جنرل اے کے نیازی: ایک بہادر جنرل جسے تاریخ نے مجرم بنا دیا

اب ذرا چلتے ہیں جنرل نیازی کی تاریخ دیکھ لیتے ہیں کہ کون تھے جنرل امیر عبداللہ نیازی المعروف جنرل نیازی؟
جنرل اے کے نیازی 1915 میں پیدا ہوئے۔ بچپن سے ہی ایک قابل اور ذہین طالبِ علم مشہور تھے۔ تعلیمی میدان میں ہمیشہ ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ تعلیم کے بعد انہوں نے برٹش آرمی میں کمیشن حاصل کیا اور اپنی بہترین کارکردگی اور ذہانت کے سبب جلد ہی ان کا شمار بہترین آفیسرز میں ہونے لگا۔
1942 کی جنگِ عظیم میں برما کی سرزمین پر وہ انتہائی بےجگری اور دلیری سے لڑے اور کئی مواقع پر دشمن کو اپنی ذہانت سے شکست دی۔ اس بہادری کے صلے میں برطانیہ نے انہیں “ٹائیگر” کا خطاب دیا اور انہیں پروموشن کے ساتھ ساتھ بہادری کے میڈلز سے بھی نوازا گیا۔
1965 کی جنگ میں بھی انہوں نے اپنے “ٹائیگر” ہونے کے لقب کی لاج رکھی اور کئی موقعوں پر دشمن کو رسوا کر کے واپس بھیجا۔ اس جنگ میں بھی انہیں کئی میڈلز سے نوازا گیا۔
1971 میں جنرل ٹکا خان کے “آپریشن سرچ لائٹ” لانچ کرتے وقت بھی جنرل نیازی نے آگے بڑھ کر خود کو پیش کیا اور کمان سنبھالی، جبکہ ان سے کہیں بڑے اور تجربہ کار جنرلز اس آپریشن کو لیڈ کرنے سے انکار کر چکے تھے۔ پاکستان کو ایسی غیر متوقع جنگ کے نتائج شروع دن سے ہی نظر آ رہے تھے۔ جس وقت ہم سیاسی حل کے چکروں میں تھے، بھارتی فوج کئی ماہ کی تیاری کے بعد مکمل تیار ہو چکی تھی۔
34000 سے 35000 کے قریب پاک فوج کے مقابلے میں لاکھوں کی تعداد میں مکتی باہنی کے تربیت یافتہ دہشت گردوں نے پورے مشرقی پاکستان میں اُدھم مچا دیا تھا، جن میں ایک بڑی تعداد بنگالیوں کے بھیس میں بھارتی فوجی اہلکاروں اور خفیہ ایجنسی کے لوگوں کی بھی شامل تھی۔ یہاں تک کہ انہوں نے انڈین کی ایماء پر ڈھاکہ میں باقاعدہ حملہ کر دیا اور خانہ جنگی کی سی صورتحال پیدا ہو چکی تھی۔
مکتی باہنی کے ہزاروں دہشت گردوں کو پاک فوج کی وردی پہنا کر کھلا چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے ملکی املاک کو بے دریغ اور نہایت بے دردی سے نقصان پہنچایا، لوگوں کو سرِعام قتل کیا، عورتوں کی عصمت دری کی گئی، جس کا الزام آج تک پاک فوج کے سر تھوپا جاتا ہے۔ اس کا اعتراف خود بھارتی آفیسرز کر چکے ہیں۔ اس کا بھی جواب اگلی کسی تحریر میں ضرور دوں گا، ان شاء اللہ۔
ان سارے حالات کے باوجود جنرل نیازی نے اس مسئلے کے سیاسی حل کے لیے دونوں فریقوں کو منانے کی کوشش کی اور بار بار اس بات کا یقین دلاتے رہے کہ ہماری سیاسی قیادت ملکی حالات کو دوبارہ معمول پر لا سکتی ہے۔ لیکن دونوں جانب سے سیاسی قیادت، جس میں سب سے بڑا قصور بھٹو کا تھا، لیکن اب مجیب الرحمان کو بھی راستہ مل چکا تھا۔
حالات بدتر سے بدتر ہوتے گئے۔ 3 دسمبر 1971 کو پاکستانی ائیر فورس نے بھارتی ائیربیسز پر حملہ کر دیا۔ جنگ کی شروعات کا آرڈر بڑی جلدی میں آیا اور جنرل نیازی کو ریڈی ہونے کا آرڈر دیا گیا، جبکہ اوپر بتا چکا کہ جنرل نیازی ان حالات کو قابو کرنے کی کوشش میں تھے۔
جنگ کا حکم ملنے کے باوجود بھی جنرل نیازی نے اپنے اعصاب پر قابو پاتے ہوئے سب سے بہترین حکمتِ عملی اپناتے ہوئے تمام بڑے شہروں کو فوجی قلعوں میں تبدیل کرنے کا حکم دے دیا تاکہ انڈیا کو ہر طرف سے لڑ کر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے، اور ایسا ہی ہوا۔ ہر محاذ پر بھارت کو منہ کی کھانی پڑ رہی تھی۔
