عابد حسین قریشی
قرآن کریم اللہ تعالٰی کی آخری الہامی کتاب ہے، جو نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی۔ اس کا ایک ایک لفظ ایسی شاندار قدرت کاملہ کی تخلیقات کی گرہیں کھولتا چلاجاتا ہے، کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالٰی تواتر سے اپنی اس مقدس کتاب میں تخلیق کائنات کے راز منکشف کرتے ہیں، کتنے دن اس کائنات کو ، اس ارض و سما کو بنانے میں لگے، کس طرح زمین اور آسمان کو موجودہ ترتیب و تشکیل میں آنے کا حکم دیا گیا اور کس طرح انہوں نے حکم خداوندی کی تعمیل کی۔ کس طرح پہاڑ اور سمندر، راستے اور کہکشائیں، درخت اور۔ آبشاریں، چرند اور پرند پیدا کئے گئے۔ کس طرح ایک اندازے کے مطابق سب جانداروں کی ضروریات کی سب چیزیں زمین میں رکھی گئیں جو تا ابد انسانی اور حیوانی ضروریات پوری کرتی رہیں گی۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر 29 کے پہلے حصہ میں اللہ تعالٰی کا یہ فرمانا،” کہ وہی تو ہے، جس نے تمہارے لئے زمین کے اندر جو سب کچھ ہے پیدا کیا ہے۔” لہزا اسکے بعد کسی سائینسی توجیہہ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی کہ زمین کے اندر موجود قدرتی خزانے، پانی ، معدنیات، نبادات و جمادات اور انسانی خوراک کے ذخائر کہاں سے اور کس طرح پیدا ہوئے اور کہاں سے آئے۔ کس طرح قدرت نے سورج اور چاند کو ایک مدار میں چلنے کو کہا اور کس ترتیب اور ڈسپلن سے یہ دونوں ایک دائرے میں چل رہے ہیں۔ نہ کبھی سورج ایک منٹ لیٹ نکلا ہے، نہ وقت سے پہلے غروب ہوا ہے، نہ ہی چاند نے راستہ بدلا ہے، یا اپنی رفتار کم کی ہے۔ ہوا مختلف رفتار سے مختلف اوقات میں چلتی ہے، کبھی آندھی کی صورت میں، کبھی سبک خرامی کی صورت میں، کبھی مشرق سے مغرب اور کبھی شمال سے جنوب چلتی ہیں۔ اللہ تعالٰی کے علاوہ کون ہے، جو اس ہوا کو کنٹرول کرتا ہے۔ سمندر کے اندر جو لاکھوں کی تعداد میں آبی مخلوق ہے، اسے کون پیدا کرتا ہے، کون اسکی خوراک کا بندوبست کرتا ہے، کون سمندر کی تند و تیز لہروں میں سے بھی کشتیاں اور جہاز بخریت گزار کر لے جاتا ہے۔ سمندر کے اندر میلوں تک گہرائی ہے۔ کبھی کسی نے غور کیا کہ سمندر کے اندر اتنا گہرا پانی کہاں سے آیا۔ کیا اللہ تعالٰی کے علاوہ بھی کوئی اس پانی اور اسکے اندر ۔مخلوق کی خوراک کا بندوبست کر سکتا تھا۔ صرف سورہ رحمان کو ہی دیکھ لیں، کس قدر تفصیل کے ساتھ اللہ تعالٰی کی تخلیقات اور مہربانیوں کا ذکر ہے۔ کون ہے جو ایک ہی سمندر میں میٹھے اور کھاری پانی کو اس طرح الگ الگ کرتا ہے کہ ایک ساتھ بہنے کے باوجود دونوں اپنی حد سے تجاوز نہیں کرتے۔ جانوروں کے لئے چارہ پیدا کرنا، ان سے دوددھ کا بندوبست کرنا، بعض جانوروں کو بار برداری کے لئے استعمال کرنا، شہد کی مکھیوں کو پہاڑوں اور درختوں پر چھتے لگانے اور شہد بنانے اور حاصل کرنے کا طریقہ بتانا، کیا چیونٹی جیسی حقیر مخلوق کو نظم و ضبط سکھانا، یہ سب کیا قدرت کے مظاہر نہ ہیں، جو سورہ الحجر، سورہ النمل اور سورہ النحل سے پوری طرح عیاں ہیں۔ سورہ النحل میں تو فرمان الہی کچھ یوں ہے، کہ وہی تو ہے، جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو، اسی پانی سے تمہارے درخت بھی سیراب ہوتے ہیں اور تمہارے لئے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور بھی اگاتا ہے۔ اسی اللہ نے تمہارے لئے دریا بنائے اور ان میں انسانوں کے لئے تازہ گوشت اور انہیں خدا کا فضل اور معاش تلاش کرنے کا سبب بنایا۔ اسی نے زمین پر پہاڑ جما دیئے تاکہ زمین لڑھک نہ جائے۔” سمندر بے کراں سہی، انکی وسعت اور گہرائی بے پایاں سہی، ان میں اٹھنےطوالے طوفان تند و تیز سہی، اور انکے بھنور خوفناک اور خطرناک سہی، لیکن ان تمام طغیانیوں، اور قہرمانیوں کے باوجود یہ سب اللہ کے حکم کے تابع اور پابند ہیں، اور اپنے دوش پر اٹھائے کشتیوں اور جہازوں کو بحفاظت منزل مقصود تک پہنچا رہے ہیں، یہی تو وہ مظاہر قدرت کی جھلک ہے، کہ عقل حیران و ششدر رہ جاتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالٰی نے اپنی ہر اس نعمت کا ذکر فرمایا ہے، جو اس نے تخلیق کائنات سے قیامت تک اس نظام ہستی کو چلانے کے لئے ارض و سما میں پیدا فرمائیں۔ انسانی سہولت اور زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لئے لا تعداد بلکہ لا محددو نعمتوں کی اس قدر فراوانی، وسعت اور دستیابی کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ سب مظاہر قدرت اس بات کا تقاضا کرتے ہیں، کہ انسان اللہ کا شکر گزار بندہ بن کر اس فانی دنیا کی زندگی اطاعت و بندگی میں گزار دے۔ مگر لوگ ان نعمتوں کا شکر تو درکنار ان پر غور و فکر بھی نہیں کرتے، حالانکہ اللہ کی کتاب تو ان مظاہر قدرت پر مسلسل غور و تدبر کی دعوت دے رہی ہے۔



