عابد حسین قریشی
زندگی کا ایک اور سال مکمل ہوا، لوگ سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہیں، مگر حساب کتاب میں ایک سال عمر کم ہوجاتی ہے، عمر کم ہونے پر مبارکباد،الٹا لا اس چڑیا گھر کا، زندگی اتنی سبک رفتاری سے گزرتی ہے، کہ مہلت ہی نہیں ملتی کہ کبھی خود کلامی بھی کریں۔ اپنے آپ پر غور و فکر بھی کریں۔ ہم جتنا لوگوں کے معاملات کی ٹوہ لگاتے ہیں ، کبھی اس سے نصف بھی اپنے آپ پر غور و فکر کر لیں۔ اپنا محاسبہ تو ممکن نہیں ہوتا، مشاہدہ ہی کرلیں تو بڑی بات ہے۔ میں کیا ہوں، کیوں ہوں ہوں بھی کہ نہیں ، کبھی کبھار ان سوالات کا سامنا کریں، جواب نہ بھی بن پائے تو کچھ دیر خاموشی سے مراقبہ کی حالت میں رہیں، کچھ نہ کچھ جواب تو آئے گا، اچھا نہ سہی برا ہی سہی، انسان بھی کیا لاجواب تخلیق خداوندی ہے، ہر وقت اپنی ستائش چاہتا ہے۔ کچھ کرکے بھی اور بہت کچھ نہ کرکے بھی۔ خود ستائشی ایک لا علاج مرض ہے۔ گزری زندگی کے ماہ و سال پر نظر دوڑاتے ہیں، کہ کیا کھویا اور کیا پایا۔ خالی ہاتھ دنیا میں آئے تھے، مالک کائنات کے فضل و کرم سے وہ کچھ بھی ملا، جسکی نہ تمنا کی تھی ، نہ شاید ڈھنگ کی کوشش۔ وہ تو سراپا رحمت و فضل ہے، دینے پر آجائے تو کون اسے روک سکتا ہے، اللہ کی کتاب بھی تو یہ کہتی ہے، کہ اگر اللہ تعالٰی کسی پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے تو کون ہے جو اسے بند کر سکتا ہے،ہماری ساری لغزشوں اور کوتاہیوں کے باوجود اگر زندگی رواں دواں ہے، سکون و آشتی ہے، تو اللہ کی رحمت اور اسکا فضل شامل حال ہے۔ ورنہ سورہ فاطر کی ایک آیت میں تو اللہ تعالٰی یہ بھی فرماتے ہیں، کہ” اگر اللہ لوگوں کے اعمال یا انکے کرتوتوں پر پکڑنے لگتا تو زمین پر چلنے والے کسی جاندار کو نہ چھوڑتا، لیکن وہ ایک معین مدت تک کے لئے انکو مہلت دے رہا ہے۔”” تو ایسے رحیم و کریم اللہ کی موجودگی میں صرف شکر اور استغفار ہی بندےکے لئے اسکی نعمتوں میں برکت کا سبب اور اسکی کوتاہیوں کا مداوا بن سکتا ہے۔
حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ آج ہر گزرا لمحہ خوبصورت اور دلکش نظر آتا ہے۔ بچپن سے جوانی، لڑکپن، ادیھڑ عمری اور اب بڑھاپے میں قدم رکھ کر سبھی تو دیکھ چکے۔ سبھی کی اپنی دلکشی اور سحر تھا۔بہت کچھ کرنا چاہتے تھے نہ کر سکے، اور بہت سا وہ کردیا جسکی نہ منصوبہ بندی تھی نہ کبھی سوچا تھا۔ بچپن اور نوجوانی کا ابتدائی حصہ تو لا ابالی پن میں گزر گیا۔ نہ بہت سی ضروریات نہ توقعات، جو مل جاتا راضی رہتے ۔صحت تھی، وقت تھا، مگر پیسے نہیں تھے۔ اس دنیا میں روپے پیسے کے بغیر جوانی پوہ کی راتوں کی چاندنی کی طرح ہی ہوتی ہے ، جسے سخت سردی میں چھت پر جا کر دیکھنا سخت مشکل کام ہوتا ہے۔ پھر آپ کے پاس روپے پیسے کا مطلب صرف دستر خواں میں وسعت ہی نہیں ہوتا بلکہ آپکے حلقہ احباب میں ایک ہجوم دلبراں بھی ہوتا ہے۔ البتہ صنف کا انتخاب آپکی صوابدید پر ۔ ہر بندہ جوانی سے عملی زندگی کی دہلیز میں داخل ہوتے وقت ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔ کوئی وکالت کرتا ہے، تو کوئی ملازمت، کوئی بزنس کرتا ہے تو کوئی دکانداری، کوئی زمیندارہ کرتا ہے تو کوئی دیار غیر میں اپنا رزق تلاش کرتا ہے۔ مگر جہاں بھی ہو بہرحال محنت کرنا پڑتی ہے۔ دن کو پسینہ اور رت جگوں سے اس زندگی کی دوڑ میں آبلہ پائی کرنی پڑتی ہے۔ کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا۔ اس تگ و دو اور مسابقت والی زندگی میں کئی کندن بن کر ابھرتے ہیں ، اور کئی راستہ میں ہی سفر ادھورا چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر زندگی بھی کیا کیا موڑ مڑتی ہے۔ بچے سے جوان اور جوانی سے بڑھاپے کا سفر کتنی دلکش یادیں نمکین بھی اور شیریں بھی ساتھ ساتھ لیکر چلتا ہے۔ کتنے دوست ملتے ہیں اور بچھڑ جاتے ہیں۔ جنہاں باجھ اک پل نیئں ساں جیندے، او صورتاں یاد نہ رہیاں۔ بڑھاپے کا آغاز تو لوگ چاہے نچائے قبول کر لیتے ہیں مگر اسکے انجام سے ڈرتے ہیں۔ کہ بڑھاپا زندگی اور اپنوں کے بہت سے رخ بے نقاب کر دیتا ہے۔ بہت سی تلخ حقیقتیں آپ پر منکشف ہوتی ہیں ۔ بہت سے لوگ جو ایک وقت میں آپ پر واری نیاری ہوتے ہیں، بڑھاپے میں چہرے کی سلوٹوں سے گبھرانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس عمر میں آپکی اچھی صحت، نیک اور تابعدار اولاد، با وفا اہلیہ اور کچھ مالی آسودگی اللہ تعالٰی کی خاص مہربانیوں میں سے ہوتے ہیں۔ اور اس بڑھاپے میں بعض اوقات انسان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے۔ وقت بھی ہوتا ہے، دولت بھی ہوتی ہے، فرصت بھی ہوتی ہے اور ایک دھڑکتا ہوا دل بھی ہوتا ہے ،مگر وہ کچھ نہیں ہوتا جس کے سہارے ان نعمتوں سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ سو زندگی غنیمت ہے، اسکا ہر لمحہ قیمتی ہے، اسے مثبت طرز فکر سے لازوال بنایا جاسکتا ہے۔ اسکے ہر لمحہ سے لطف اندوز ہوکر،شکر گزاری سے، مخلوق خدا کی خدمت سے، اپنوں سے پیار کرکے اور غیروں سے دعائیں لیکر۔محبت تقسیم کرکے، کہ محبت بانٹنے والوں کے حصہ میں ہی محبت آتی ہے۔ جب عروج کی منازل طے کر رہے ہوں، تو راستہ میں پھول پھینکتے جائیں، واپسی پر پھول ہی ملیں گے۔نیکی اور احسان کرنے کے لئے انتظار نہ کریں کہ منزلیں گرد کی مانند اڑی جاتی ہیں۔



