پاکستان آزاد ہوا تو دنیا میں محظ 34 ممالک کے پاس اپنی ائیر لائن تھی ۔ چند سال بعد 1955میں PIA کا آغاز ہوا تو ہم 35 واں ملک کے طور پر ابھرے۔
آج دنیا کے 196 ممالک میں صرف 16 چھوٹے ممالک ایسے ہیں جن کے پاس اپنی قومی ائیر لائن نہیں اور خیر سے آج پاکستان 17ویں ملک کے طور پر ان میں شامل ہونے جا رہا ہے
پی آئی اے کی تاریخ
10 جنوری 1955ء کو پی آئی اے کا قیام عمل میں آیا۔
1955 میں قاہرہ اور روم کے راستے لندن کے لیے بین الاقوامی پروازوں کا آغاز کیا۔
مارچ 1960 میں بوئنگ 707 شامل کر کے جیٹ طیارے چلانے والی پہلی ایشیائی فضائی کمپنی بن گئی۔
مارچ 1962 میں امریکی خاتونِ اوّل جیکولین کینیڈی نے پی آئی اے کے ذریعے پاکستان سے لندن تک کا سفر کرنے پر وہ تاریخ ساز لفظ کہے جو ہمارا سلوگن بن گئے
” Great people to fly with PIA”
” باکمال لوگ ۔ لاجواب سروس “
29 اپریل 1964 کو چین کے لیے پرواز کرنے والے کسی بھی غیر کمیونسٹ ملک کی پہلی ایئر لائن بن گئی۔
10 مئی 1964 کو پی آئی اے ماسکو کے راستے یورپ کے لیے پروازیں کرنے والی پہلی غیرروسی ایئر لائن بن گئی۔
1970ء کی دھائی میں پی آئی اے نے دیگر فضائی کمپنیوں کو تیکنیکی امداد فراہم کی تھی جن میں چین ، فلپائن اور مالٹا وغیرہ کی فضائی کمپنیاں شامل ہیں۔
1974ء میں پی آئی اے نے پہلی بار کارگو سروس کو متعارف کروایا تھا۔
1980ء میں 60 جہازوں کے ساتھ ساؤتھ ایشیاء کی سب سے پڑی ائیر لائن اور دنیا کی 10 بہترین ائیر لائنز میں شمار ہونے لگی
جو تصویر آپ دیکھ رہے ہیں یہ بھی 1980 میں شائع ہونے امریکی اخبار کی ہے جو بتا رہا تھا کہ دنیا میں ہر 6 منٹ کے بعد PIA یا تو کہیں لینڈ کر رہی ہوتی ہے یا پرواز ۔۔
1985 میں متحدہ عرب امارات کی ایمریٹس ایئر لائن کے قیام اور تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
اور پھر بس ــــــــــــــــــــــــــــ
یہ وہ آخری سال تھے جس کے بعد خوشی کی خبر انی بند ہو گئیں ۔
اس ادارے کی بنیاد میں پہلا چوہا جنرل ضیاء الحق چھوڑ چکے تھے ۔ سیاستدانوں اور سول و عسکری عہدے داران کے لئے مفت فضائی سفر کا چارہ ڈال کے ۔
پھر 1993 میں جنرل صاحب کے سیاسی فرزند نے 2 نجی ایئر لائنز کو پاکستان میں اندرون ملک کام کرنے کی اجازت دی جس نے پی آئی اے کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔
ایک تھی ائیر بلیو ، دوسری شاہین ائیر ۔ نواز شریف نے دونوں لائسنس اپنے خاص بندوں کو عنایت کئے۔
گیم یہ کھیلی گئی کہ پی آئی اے میں اچھی شہرت کے حامل گراؤنڈ اور فضائی سٹاف کو ان دونوں پرائیویٹ کمپنیوں میں دھکیل دیا گیا ۔ جبکہ پی آئی اے میں نئی بھرتیاں شروع کی گئی ۔ وہ بھی ایک کی جگہ دو دو اور تین تین افراد ۔ سب پٹواری ( بعد ازاں جیالے ) ۔ سب نالائق اور سفارشی ۔
نتیجتاً اگلے 8 سالوں میں ایک جہاز پر معمور عملے کی زیادہ سے زیادہ حد 27 افراد کو روندتی ہوئی 85 تک جا پہنچ ۔
پی آئی اے کے بیرون ممالک، خصوصاً یورپی ممالک کے دفاتر میں افسران کی تعداد میں غیر ضروری اضافہ اور ان پر اپنے رشتے داروں اور ان کے بچوں کو بھرتی کروانے کے عمل نے ادارے کی کمر توڑدی ۔
80ء کی دہائی میں 60 جہازوں اور 2100 ملازمین کے ساتھ منافع کماتی اور راج کرتی قومی ائیر لائن آج 30 جہازوں ( جن میں 20 پرواز کے قابل نہیں ) اور 7200 ملازمین کے ساتھ تباہ حال ہے ۔
پی آئی اے نے 1980ء کی دھائی تک خاصا عروج دیکھا اور “باکمال لوگ لاجواب سروس” اس کی پہچان تھی لیکن نجکاری کے نام پر اس کا بیڑا غرق کیا گیا۔ 1987ء تک ایک قومی ادارے کی صورت میں پی آئی اے ، منافع میں چلتی رہی لیکن اس کے بعد صرف 2006/07 ہی میں منافع کما سکی۔
2016 کے آخر تک، پی آئی اے ، تین ارب ڈالر کی مقروض تھی اور اس کا سالانہ خسارہ 88 ارب روپے تھا۔ جبکہ اج اس کے کل اثاثے 73 ارب روپے کے ہیں ۔
پچھلی سال بولی ناکام اسلئے ہوئی کہ صرف ایک بولی دہندہ سامنے آیا وہ بھی 10 ارب کی بولی کے ساتھ ۔ ساتھ یہ شرط بھی کہ وہ پی ائی اے کے قرضوں اور 7200 ملازمین کی ذمہ داری نہیں لے گا ۔
اس شاندار ادارے کو پچھلے 35 میں عرش سے فرش پر لانے والے آج اس کی نیلامی کریں گے ۔ دیکھتے ہیں قیمت 10 ٹکوں سے کتنی زیادہ ملتی ہے ؟



