علی کیمپ کا سفر
۲۹ جولائی ۲۰۲۵
کنکورڈیا پر ۲۹ جولائی کی صبح جب میری آنکھ کھلی تو گھڑی پانچ بجا رہی تھی۔ ذہن میں پہلا خیال یہی ابھرا کہ خیمے سے باہر نکل کر دیکھوں شاید آج کےٹو کا مکمل دیدار نصیب ہو جائے۔ گزشتہ چھتیس گھنٹوں سے چوٹی مسلسل بادلوں میں اوجھل رہی تھی جیسے خود کو مجھ سے چھپائے بیٹھی ہو۔ شدید سردی کے باوجود میں نے ہمت جمع کی، سلیپنگ بیگ سے نکلی اور اسے سمیٹ کر ایک جانب رکھ دیا۔ جیسے ہی خیمے کی زِپ کھولی، سامنے ایک روح کو چھو لینے والا منظر میرا منتظر تھا۔ کےٹو پر سے بادل پوری طرح چھٹ چکے تھے اور وہ اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ میرے سامنے ایستادہ تھا۔ اس کی برف پوش چوٹی طلوع ہوتے سورج کی پاکیزہ روشنی سے جگمگا رہی تھی، گویا سورج کی پہلی کرنیں اس کے وقار کو سلام پیش کر رہی ہوں۔
میں جیسے سکتے کے عالم میں وہیں ٹھٹک کر کھڑی رہ گئی۔ کےٹو کے حسن اور ہیبت دونوں نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا۔ آنکھیں خوشی اور شکرگزاری سے بار بار نم ہو رہی تھیں۔ اس دیدار کے لمحوں میں وقت جیسے تھم سا گیا اور نجانے کتنی دیر میں اس خاموش ملاقات کے سحر میں کھوئی رہی۔
میری نظریں بدستور کےٹو پر جمی تھیں کہ اسی دوران براڈ پیک بھی اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگی۔ وہ ایک شفیق بزرگ کی مانند خاموش، باوقار اور صابر، جیسے میری توجہ کی منتظر ہو۔ کےٹو اور براڈ پیک دو رفیقوں کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔ ساتھ ساتھ مگر مزاج میں یکسر مختلف۔ ایک میں غرور اور للکار ہے، دوسری میں انکسار اور وسعت۔ کےٹو کی نوکدار چوٹی چیلنج کرتی جبکہ براڈ پیک کا پھیلا ہوا وجود گلے لگاتا محسوس ہوتا ہے۔
میں اسی تقابل میں گم تھی کہ میرے عقب میں زندگی آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگی۔ خیموں کے اندر سے ہلکی سرسراہٹیں اور پتھروں پر پڑتے قدموں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ ایک ایک کر کے خیموں کی زِپس کھلیں اور میرے ساتھی بھی باہر آ کر کےٹو کے حسن کے چشم دید گواہ بننے لگے۔ رات کی شدید سردی کے باعث رنگ برنگے خیموں پر کہر کی ایک ہلکی سی تہہ جمی ہوئی تھی۔ سورج آہستہ آہستہ افق سے ابھر رہا تھا اور اس کی سنہری کرنیں بلند و بالا چوٹیوں پر پھیلتی جا رہی تھیں۔ یوں ایک روشن اور خوبصورت دن کا آغاز ہو چکا تھا۔
کچن اسٹاف ناشتے کی تیاری میں مصروف ہو گیا، جبکہ دیگر عملہ روزمرہ کے ضروری امور نمٹانے لگ گیا۔ آج ناشتے کے بعد ہماری ٹیم نے کےٹو کو الوداع کہتے ہوئے کنکورڈیا کے برفانی میدان سے رخصت ہونا تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں خوشی سے زیادہ اداسی چھپی ہوئی تھی۔
آج ہمارا گروپ دو حصوں میں تقسیم ہونے والا تھا۔ مجھ سمیت انیس اراکین ناشتے کے فوراً بعد گوندو گورو لا جسے اختصار سے جی جی لا بھی کہتے ہیں عبور کرنے کے لیے علی کیمپ کی جانب روانہ ہونے والے تھے۔ جبکہ ہمارے چار ساتھی ندیم بھائی، فیصل بھائی، پنکش اور سعد، گائیڈ اقبال کی قیادت میں اسکولی واپس جا رہے تھے۔ ہمارے راستے اگرچہ کنکورڈیا سے جدا ہونے تھے مگر واپسی کی منزل ایک ہی تھی۔ ہم سب نے سکردو کے سمٹ ہوٹل میں دوبارہ اکٹھا ہونا تھا۔
میں جلدی سے تیار ہوئی اور اپنا سامان پیک کرنے لگی تاکہ ناشتے سے پہلے زیادہ سے زیادہ وقت کے ٹو کی سنگت میں گزار سکوں۔ آج سامان کی پیکنگ معمول سے ذرا مختلف تھی۔ چونکہ ہمارے پورٹرز کو بھی ہمارے ساتھ جی جی لا عبور کرنا تھا، اس لیے وزن کم کرنے کے لیے سامان محدود کرنا ناگزیر تھا۔ میں نے اپنے سامان کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ضروری اور ساتھ لے جانے والا سامان ایک بیگ میں رکھ کر ان پورٹرز کے حوالے کیا جو ہمارے ساتھ جی جی لا پار کر کے خصپانگ جا رہے تھے۔ جبکہ پچھلے آٹھ دنوں میں استعمال ہوا باقی سامان دوسرے بیگ میں ڈال کر گائیڈ اقبال اور اس کی ٹیم کے سپرد کیا، جو اسے واپس سکردو کے سمٹ ہوٹل پہنچانے والے تھے۔
آج کا دن ہم سب کے لیے غیر معمولی طور پر اہم اور خاصا چیلنجنگ تھا۔ میرے گروپ کے دیگر ساتھی بھی اپنی تیاری مکمل کر چکے تھے۔ تقریباً پونے آٹھ بجے ہم سب ناشتے کے لیے میس کیمپ میں جمع ہوئے۔ ناشتے کے دوران ہلکی پھلکی گفتگو جاری رہی، مگر ان لہجوں میں تشویش بھی تھی، شوق بھی اور جذبہ بھی۔ میں خاموشی سے سب کی باتیں سنتی رہی۔ اسی اثنا میں میرے ذہن میں ٹیم لیڈر عمیر حسن کا کہا ہوا ایک جملہ بار بار گونجنے لگا،
“ہمارا کوئی ٹیم ورکر اپنی جان خطرے میں ڈال کر آپ کو نہیں بچائے گا۔”
گزشتہ روز جی جی لا کی بریفنگ کے دوران کہے گئے اس سخت جملے نے مجھے مزید محتاط کر دیا تھا۔ یہ بات دراصل اسی لیے کہی گئی تھی کہ ہر ممبر اس چیلنج کی سختی کو پوری سنجیدگی سے سمجھے، اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیت کا ایمانداری سے جائزہ لے اور پھر فیصلہ کرے کہ اسے علی کیمپ کی جانب بڑھنا ہے یا اسکولی واپس لوٹنا ہے۔ ہمتِ مرداں مددِ خدا ہم انیس ممبرز اپنے فیصلے پر قائم تھے اور جی جی لا پار کرنے کے لیے پوری طرح تیار بیٹھے تھے۔
ناشتے کے فوراً بعد ٹیم کا عملہ اور پورٹرز حرکت میں آ گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے خیمے اُکھڑنے لگے اور سامان پیک ہونا شروع ہو گیا۔ ہر پورٹر نے تقریباً بیس کلو وزن اُٹھا کر جی جی لا عبور کرنا تھا۔ جب عملے کو کچھ فرصت ملی تو میں نے ان کے ساتھ کے ٹو کے سامنے تصاویر بنوائیں کہ پھر نہ جانے یہ منظر اور ان لوگوں کا ساتھ نصیب ہو یا نہ ہو۔
اسی دوران دو فوجی ہیلی کاپٹرز نجانے کہاں سے نمودار ہوئے اور کےٹو کے سامنے فضائی مشقیں کرنے لگے۔ اس عظیم الشان پہاڑ کے گرد چکر لگاتے یہ ہیلی کاپٹر بھنوروں کی مانند محسوس ہو رہے تھے۔ میں نرم دھوپ میں ایک پتھر پر بیٹھی، دلچسپی سے انہیں دائیں بائیں اڑتے ہوئے دیکھتی رہی۔
پونے نو بجے ٹیم لیڈر عمیر نے بریفنگ کا اعلان کیا اور ہم سب ایک دائرے کی صورت میں کھڑے ہو گئے۔ عمیر نے ہم انیس ممبرز کو چھوٹے چھوٹے گروپس میں تقسیم کیا اور ہر گروپ کے ساتھ ایک گائیڈ مقرر کر دیا۔ میرا گروپ تین افراد پر مشتمل تھا۔ میں، میرا ایک ساتھی اور عاطف۔ عاطف کا ذاتی پورٹر بھی ہمارے ساتھ تھا۔ ہماری رہنمائی کے لیے نور عالم کو تعینات کیا گیا، جو کنکورڈیا سے علی کیمپ اور پھر جی جی لا کی چڑھائی کے دوران ہمارا ساتھ دینے والا تھا۔ یہ بلاشبہ عمیر کی ایک نہایت مدبرانہ حکمتِ عملی تھی۔ ایسی منصوبہ بندی جو ہمیں محفوظ طریقے سے اور کامیابی کے ساتھ جی جی لا پار کروانے کے لیے کی گئی تھی۔
بریفنگ کے دوران دائرے میں کھڑے ہوئے میری نگاہیں کبھی برفانی ڈھلوانوں کی طرف اٹھتیں اور کبھی اپنے جوتوں پر جم جاتیں۔ میں پُر سکون چہرے کے ساتھ مسکرا رہی تھی مگر اندر ایک انجانی سی ہلچل تھی۔ دل کے کسی کونے میں خوف دبے پاؤں موجود تھا۔ میں خود سے سوال کر رہی تھی کہ کیا میں واقعی اس امتحان کے لیے تیار ہوں؟ عمیر کی آواز کانوں میں گونج رہی تھی، مگر میرا ذہن کسی اور ہی دنیا میں بھٹک رہا تھا۔ جی جی لا محض ایک درہ نہیں تھا، یہ خود کو آزمانے کا مقام تھا۔ جہاں کوئی دوسرا آپ کو نہیں کھینچ سکتا اور نہ سہارا دے سکتا ہے۔ ہر قدم اور ہر فیصلہ اپنی ذمہ داری پر اٹھانا تھا۔
میں نے ایک گہری سانس لی اور خود کو یاد دلایا کہ یہاں تک پہنچنا بھی کوئی اتفاق نہیں تھا۔ اس راستے کے ہر تھکا دینے والے دن اور ہر سرد رات نے مجھے اسی لمحے کے لیے تیار کیا تھا۔ مجھے اپنی ذات پر اعتماد اور اپنے گائیڈ نور عالم پر مکمل بھروسہ تھا، جو ان تمام راستوں سے مکمل شناسا تھا۔ میں نے سر اٹھا کر سامنے کھڑے اپنے ساتھیوں کی جانب دیکھا۔ سب کے چہروں پر اعتماد اور ٹھہراؤ تھا۔
ہمیں کنکورڈیا سے علی کیمپ تک اندازاً دس کلو میٹر کا سفر طے کرنا تھا۔ تقریباً نو بجے، کےٹو کے بالمقابل کنکورڈیا کی دائیں سمت سے، انیس ممبرز پر مشتمل ہمارا قافلہ ٹیم لیڈر عمیر حسن اور سینئر گائیڈ نیک اختر کی قیادت میں علی کیمپ کی جانب روانہ ہوا۔ اسی وقت، گائیڈ اقبال کی رہنمائی میں پیچھے رہ جانے والے چار ساتھی اسکولی کی سمت روانہ ہو گئے۔ یوں ایک ہی مقام سے دو الگ سفر شروع ہوئے۔
جب ہمارا گروپ اپنی سمت بڑھنے لگا تو میں نے پیچھے مڑ کر کنکورڈیا کو دیکھا۔ وہی خیمے، وہی خاموش پہاڑ مگر اب میں وہ نہیں رہی تھی جو یہاں پہنچی تھی۔ جی جی لا کی طرف اٹھنے والا پہلا قدم محض چلنا نہیں تھا، یہ خود پر یقین کا اعلان تھا۔ ہم سب قطار بنائے پتھریلی چڑھائیاں چڑھنے لگے۔ ایک دن کے آرام کے بعد دوبارہ ٹریکنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔ نور عالم میرے ساتھ ساتھ تھا۔ سانس پھول رہی تھی، مگر میں پوری احتیاط سے قدم جما کر آگے بڑھ رہی تھی۔
آج میں اپنی زندگی کا ایک نیا باب رقم کرنے والی تھی۔ کےٹو میرے عقب میں تھا، اور ہر اٹھتے قدم کے ساتھ کنکورڈیا کا رنگ برنگے خیموں سے سجا میدان پیچھے چھوٹتا جا رہا تھا۔ خیمے رنگین نقطوں میں بدل چکے تھے اور کےٹو دوبارہ بادلوں کی اوٹ میں آدھا چھپ چکا تھا، جیسے خاموشی سے ہمیں رخصت کر رہا ہو۔ یہ احساس عجیب سا تھا، جیسے ہم نے ایک محفوظ دنیا سے نکل کر کسی بے رحم حقیقت میں قدم رکھ دیا ہو۔
سامنے دو بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان، گھنے بادلوں میں ڈوبا پراسرار برفیلا درہ کانوے سیڈل میری توجہ کا منتظر تھا۔ یہ درہ ہمیشہ مجھے کسی جادوئی دنیا کی دہلیز سا محسوس ہوتا تھا۔ میں کبھی اس کی طرف دیکھتی اور کبھی پلٹ کر کےٹو کو، یہ جانتے ہوئے کہ زندگی میں ایسے مناظر بار بار نصیب نہیں ہوتے۔ آنے والے برسوں میں قسمت اور زندگی نے ساتھ نبھایا تو ایک نیا سفر اور نئی منزل ہو گی۔
کنکورڈیا سے نکلنے کے بعد ہم بالتورو گلیشیئر کے اوپری حصے پر تقریباً دو گھنٹے پتھروں پر چلتے رہے۔ ایک مقام پر میں نے نور عالم کو رکنے کا اشارہ کیا اور ہم سب سانس بحال کرنے کے لیے کچھ دیر پتھروں پر بیٹھ گئے۔ میرے بیگ میں فرحان، سعد اور بابر کی دی ہوئی انرجی جیلز اور پانی موجود تھا۔ پانی کے چند گھونٹ پینے کے بعد میں نے ایک انرجی بار کھائی ۔ چند ہی منٹ گزرے تھے کہ نور عالم نے دوبارہ اٹھنے کا اشارہ دے دیا۔
ہم نے سفر پھر سے شروع کیا اور کچھ دیر بعد ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں بائیں جانب کانوے سیڈل کا راستہ اوپر کی طرف نکلتا تھا جبکہ دائیں جانب وائن یا وگنی گلیشئیر کا آغاز ہو رہا تھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں چیلنج کی شدت بھی ایک نئی شکل اختیار کر رہی تھی۔ اس مقام سے آگے راستہ اپنی نوعیت بدلنے لگا۔ یہاں پتھریلا راستہ ختم ہو گیا اور سامنے سفید وسعت تھی۔ خاموش، بے کنار اور کسی حد تک ویران۔ میں نے لاشعوری طور پر قدموں کی رفتار کم کر دی۔ جمی برف پر رکھا جانے والا ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ ذرا سی لغزش کا مطلب صرف پھسلن نہیں، بلکہ چوٹ بھی ہوتا ہے۔
وائن گلیشیئر کے دونوں جانب برف سے ڈھکے پہاڑ خاموشی سے سر اٹھائے کھڑے تھے۔ اسی گلیشئیر پر چلتے ہوئے ہمیں علی کیمپ پہنچنا تھا۔ میرے قدموں کی رفتار سست پڑتی دیکھی تو نور عالم نے میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے ساتھ لے کر یوں چلنے لگا جیسے کوئی بزرگ اسکول جانے سے انکاری بچے کو زبردستی ساتھ لیے جا رہا ہو۔ جمی برف پر تیز قدموں کی چرچراہٹ کانوں کو بھلی لگ رہی تھی۔ میں پوری کوشش سے نور عالم کے قدموں سے قدم ملاتی رہی۔
میرا ساتھی اور عاطف پیچھے رہ گئے تو ہم ایک جگہ رک گئے تاکہ سب دوبارہ اکٹھے ہو سکیں۔ تھوڑی ہی دیر میں عاطف ہانپتے ہوئے قریب آئے اور نور عالم کو مخاطب کر کے بولے،
“بھائی، ہمارا کیا قصور ہے؟ آپ نے تو ہماری باقاعدہ دوڑ لگوا رکھی ہے۔”
یہ کہہ کر وہ پھولی سانس کے ساتھ ایک پتھر پر بیٹھ گئے۔ ان کے شکایت آمیز لہجے پر ہم سب مسکرا دیے اور اردگرد بکھرے پتھروں پر بیٹھ گئے۔ سب نے اپنے لنچ کے لفافے نکالے، بسکٹ اور خشک میوہ کھا کر کھوئی ہوئی توانائی بحال کی۔
دس منٹ کے مختصر آرام کے بعد نور عالم اٹھ کھڑا ہوا اور سادگی سے بولا،
“باجی، ہمیں اب چلنا ہو گا، ورنہ آگے جا کر بڑی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔”
میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا،
“نور عالم، ہم زندگی کی مشکلات سے بھاگ کر یہاں آئے ہیں اب یہاں بھی مشکلات ہمارا انتظار کر رہی ہیں؟”
یہ سن کر میرے ساتھیوں نے ہنستے ہوئے اپنے بیگ کاندھوں پر ڈالے اور دوبارہ سفر کا آغاز ہو گیا۔ کوئی ہم سے آگے تھا تو کوئی پیچھے مگر ہر ایک اپنی ہمت، اپنی رفتار اور اپنے حوصلے کے سہارے آگے بڑھ رہا تھا۔
کنکورڈیا اب ایک یاد بنتا جا رہا تھا۔ ہمارے دائیں بائیں برف پوش پہاڑ قطار در قطار ایستادہ تھے، جن کے دامن میں بکھرے ہوئے پتھر پرانی لینڈ سلائیڈنگز کا پتہ دے رہے تھے۔ ان پہاڑوں کے درمیان وائن گلیشیئر دور تک پھیلا ہوا تھا اور اس کے آخری سرے پر برف میں لپٹے بلند و بالا پہاڑ ایک مضبوط فصیل کی مانند دکھائی دیتے تھے۔ پگھلتی ہوئی برف سے شفاف پانی نالیوں کی صورت گلیشیئر پر بہہ رہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم کسی اور ہی سیارے پر آ نکلے ہوں جہاں گنتی کے چند انسانوں کے سوا اور کوئی ذی روح موجود نہ ہو۔
وائن گلیشیئر پر چلتے ہوئے ہمیں لگ بھگ دو گھنٹے گزر چکے تھے کہ اس پہاڑی فصیل سے کچھ پہلے نور عالم نے دائیں جانب ایک پہاڑ پر موجود ہموار سے قطعے کی طرف اشارہ کیا، جہاں ایک ننھا سا کیمپ دکھائی دے رہا تھا۔
“باجی، وہ ہے علی کیمپ۔”
دن کے سوا دو بج چکے تھے اور ہماری منزل اب زیادہ دور نہیں تھی۔ کیمپ کی جھلک نے دل کو تسلی دی اور قدموں میں ازخود تیزی آ گئی۔ تاہم علی کیمپ کی آخری چڑھائی سے پہلے گلیشیئر پر موجود چند گہری دراڑیں اور شگاف نہایت احتیاط سے عبور کرنا پڑے۔
