عابد حسین قریشی
بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت با سعادت کے مبارک موقع پر، جب تاریخ اسلام کی اس عظیم المرتبت خاتون کے افکار و کردار اور جرات و شجاعت پر نظر دوڑائی تو حیرت و استعجاب اور خوشی و سرمستی کے کئی در وا ہوئے۔ حیرت اس بات کی ایک عورت ہوتے ہوئے اور وہ بھی شہداء کربلا کی بہن ، ماں اور پھوپھی ہوتے ہوئے نہ صرف میدان کربلا میں بلکہ سفر اسیران کربلا اور پھر یزید ملعون کے دربار میں کس قدر جرآت، استقامت ، شجاعت ، دلیری ، صبر و رضا کا بے مثل و لا جواب مظاہرہ کیا کہ تاریخ اسکی مثال نہ ڈھونڈ سکی نہ ڈھونڈ پائے گی، اور خوشی اس بات کی کہ بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے دختر مولا علی علیہ السلام اور فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور نواسی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کا وہ حق ادا کیا اور اپنی جرآت و بہادری سے وہ انمٹ نقوش تاریخ کے صفحات پر رقم کئے کہ جو اہل بیت اطہار کے قول و عمل سے ہی ممکن تھا۔ آپ نے اپنی جرآت افکار اور پختگی کردار سے ثابت کیا کہ آپ ہی میراث مصطفٰی و مرتضٰی کی اصل حقدار و وارث ہیں۔ بی بی زینب سلام اللہ علیہا جب حسنین کریمین کے ساتھ آنگن فاطمہ سلام اللہ علیہا میں کھیلتی ہوں گی تو انکے نانا کریم اپنی اس آل مبارک کو یوں پھلتے پھولتے دیکھ کر کس قدر خوش ہوتے ہوں گے، صرف چشم تصور سے اسکا نظارہ ہی کیا جا سکتا ہے، مگر جب یہ خیال آتا ہو گا، کہ ایک دن میری یہ نواسی زنجیروں میں جکڑی اپنے بھائیوں، بیٹوں اور عزیزوں کے بے گور و کفن لاشے اٹھائے کوفہ سے شام کے بے آب و بے ثمر صحراؤں میں اذیت و بے بسی کے سفر میں ہو گی، تو دل مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ پر کیا بیت رہی ہوگی ،اسکا تو تصور بھی دل کو ہلا دینے والا ہے۔ تاریخ میں واقعہ کربلا شاید ایک انوکھا اور ہولناک سانحہ ہے، کہ جہاں خانوادہ رسول کے سارے مردوں کو ماسوائے ایک بیمار بچے کے نہایت سفاکانہ انداز میں شہید کیا گیا، اور اسی خاندان رسول کی پاک بیبیوں نے یہ سارا دلخراش منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اور ان پاک بیبیوں کی قافلہ سالار بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے اس رنج و الم ، اور غم و اندوہ کی کیفیت میں نہ صرف خود کو سنبھالا بلکہ قافلہ میں شامل دیگر بیبیوں اور بچوں کے لئے حوصلہ، جرات اور اسقامت کا کوہ گراں ثابت ہوئیں۔ ان ساری مصیبتوں، تکلیفوں اور مصائب و الم کے باوجود بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی شخصیت کا وہ پہلو، وہ جرآت اور شجاعت اور مدبرانہ خطاب جو یزیدی دربار میں انجام پایا، وہ اسلامی تاریخ کا ایسا دلکش و دلپزیر باب ہے، جو ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا۔ بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے مظلوم و مقہور ہونے کے باوجود یزید ملعون سے کوئی بھیک نہیں مانگی، کسی رعایت کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ پوری قوت اور جرآت ایمانی سے یزید کے اپنے دربار میں اسکے سینکڑوں درباریوں اور محافظوں کے سامنے اسے للکارا ہے، اسکے ظلم و ستم پر طعن و تشنیع کے ساتھ اہل بیت اطہار علیہ السلام اور اپنے نانا مصطفٰی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کے دین کی عظمت اور اسکے ساتھ اپنی انمٹ وابستگی بیان کی ہے، بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا یزیدی دربار میں یہ خطبہ تاریخ کے اوراق میں اہل بیت اطہار علیہ السلام کی طرف سے ایک ایسا جرآت و استقامت کا اظہاریہ تھا کہ تاریخ اس پر ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔ بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے اس لا فانی کردار نے کربلا کی قربانی میں ایک ایسے درخشاں باب کا اضافہ کیا کہ یہ تاریخ میں امر ہوگیا۔ خاندان رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوان اور بچے تو میدان کربلا میں اپنے نانا کے دین پر قربان ہوگئے۔ خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کرنے کی اس یزیدی کاوش کو روکنے میں سب کچھ قربان کرکے قیامت تک اسلام کو زندہ و پائیندہ کر دیا اور بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے لافانی اور لا ثانی کردار، جرات افکار اور صبر و استقامت سے شہدا کربلا کے مشن کی وہ آبیاری کی کہ انسانیت ان پر فخر بھی کرے گی اور دین اسلام انکی اس جرات و شجاعت اور ایثار و قربانی پر مقروض بھی رہے گا۔
نشان جرآت و شجاعت اور پیکر صبر و رضا بی بی زینب سلام اللہ علیہا۔



