چھری، کانٹا اور ہم

پاکستان ملٹری اکیڈمی، کاکول میں بوفے کا رواج نہیں- کھانا میز پر چن دیا جاتا جسے کرسی پر بیٹھ کر چھری کانٹے کی مدد سے تناول کیا جاتا ہے- کھانا کھانے کے آداب میں چھری ،کانٹے کو بہت اعلی مقام حاصل ھے- کانٹا بائیں ہاتھ میں اور چھری دائیں ہاتھ میں-غصّہ اور چھری کانٹے کی یہی ترتیب فوجی افسر مرتے دم تک سنھال کے رکھتے ہیں- کہتے ہیں جس گھر میں دو یا دو سے زیادہ فوجی افسر ھوں ،اس گھر کے مکینوں کے لئے جنّت میں اعلی مقام ہے-کئی افسر، اکیلے بھی یہ کام انجام دے لیتے ہیں-
ہم کاکول جانے سے پہلے پنجابی بولتے تھے اور کھل کر بولتے تھے، کبھی کمی کا احساس نہیں ہوا – پی ایم اے پہنچ کر اندازہ ھوا کہ زبان بھی کم پڑ جاتی ھے- کیونکہ پی ایم اے میں سارے معاملات انگلش میں طے ھوتے ہیں، اس لئے ہماری انگلش اکثر کم پڑ جاتی – اور انگلش ادھار تو ملتی نہیں، بس وہیں سے معاملات خراب ہونا شروع ہو جاتے اور پھر خود بخود سنبھل بھی جاتے-
ہم 1986 میں پاس آؤٹ ہوئے- 2024 میں ، تقریبا چار دھائیوں بعد، پی ایم اے میں جانے کا پھر موقع ملا- بٹالیں میس میں داخل ہوئے تو ایسے لگا جیسے پی ایم اے سے ہم کبھی گئے ہی نہیں – وہی ماحول، وہ کھانے کی خوشبو اور ذائقے میں رتّی بھر بھی فرق نہیں- مٹن قومے کا پہلا نوالہ لیتے ہی باورچی کے لئے منہ سے دعا نکلی کہ “اللہ تعالی تجھے اور لمبی عمر عطا کرے”، نصف صدی تک ایک ہی ذائقے کو برقرار رکھنا کمال فن نہیں تو کیا ہے- اگر باورچی وہ نہیں ھے ، جو ہمارے زمانے میں تھا، تو کھانا پکانے کا فن یقینا کسی بہت اچھے شاگرد کے حوالے کر کے گیا ھے- ذائقے میں مستقل مزاجی کی یہ انتہاء شاید ہی دیکھنے کو ملے –
ڈنر تو روز ہوتا ہے اور ھوتا بھی شام کو ہی ھے لیکن کبھی کبھار ڈنر کے ساتھ” نائٹ ” لگا کر کھانے کو ایک تہوار کا درجہ دے دیا جاتا ہے- وہی کھانا جو روز آپ اپنی مرضی سے کھاتے ہیں ، ڈنر نائٹ والے دن ،بلیو پٹرول ( خاص یونیفارم) میں جنٹلمین بسمہ اللہ اور جنٹلمین الحمدللہ کہ کر بالترتیب شروع اور ختم کیا جاتا ھے- ڈنر نائیٹ پر اکثر پلاٹون کمانڈر اور کمپنی کمانڈر تشریف لاتے ہیں-کھانے سے پہلے میس کے اوپر بنے “اینٹی روم” میں کیڈٹس اور افسران میں خوشگوار ماحول میں غیر رسمی تبادلہ خیال ہوتا ھے-
ڈنر کی ابتدا, ایک بڑی سی پلیٹ میں چھوٹا سا اکلوتا مرغ کا پیس بطور appetizer پیش کر کے ھوتی ھے – مسئلہ اکلوتے اور چھوٹے پیس کا نہیں – پہلے تو اسے سامنے رکھ کر گھورنا ہوتا ہے تاوقتیکہ ” بسمہ اللہ” کی آواز سنائی نہ دے- جب تک پورے ہال میں سب کو ڈش serve نہ ہو جائے ،کھانا شروع نہیں کرتے- یہی صورتحال پوری سروس میں بھی رھتی ھے- کھانا سب سے پہلے سینئر کو serve ھوتا ھے لیکن سینئر انتظار کرتا ھے جب تک میز پر سب کو کھانا serve نہ ہو جائے- ڈنر نائٹ پر دوسرا مسئلہ اس نحیف سے پیس کو چھری اور کانٹے سے کھانے کا ہے- نہ وہ چھری کے قابو آتا ھے، نہ کانٹے کے اور ساتھ یہ بھی شرط کہ چھری کانٹا چلنے کی آواز نہ آئے- آپ کے ساتھ ہی پلاٹوں کمانڈر بھی براجمان ہوتا ہے جس کی کڑی نظر ساری پلیٹوں سے نکلنے والی آوازوں کا جائزہ لے رھی ھوتی ہے- بھوک اتنی شدّت کی کہ ، دل کرتا ھے پوری ٹیبل کے پیس اٹھا کے دونوں ہاتھوں سے منہ میں ٹھونس لیں- لیکن آپ ایسا کر نہیں سکتے ،کیونکہ ٹیبل پر موجود تمام بندوں کا دل یہی کر رھا ھوتا ھے- مجبورا صرف اپنے پیس کو چھری اور کانٹے سے قابو کر کے کھانا ہوتا ھے- مین کورس آتا ھے تو کانٹے کو ایک نئی صورت حال کا سامنا ہوتا ہے – کانٹا، پلیٹ میں پھیلے شوربے کو گھیر گھار کر آگے لاتا ھے اور دوسرے ہاتھ میں روٹی کا نوالہ ،کانٹے سے آگے لائے ھوئے شوربے میں ڈبو کر انتہائی احترام سے منہ میں اتارتا ہے- نوالوں کو اتنی پریکٹس ہو جاتی ھے، انہیں علم ہوتا ھے کہ آواز نکالے بغیر نیچے اترنا ہے-
کانٹا جسے پیار سے fork کہتے ہیں اس کا استعمال مسلسل ہوتا ہے- البتہ چھری جسے knife کہ کر مخاطب کرتے ہیں اس کی ضرورت ڈنر میں کبھی کبھار اور ناشتے میں زیادہ ہوتی ھے- انگلیاں صرف چھری اور کانٹا چھو سکتی ہیں- براہ راست انگلیاں کھانے کو نہیں چھو سکتی- اس سارے کھیل میں، جو پلیٹ پر کھیلا جا رھا ھوتا ھے، زبان سب سے زیادہ پستی ھے- کھانے کی خوشبو سے ،منہ للچائے ھوئے پانی سے بھرا ہوا ہوتا ھے، لیکن کبھی چکن پیس قابو نہیں آتا اور کبھی ناشتے میں Jam، مکھن اور ڈبل روٹی کا تال میل نہیں بن رھا ھوتا- فرائی انڈہ بھی چھری کانٹے سے کھانا ہوتا ھے- پی ایم اے میں ڈرل کے علاوہ سب سے ناپسندیدہ چیز ” فرائی انڈہ ” ھے- دو سال تک مسلسل ناشتے میں فرائی انڈے کھا کھا کے مت ماری جاتی ھے-
فوج ایک طرز زندگی ہے- موجودہ دور کی سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں جیسا کہ “atomic habit”، ” پر اثر لوگوں کی سات عادات”، “پانج بجے والا کلب ” اور سینکڑوں دوسری کتابوں میں جو درس دیا گیا ھےاور جس کی مغربی دنیا میںں ہر طرف دھوم مچی ھوئی ھے، پی ایم اے میں وہ سب دھائیوں سے سکھلا رھے ہیں جو کہ فوجی افسر کا طرز زندگی بن جاتا ھے-
فوجی آفیسر کی جیب بھلے خالی ہو ،جو کہ اکثر ھوتی ھے، مگر مہمان کے لئے ٹرالی ایسے سجاتے ہیں جیسے شہنشاہ اکبر کے گدّی نشین ھوں- یہیں سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں- گھر آئے سول مہمان کو لگتا ھے کہ اتنا رکھ رکھاؤ بغیر پیسے کے تو ہو نہیں سکتا- جبکہ فوج میں سکھایا ہی یہ جاتا ھے کہ رکھ رکھاؤ کے لئے پیسہ بالکل بھی ضروری نہیں-



  تازہ ترین   
سلمان صفدر کی عمران خان سے طویل ملاقات، رپورٹ کل سپریم کورٹ میں پیش کرینگے
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر اتفاق
پاک فضائیہ کی سعودی عرب میں ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں شاندار شرکت
پشاور میں رواں سال پی ایس ایل میچز کے انعقاد کا فیصلہ
بلوچستان کو درپیش چیلنجز میں حکومت پنجاب ہر ممکن تعاون کرے گی: مریم نواز
سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پر سیپشن انڈیکس 2025ء جاری کردیا
صدر مملکت نے ازبک ہم منصب کی دورہ ازبکستان کی دعوت قبول کر لی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر