پاکستان کی شوبز، اشتہارات اور لائف اسٹائل کی تاریخ میں اگر کچھ نام حقیقی طور پر نمایاں دکھائی دیتے ہیں تو ان میں سب سے روشن نام رخشندہ خٹک کا ہے۔ 1960 کی دہائی سے دو دہائیوں تک وہ پاکستان کے ہر بڑے برانڈ، بڑے اشتہار اور نمایاں شوٹ کا چہرہ رہیں۔ اخبار، میگزین، بل بورڈ اور ٹیلی وژن — ہر جگہ ان کی موجودگی گویا ایک معیار اور پہچان بن گئی تھی۔ لیکن ان کی کہانی صرف شہرت کی کہانی نہیں، بلکہ محنت، قربانی، ہنرمندی اور مسلسل سیکھنے کی ایک مکمل داستان ہے۔
رخشندہ خٹک ایک خٹک والد اور برمی والدہ کی بیٹی تھیں، بلند قامت اور پرکشش شخصیت کی مالک۔ جب انہوں نے ماڈلنگ کا آغاز کیا، اس وقت پاکستان میں ٹاپ ماڈل کو ایک شوٹ کا معاوضہ تقریباً ایک ہزار روپے ملتا تھا جبکہ انہیں صرف تین سو روپے دیے جاتے۔ اُس دور میں جب ایک امریکی ڈالر تقریباً ساڑھے چار روپے کا تھا، یہ فرق بہت بڑا تھا۔ ان کے ہونے والے شوہر، پاکستانی جیولر حسین جویری نے جب یہ ناانصافی دیکھی تو انہوں نے ڈائریکٹر سے کہا کہ ان کا معاوضہ دس گنا بڑھایا جائے — اور آخرکار ایسا ہی ہوا۔ اس کے بعد رخشندہ خٹک پاکستان کی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی ماڈل بن گئیں۔
ان کی موجودگی جہاں بھی ہوتی، لوگ متوجہ ہو جاتے۔ مرد ان کی طرف نیم نگاہی سے دیکھتے، خواتین ان کے لباس اور انداز کو پرکھتیں۔ وہ ساڑھی پہنتیں تو پورے معاشرے میں ٹرینڈ بن جاتا۔ لیکن رخشندہ خٹک صرف ایک چہرہ نہیں تھیں — وہ غیر معمولی طور پر باصلاحیت، پڑھنے لکھنے کی شوقین اور کئی زبانوں پر عبور رکھنے والی خاتون تھیں۔ 1965 میں سینٹ میری راولپنڈی سے سینئر کیمبرج پاس کیا، فارسی، پشتو، اردو، انگریزی، پنجابی اور جرمن زبان جانتی تھیں۔ انہیں اگاتھا کرسٹی کے ناول پڑھنے کا جنون تھا اور اکثر پوری رات کتاب ختم کیے بغیر چین نہ آتا۔
وہ اپنے کپڑے خود ڈیزائن کرتیں، گھر خود سجاتیں، اور بہترین پکوان تیار کرتیں — برمی کھانے سے لے کر پاکستانی ڈشز تک۔ 1970 میں حسین جویری سے ان کی شادی ہوئی اور گھریلو زندگی میں وہ اسی طرح ڈھل گئیں جیسے بطخ پانی میں تیرتی ہے۔ شکار، پالتو پرندے، سنہری مچھلیاں — یہ سب ان کی زندگی کا حصہ تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ مسلسل خود کو بہتر بناتی رہیں۔
رخشندہ خٹک مارشل آرٹس میں بھی نمایاں رہیں۔ وہ کراٹے میں بلیک بیلٹ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون اور جیو جتسو میں بلیک بیلٹ لینے والی دوسری خاتون تھیں۔ 1971 کی فلم ’’آپریشن کراچی – جین بانڈ 008‘‘ میں انہوں نے خطرناک اسٹنٹس خود کیے۔ اس فلم کو ایران میں فارسی اور بیرون ملک انگریزی میں ڈب کیا گیا — جو اُس وقت ایک انقلابی تجربہ تھا۔
1978 میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں وہ خاندان سمیت پاکستان چھوڑ گئیں۔ کچھ عرصہ لندن میں رہنے کے بعد وہ کینیڈا جا بسیں۔ نئی سرزمین پر زندگی آسان نہیں تھی۔ کراچی کی روشنیوں، رونقوں اور سرگرمیوں کی یاد انہیں شدت سے ستاتی تھی۔ ابتدا میں انہوں نے کپڑوں کا بوتیک چلایا، پھر سدرن البرٹا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں داخلہ لیا اور کھانا پکانے اور بیکنگ میں اعزازات حاصل کیے۔ انہوں نے ’’سیکھنا کبھی نہیں چھوڑا‘‘ — یہی ان کی اصل پہچان تھی۔
ان کے بیٹے چنگیز جویری بتاتے ہیں کہ ان کی ماں کے پکوان آج بھی کیلگری کے کئی ریستورانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے کینیڈا میں ویڈیو اسٹور بھی چلایا۔ ایک بار ایک ڈاکو نے سٹور لوٹنے کی کوشش کی تو رخشندہ خٹک نے اپنی مارشل آرٹس مہارت سے اسے نہ صرف ناکام بنایا بلکہ بھگا کر چھوڑا۔
کینیڈا منتقل ہونے کے باوجود جب بھی وہ پاکستان آتیں، اشتہارات، فیچرز اور مضامین ان کا استقبال کرتے۔ 1986 میں ایک مضمون میں انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے لکھا گیا: “ویلکم ہوم — رخشندہ!”
17 دسمبر 2011 کو 62 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ لیکن ان کی وراثت زندہ ہے — ماڈلنگ میں پیشہ ورانہ معیار، عورت کے خودمختار کردار، سیکھنے اور آگے بڑھنے کی لگن، اور زندگی سے بھرپور اعتماد۔
ان کے بیٹے نے ان کے نام سے سدرن البرٹا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں ایک برسری قائم کی، تاکہ نئی نسل کو اپنا راستہ خود بنانے میں مدد ملے۔ رخشندہ خٹک کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ شہرت تب ہی معنی رکھتی ہے جب اس کے پیچھے محنت، کردار اور لگن ہو۔ وہ واقعی پاکستان کی پہلی ’’سپر ماڈل‘‘ ہی نہیں — ایک بھرپور انسان، ایک بہادر خاتون، اور اپنے وقت سے آگے کی شخصیت تھیں۔
رخشندہ خٹک — پاکستان کی پہلی سپر اور بولڈ اور سب سے مہنگی ماڈل