ایک قابلِ ذکر بات یاد رہے، جنگ کے دوران جنرل نیازی آرام سے نہیں بیٹھے بلکہ اپنے ہیلی کاپٹر میں جنگی علاقوں کا مسلسل دورہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ بارڈر پر فارورڈ بیسز پر بھی اپنے جوانوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے وقتاً فوقتاً موجود رہے۔ جنگ میں زخمی ہونے والے جوانوں کو وہ اپنے ہیلی کاپٹر میں لینے جاتے اور خود ان کی دیکھ بھال کرتے رہے۔
ناکافی اسلحہ اور ناسازگار حالات میں اپنے 34000 سے 35000 سپاہیوں سمیت اس جنگ کو جنرل نیازی کی قیادت میں انتہائی بہادری سے لڑا گیا۔
مکتی باہنی کے دہشت گردوں کی تعداد لاکھوں میں تھی اور پاک فوج کے مقابلے میں ہندوستانی فوج کی تعداد پانچ گنا زیادہ تھی، جس میں روس اور اسرائیل کی مدد بھی شامل تھی۔ انڈین آرمی کا فاصلہ بھی کم تھا، اس لیے انہیں سازوسامان اور جنگی ضروریات پوری کرنے میں کوئی مشکل نہ تھی، جبکہ پاک فوج کو کم از کم 6 سے 8 ماہ کا وقت درکار ہوتا اس جنگ کی تیاری کے لیے، اگر اس جنگ کا امکان پہلے سے موجود ہوتا۔
مکتی باہنی کے دہشت گرد گلیوں اور بازاروں میں ہتھیار لے کر دندناتے پھر رہے تھے۔ ایسے وقت میں ان کے خلاف کوئی بھی ایسا اقدام کرنا جس سے سارے ملک میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی تھی، بیوقوفی تھی، جبکہ مکتی باہنی کے دہشت گرد چاہ رہے تھے کہ جنگ زدہ علاقوں میں مزید خون خرابہ ہو۔
جیسور سیکٹر میں کئی کمانڈرز نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے خود ہی ہتھیار ڈال دیے تھے، جن میں کافی تعداد میں بنگالی بھی شامل تھے، جنہوں نے عین جنگ کے دوران اپنا اصل روپ دکھا دیا اور بھارت کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا، جس سے کافی دھچکا لگا اور بھارت کا کام مزید آسان ہوا۔ اس کے باوجود بھی جنرل نیازی نے ہمت نہ ہاری اور یہ جنگ دو ہفتوں تک بڑے جوش اور ولولے سے لڑے۔
16 دسمبر 1971 کو مغربی پاکستان، یعنی ہمارے موجودہ پاکستان، سے بھٹو کی جانب سے جنرل نیازی کو ٹیلیگرام بھیجا گیا کہ کسی بھی طرح اس جنگ کو رکوایا جائے، جو کہ ڈھکے چھپے الفاظ میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ہتھیار پھینک دو۔ دوسری طرف انڈین کی طرف سے دھمکی دی گئی کہ اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو ہم مکتی باہنی کے دہشت گردوں کو اسلحہ سے لیس کر کے فوجیوں کے گھروں پر دھاوا بول دیں گے اور بیوی بچوں کو مار ڈالیں گے۔
یاد رکھیے، ہمیشہ فوج تب تک مضبوط رہتی ہے جب تک ملکی سیاسی قیادت، جو عوام کی نمائندہ ہوتی ہے، اپنی حمایت اور مدد دیتی رہے، مگر مغربی پاکستان میں بیٹھی حرام خود قیادت نے پاک فوج سے اپنے ہاتھ اٹھا لیے تھے، اور جنرل نیازی اس وقت واحد شخص تھا جس نے حالات کو قابو کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ جنرل نیازی نے اپنے ساتھیوں، ان کے خاندانوں کی حفاظت، خاص کر بنگالی عوام کو قتل و غارت گری اور پورے ملک کو خانہ جنگی کی لعنت سے بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی۔
انڈیا اور مکتی باہنی ایک بڑی تعداد میں ڈھاکہ میں حملہ آور ہو چکے تھے۔ جنرل نیازی اور ساتھیوں کو بار بار کہا گیا کہ ہتھیار ڈال دیں، لیکن وہ صاف انکار کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے ہم میں سے ایک شخص بھی نہ بچے، ہم سارے کے سارے قربان ہو جائیں، خالی ہاتھوں سے بھی لڑنا پڑے ہم لڑیں گے، لیکن کسی صورت شکست تسلیم نہیں کریں گے۔
(جنرل نیازی کی ویڈیو میں نے پہلے کمنٹ میں شیئر کر دی ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں)
کوئی نہیں جانتا کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ انہیں اپنی بات اور اپنے ایک جرات مندانہ فیصلے سے پھرنا پڑا۔ یہ بات سامنے لانے سے روکنے کے لیے گھناؤنی کوششیں کی گئیں۔ بدقسمتی سے ایک بہادر اور عظیم جنرل ایک بزدل جیسی گالی کا طوق گلے میں لیے آخری بار بطورِ جنرل 1975 میں سامنے آیا، جہاں انہیں ان کے عہدے سے ہٹا کر، ان کے تمغے واپس لے لیے گئے اور ہمیشہ کے لیے تنہائی اور گوشہ نشینی ان کا مقدر بنا دی گئی۔
ایک ایسا عظیم جنرل جس نے 30 سال اس ملک کی خدمت کی۔ ان سے ان کی پنشن اور میڈیکل مراعات، میڈلز تک بھٹو غدار کی حکومت نے چھین لیے۔ ایک کمیشن کے ذریعے سارا ملبہ ان پر ڈال کر سب نے اپنا اپنا دامن جھاڑ لیا۔
انہوں نے بار بار درخواست کی کہ ان کا کورٹ مارشل کیا جائے تاکہ وہ عوام کو حقیقت سے آگاہ کر سکیں کہ اس جنگ اور اس سرنڈر کی اصل وجہ کیا تھی، اور اس سرنڈر کا اصل ذمہ دار کون تھا۔ ان کی بار بار کورٹ مارشل کی درخواست رد کر دی گئی، جس کے بعد انہوں نے 1998 میں ایک کتاب “بٹرائل آف ایسٹ پاکستان” لکھی، اور 2 فروری 2004 کو لاہور میں ان کی وفات ہوئی۔
جتنی خدمات ان کی پاکستان کے لیے 30 سال سے تھیں، یہ خدمات اگر کسی اور ملک کے لیے ہوتیں تو شاید انہیں پوجا جاتا، ان کو ایک عظمت کی علامت سمجھا جاتا، لیکن ہماری کم ظرفی، ہماری ذہنی غلامی ہمیں کبھی اپنے ہیروز کو سراہنے نہیں دیتی۔ یہ جو جنرل اے کے نیازی کے سر بزدلی کا طوق ڈالا گیا، اس کا حقدار اور جنرل نیازی کو پڑنے والی ہر گالی کا حقدار صرف اور صرف بھٹو جیسا گھٹیا انسان تھا۔ اگر وہ پہلے اقتدار کی خاطر اور بعد میں جنگ بندی کی ضد نہ کرتا تو شاید اتنا بڑا سانحہ رونما نہ ہوتا۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ ایک عظیم ترین جنرل گمنامیوں میں کہیں کھو گیا اور گالی اس کا مقدر ٹھہری، مگر ایک ملک دشمن، ملک کے دو ٹکڑے کرنے والا لعنتی آج بھی زندہ ہے۔ اصل نعرہ تو یہ ہونا چاہیے تھا:
بھٹو کل بھی غدار تھا، بھٹو آج بھی غدار ہے۔
یہ کوئی فوجی شکست نہیں تھی، یہ صرف اور صرف اقتدار کے مارے بھٹو کے لالچ کی وجہ سے ہوئی شکست تھی۔
میں جنرل اے کے نیازی کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ان کی عظمت، ان کی جرات، ان کی پاکستان کے لیے قربانیوں کو میری طرف سے سُرخ سلام۔ میری سات نسلیں بھی ان کے احسانات کا بدل نہیں ہو سکتیں جو جنرل اے کے نیازی نے پاکستانی عوام اور بنگالی عوام پر کیے۔ ذلت کا طوق اپنے گلے میں ڈال کر لاکھوں لوگوں کی جان بچا کر خاموشی سے منوں مٹی کے نیچے ابدی نیند سو گئے۔
اللہ تعالیٰ جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ آمین۔



  تازہ ترین   
سلمان صفدر کی عمران خان سے طویل ملاقات، رپورٹ کل سپریم کورٹ میں پیش کرینگے
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر اتفاق
پاک فضائیہ کی سعودی عرب میں ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں شاندار شرکت
پشاور میں رواں سال پی ایس ایل میچز کے انعقاد کا فیصلہ
بلوچستان کو درپیش چیلنجز میں حکومت پنجاب ہر ممکن تعاون کرے گی: مریم نواز
سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پر سیپشن انڈیکس 2025ء جاری کردیا
صدر مملکت نے ازبک ہم منصب کی دورہ ازبکستان کی دعوت قبول کر لی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر