کراچی(نیشنل ٹائمز) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے صنعتوں پر سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے عائد کیے گئے کیپٹو ٹیرف کے خلاف دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے کیپٹو ٹیرف کے اطلاق کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں صنعتوں کو بڑا ریلیف فراہم کرتے ہوئے سوئی سدرن گیس کمپنی کے اقدام کو قانون کے منافی قرار دیا۔ سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی نے فروری 2025 میں صنعتوں پر کیپٹو ٹیرف عائد کیا تھا، جس کے خلاف درجنوں صنعتوں کی جانب سے عدالت سے رجوع کیا گیا۔ وکلاء کے مطابق کیپٹو ٹیرف کے نفاذ سے صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور اضافی مالی بوجھ صنعتوں پر ڈال دیا گیا، جو آئین اور قانون کے تقاضوں کے برخلاف ہے ۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ صنعتوں پر کیپٹو ٹیرف کا نفاذ غیر آئینی ہے اور اس کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ کیپٹو ٹیرف کی مد میں اب تک صنعتوں سے وصول کیے گئے واجبات کو آئندہ آنے والے بلوں میں ایڈجسٹ کیا جائے ۔
ایس ایس جی سی کا صنعتوں پر کیپٹو ٹیرف کا اطلاق غیر آئینی قرار



