار اور عفو و درگزر کرنے والا، اور کبھی سر تا پا رحمت ہی رحمت۔ محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ایک ہی ہیں۔ انکی نقل یا انکی مثل بننا یا دعوٰی کرنا بھی کفر ہے۔ وہ تو ختم نبوت کی مہر ہیں۔ خود اللہ تعالٰی قرآن پاک میں انہیں آخری نبی اور ختم نبوت کی مہر سے یاد فرما رہا ہے۔ اس متبرک و مقدس، اطہر و مطاہر، خلق عظیم کے حامل اور اللہ تعالٰی کے محبوب ترین نبی اور رسول ہونے کا منفرد اعزاز رکھنے والی ہستی کا کوئی جعلساز، کوئی بہروپیا، کوئی نبوت کا جھوٹا دعوٰیدار اور کوئی کذاب کیسے مقابلہ کر سکتا ہے۔ اہل ایمان اور ختم نبوت کے پروانے تو نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی میں ہی اپنی نجات سمجھتے ہیں۔ انکا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔ کہ ان جیسا دوسرا کہاں۔



