اقدار پر مبنی حقیقت پسند خارجہ پالیسی اور پاکستان

تحریر
ثاقب فاروق

قواعد پر مبنی عالمی نظام کا خاتمہ اور پاکستان کے لیے نئے عالمی لمحے کے تقاضے
دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں پرانے نعروں، پرانی صف بندیوں اور پرانے وعدوں کی گونج مدھم پڑتی جا رہی ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کا حالیہ بیان کہ “قواعد پر مبنی عالمی نظام اب ختم ہو چکا ہے” دراصل کسی ایک ملک کی رائے نہیں بلکہ اس عالمی حقیقت کا اعتراف ہے جسے گلوبل ساوتھ برسوں سے محسوس کر رہا تھا، مگر جسے طاقتور دنیا تسلیم کرنے سے گریزاں رہی۔
یہ سوال اب ناگزیر ہے کہ اگر وہ نظام ختم ہو چکا ہے جس کے سائے تلے دنیا نے تین دہائیاں گزاری ہیں، تو پھر پاکستان جیسے ممالک کے لیے آگے کا راستہ کیا ہے؟ کیا ہم ایک بار پھر کسی نئے بیانیے، کسی نئے اتحاد یا کسی نئے وعدے کے سہارے خود کو مطمئن کر لیں گے، یا اس بار حقیقت کو تسلیم کر کے اپنی پالیسی کی سمت درست کریں گے؟
وہ عالمی نظام جو کبھی سب کے لیے نہیں تھا
سرد جنگ کے بعد جس “Rules-Based Order” کو عالمی امن اور انصاف کی ضمانت بنا کر پیش کیا گیا، وہ دراصل طاقتور ممالک کے مفادات کا ایک خوبصورت لبادہ تھا۔ بین الاقوامی قوانین، عالمی مالیاتی ادارے، اور سلامتی کے ڈھانچے بظاہر سب کے لیے یکساں تھے، مگر عملی طور پر ان کا اطلاق ہمیشہ طاقت کے ترازو میں تولا گیا۔
گلوبل ساوتھ کے ممالک کے لیے یہ نظام:
قرض اور مشروط امداد کا جال ثابت ہوا
خودمختاری پر دباؤ کا ذریعہ بنا
اور داخلی فیصلوں کو خارجی منظوری سے مشروط کرتا رہا
پاکستان اس نظام کا شاید سب سے نمایاں مطالعہ ہے—جہاں شراکت داری ہمیشہ وقتی رہی، مگر قربانی مستقل۔
پاکستان: اسٹریٹجک اہمیت یا اسٹریٹجک مجبوری؟
پاکستان کو دہائیوں تک “اہم” کہا گیا، مگر اس اہمیت کا فائدہ کبھی پائیدار معاشی ترقی، ادارہ جاتی استحکام یا خودمختار سفارت کاری میں تبدیل نہ ہو سکا۔ سرد جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ، پاکستان ہمیشہ اگلے مورچے پر رہا، مگر فیصلوں کی میز پر کبھی برابری کا شریک نہ بن سکا۔
اصل مسئلہ یہ رہا کہ ہم نے اسٹریٹجک محلِ وقوع کو متبادلِ پالیسی سمجھ لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ:
ہماری معیشت کمزور رہی
خارجہ پالیسی ردعمل کا شکار رہی
اور ہر عالمی تبدیلی میں ہم تماشائی بنے رہے، معمار نہیں
نیا عالمی منظرنامہ اور درمیانی طاقتوں کا کردار
مارک کارنی نے درمیانی طاقتوں کے اتحاد پر زور دیا، اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کے لیے موقع اور خطرہ دونوں موجود ہیں۔ دنیا اب واضح طور پر نہ مکمل یک قطبی ہے، نہ مکمل دو قطبی۔ طاقت بکھر رہی ہے، اور اسی بکھراؤ میں نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں۔
یہی وہ خلا ہے جس میں SCO اور BRICS جیسے فورمز ابھرتے دکھائی دیتے ہیں۔
SCO: سلامتی کے دائرے سے باہر سوچنے کی ضرورت
شنگھائی تعاون تنظیم پاکستان کو علاقائی سلامتی اور جغرافیائی روابط کے حوالے سے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ SCO اب تک ایک مضبوط معاشی بلاک بننے میں ناکام رہی ہے۔