جب ہم چڑھائی مکمل کر کے علی کیمپ پہنچے تو گھڑی ڈھائی بجا رہی تھی۔ دھوپ تیز اور چبھنے والی تھی۔ پورٹرز ہم سے پہلے ہی سامان کے ساتھ پہنچ چکے تھے۔ میں وہیں سامان کے پاس ایک پتھر پر بیٹھ گئی۔ عمیر نے میرے لیے الگ ایک چھوٹا سا خیمہ لگوا دیا، جبکہ باقی ساتھی آرام کی غرض سے کیمپ سائٹ پر نصب بڑے خیموں میں چلے گئے، جہاں زیادہ لوگوں کے ٹھہرنے کی گنجائش تھی۔ کچھ ہی دیر میں سامان بھی خیموں میں پہنچا دیا گیا۔ میں سخت تھکی ہوئی تھی اور رات کو جی جی لا کے لیے روانہ بھی ہونا تھا، اس لیے خیمے میں داخل ہوتے ہی نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا۔
ناہموار زمین اور نوکیلے پتھروں کے باوجود میں کچھ دیر گہری نیند سوئی رہی۔ بارش اور تیز ہوا کے تھپیڑوں سے خیمہ مسلسل پھڑپھڑاتا رہا اور میں سلیپنگ بیگ میں سمٹ کر پڑی رہی۔ آنکھ تب کھلی جب نور عالم کی آواز سنائی دی،
“باجی، کھانا لے لیں۔”
میں نے خیمے کی زِپ کھولی اور ہاتھ بڑھا کر ٹرے تھام لی۔ پانی ہمارے پاس وہی تھا جو کنکورڈیا سے بھر کر لائے تھے۔ اسی پر رات اور اگلا آدھا دن گزارنا تھا۔ بھوک خاص محسوس نہیں ہو رہی تھی، مگر یہ جانتے ہوئے کہ اگلا کھانا اگلی شام ملے گا میں نے دال چاول کی پوری کٹوری ختم کی۔
کھانے کے بعد نور عالم نے ماؤنٹین ٹی لا کر دی۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ خیمے کے باہر سے موسیٰ کی آواز آئی،
“باجی، گلاب جامن لے لیں۔”
میں ہنس پڑی، ایک گلاب جامن اٹھایا اور کہا،
“موسیٰ، اس سویٹ ڈش کے لیے کیا خوب دن چُنا ہے تم نے، لگتا ہے قربانی سے پہلے بکرے خوب تیار کیے جا رہے ہیں۔”
علی کیمپ کی شدید سردی اور شام کے دھندلکے میں بندو خان لاہور سے میرے لائے گئے گلاب جامن سب ساتھیوں میں بانٹ دیے گئے۔ چاشنی اور ذائقے نے لمحہ بھر میں ہم سب کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔
شام کا اندھیرا گہرا ہونے سے پہلے میں نے اپنا بیگ دوبارہ چیک کیا۔ انرجی جیلز، ہیڈ ٹارچ، اضافی سیل، دستانے اور پانی سب اپنی جگہ موجود تھا۔ کچھ وقت باقی تھا اس لیے میں دوبارہ سلیپنگ بیگ میں سمٹ گئی۔ باہر پورٹرز اور عملے کی مدہم آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ رات گہری ہوتی گئی اور جب دل کے کسی کونے میں خوف نے سر اٹھایا میں نے اسے وہیں دبا دیا۔
یہ رات چیلنج سے بھرپور تھی، مگر شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ جی جی لا عبور کرنے کا میرا ارادہ اسی دن پختہ ہو گیا تھا، جس دن میں نے پہلی بار کےٹو ٹریک کرنے کا سوچا تھا۔ نو دن کے کٹھن سفر کے بعد میں اس مقام پر کھڑی تھی جہاں سے اب صرف آگے بڑھنا تھا اور واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ میں پُرعزم تھی، اپنے حوصلے اور ہمت سے آگاہ بھی اور میں آج رات نور عالم کی رہنمائی میں جی جی لا سر کرنے کے لیے پوری طرح تیار تھی۔
جاری ہے۔۔۔
میری کے ٹو کہانی (تیرہویں قسط )