اگر پاکستان SCO میں محض سیکیورٹی کے زاویے سے موجود رہا تو:
یہ رکنیت علامتی بن کر رہ جائے گی
معاشی فوائد محدود رہیں گے
اور فیصلہ سازی پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کمزور رہے گی
پاکستان کو SCO کے اندر توانائی، تجارت اور ٹرانزٹ کو مرکزی ایجنڈا بنانا ہوگا، ورنہ یہ فورم بھی ایک اور ضائع شدہ موقع بن جائے گا۔
BRICS: متبادل یا نیا مرکزِ طاقت؟
BRICS کو مغربی بالادستی کے متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، خاص طور پر متبادل مالیاتی نظام اور مقامی کرنسیوں میں تجارت کے ذریعے۔ مگر یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ BRICS خود بھی طاقت کے عدم توازن سے خالی نہیں۔
پاکستان کے لیے BRICS میں شمولیت:
ایک موقع ہے، اگر ہم معاشی بنیاد مضبوط کریں
ایک خطرہ ہے، اگر ہم کمزور معیشت کے ساتھ اس بلاک کا حصہ بنیں
کمزور معیشت کے ساتھ کسی بھی نئے اتحاد میں شامل ہونا، پرانے انحصار کو نئے نام سے دہرانے کے مترادف ہوگا۔
پاکستان کے لیے اصل سوال: وابستگی یا خودمختاری؟
یہ وقت نعروں یا جذباتی وابستگیوں کا نہیں، بلکہ اقدار پر مبنی حقیقت پسندی اپنانے کا ہے۔ ایسی خارجہ پالیسی جو:
قومی مفاد کو واضح طور پر متعین کرے
کسی ایک طاقت پر انحصار سے گریز کرے
اور معاشی خودمختاری کو سلامتی کی بنیاد سمجھے
پاکستان کے لیے ناگزیر پالیسی نکات
خارجہ پالیسی کو کثیرالجہتی بنیادوں پر استوار کیا جائے
معاشی استحکام کو سفارت کاری کا مرکز بنایا جائے
SCO میں معاشی ایجنڈے کو ترجیح دی جائے
BRICS میں شمولیت سے قبل داخلی اصلاحات کی جائیں
علاقائی تجارت کو سیاسی اختلافات سے الگ کیا جائے
خارجہ پالیسی میں تسلسل کو یقینی بنایا جائے
بیانیے کے بجائے مفاد کی زبان اختیار کی جائے
توانائی اور ٹیکنالوجی سفارت کاری پر توجہ دی جائے
گلوبل ساوتھ کے ساتھ مشترکہ ایجنڈا تشکیل دیا جائے
قومی مفاد کی واضح اور قابلِ پیمائش تعریف کی جائے
اختتامیہ
قواعد پر مبنی عالمی نظام کے خاتمے کا اعلان دراصل ایک موقع ہے—مگر صرف ان کے لیے جو حقیقت کو تسلیم کر کے تیاری کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ وہ کس بلاک کا حصہ بنتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی شرائط، اپنی صلاحیت اور اپنی حکمتِ عملی کے ساتھ دنیا میں اپنی جگہ کیسے بناتا ہے۔
دنیا بدل رہی ہے۔
سوال یہ ہے: کیا ہم بھی بدلنے کو تیار ہیں؟



  تازہ ترین   
سلمان صفدر کی عمران خان سے طویل ملاقات، رپورٹ کل سپریم کورٹ میں پیش کرینگے
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر اتفاق
پاک فضائیہ کی سعودی عرب میں ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں شاندار شرکت
پشاور میں رواں سال پی ایس ایل میچز کے انعقاد کا فیصلہ
بلوچستان کو درپیش چیلنجز میں حکومت پنجاب ہر ممکن تعاون کرے گی: مریم نواز
سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پر سیپشن انڈیکس 2025ء جاری کردیا
صدر مملکت نے ازبک ہم منصب کی دورہ ازبکستان کی دعوت قبول کر لی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر