تخت سے تنہائی تک: مہارانی جند کور کی پوتی شہزادی بمبا کی زندگی

قیام پاکستان کے کئی سال بعد تک ماڈل ٹاؤن لاہور میں قیام پذیر رہنے والی پنجاب کی آخری شہزادی کی سچی کہانی : مہارانی جند کور برصغیر کی تاریخ میں رضیہ سلطانہ اور جھانسی کی رانی سے کم نہ تھی لیکن پنجاب کی اس مہارانی کی شجاعت کو فراموش کردیا گیا۔ شہزادی بمبا اسی مہارانی جند کور کی پوتی تھیں۔ اسی نے اپنی دادی کی آخری خواہش پوری کرنے کے لیے 1924 میں اس کی راکھ ممبئی سے لاہور منگوائی اور اپنے دادا مہاراجا رنجیت سنگھ کی سمادھ میں رکھوا دی۔ شہزادی بمبا کی دو چھوٹی بہنیں اور تین بھائی تھے جب کہ دو سوتیلی بہنیں بھی تھیں۔ شہزادی بمبا نے ابتدائی تعلیم لندن میں حاصل کرنے کے بعد آکسفورڈ یونی ورسٹی میں داخلہ لیا جس کے بعد وہ امریکی شہر شکاگو کے ایک میڈیکل کالج چلی گئیں۔ بیسویں صدی کے آغاز میں شہزادی بمبا نے اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین ہندوستان کے دورے کرنا شروع کردیے۔ وہ ہمیشہ لاہور اور شملہ میں رہتی تھیں۔ شہزادی بمبا کو اپنے دادا کا شہر لاہور اس قدر پسند آیا کہ انھوں نے انگلینڈ چھوڑ کر تنہا ہی اسے اپنا مستقل مسکن بنالیا۔ پہلے شہزادی نے جیل روڈ کے شروع میں ایک عالی شان بنگلے میں رہائش رکھی بعد میں یہاں ایک سنیما بھی قائم رہا۔ شہزادی کی یہ رہائش گاہ اب تاریخ کی گرد میں کہیں کھوچکی ہے۔ اس کے بعد شہزادی بمبا نے لاہور کے پوش علاقے ماڈل ٹاؤن اے بلاک میں 104 نمبر گھر خریدا۔ شہزادی نے یہاں ایک کنال پر صرف گلاب اگائے۔ 1915 میں شہزادی بمبا نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر ڈیورڈ واٹر صدر لینڈ سے شادی کرلی اور اپنا نام شہرازی بمبا صدر لینڈ رکھ دیا۔ وہ خود کو مہاراجا رنجیت سنگھ کی اکلوتی وارث سمجھتی تھیں اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ تھا کہ ورثے میں اسے رنجیت سنگھ کا بُھس سے بھرا گھوڑا لائلا ملا تھا۔ اس کے علاوہ لاہور دربار کی چند نایاب پینٹنگز بھی اس کی ملکیت میں تھیں۔ شہزادی بمبا کی زندگی کا ایک اور اہم باب ان کی زندگی میں کریم بخش سُپرا کا آنا تھا۔ شہزادی جب لاہور آئیں تو ان کی ملکیت میں تصاویر اور دیگر نادر فن پارے موجود تھے جو انہیں اپنے والد سے ورثے میں ملے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس فارسی اور عربی میں تاریخی دستاویزات اور شاہی احکامات تھے جو ان کے دادا نے 40 سالہ عہد اقتدار میں جاری کیے تھے۔ چوںکہ ان کی اہمیت سے آگاہ ہونا چاہتی تھیں، چناں چہ انہوں نے اخبار میں فارسی کے ماہر کی خدمات حاصل کرنے کے لیے اشتہار دیا۔ شہزادی نے بہت سے لوگوں کے انٹرویوز کیے اور بالاخر کریم بخش سپرا کو اس ملازمت پر رکھ لیا۔ لاہور میں قیام کے دوران شہزادی بمبا کا شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے ساتھ بھی ملنا جلنا رہا۔ کہتے ہیں کہ علامہ اقبال شہزادی بمبا کی انتہائی عزت کیا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کئی بار ماڈل ٹاؤن بس سروس میں سوار وہ لاہور شہر کی جانب سفر کرتیں اور اگر نشست نہ ملتی تو بلند آواز میں مسافروں کو مخاطب کر کے کہتیں کہ میں لاہور دربار کی آخری شہزادی ہوں، میرے احترام میں ایک نشست خالی کردو۔ ڈاکٹر ڈیوڈ اپریل 1939 میں وفات پاگئے۔ ان دونوں کی کوئی اولاد نہیں تھی اور یوں مہاراجا دلیپ سنگھ کی نسل آگے نہ بڑھ سکی، کیوںکہ اس کے بیٹوں اور بیٹیوں میں سے کوئی بھی صاحب اولاد نہیں تھا۔ 1942 میں شہزادی کی دوسری بہن بھی چل بسی جس نے سیکنڈ ورلڈ وار کے دوران جرمنی میں یہودیوں کو نازیوں کے ظلم و ستم سے بچانے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ 1947 میں تقسیم ہند کے باعث پنجاب کا بٹوارا شہزادی بمبا کے لیے کسی دھچکے سے کم نہ تھا۔ شہزادی پنجاب کے بکھرنے پر افسردہ تھیں۔ ان کے تمام دوست احباب اور ساتھی ہندوستان چلے گئے لیکن خود انہوں نے لاہور چھوڑنے سے انکار کردیا۔ 1948 میں ان کی سب سے چھوٹی بہن شہزادی صوفیا دلیپ سنگھ بھی انتقال کرگئی تو شہزادی بمبا مزید تنہا ہوگئیں، کیوںکہ اب ان کا اپنا کوئی بھی نہیں رہا تھا۔ تقسیم اور بہن بھائیوں کی وفات کے باعث شہزادی بمبا کے لیے زندگی ایک آزمائش بن گئی۔ انہوں نے چند سال مشکل میں گزارے اور بالآخر 10 مارچ 1957 کو 88 سال کی عمر میں اپنے اسی مکان یعنی اے 104 میں ان کا انتقال ہوگیا۔ کریم بخش سپرا کا خاندان بھی شہزادی بمبا کے ساتھ ماڈل ٹاؤن میں ہی قیام پذیر تھا۔ انہوں نے اپنی جائیداد ایک وصیت کے ذریعے کریم بخش سپرا کے نام کر دی۔ لوگ اسے رانی کی کوٹھی کے نام سے جانتے تھے اور کہتے تھے کہ شہزادی کے منشی نے اس پر قبضہ کرلیا ہے۔ اس کوٹھی کی باڑ میں کبھی کبھی سفید پھول بھی کھلتے تھے۔ مشہور تھا کہ اس باڑ میں بے شمار سانپوں کا بسیرا ہے جو لوگوں کو اس ویران گھر سے دور رکھتا ہے۔ بمبا نے موت سے پہلے اپنا بیشتر حصہ حکومت پاکستان کے سپرد کردیا تاکہ اس کی دیکھ بھال کی جاسکے۔ وہاں پُراسرار طور پر ہیروں سے مزین ساز و سامان چوری ہوگیا۔ کچھ اشیاء انہوں نے اپنے وفادار پیر بخش کو تحفے کے طور پر عطا کردیں جن میں 18 واٹر کلر پینٹنگز، 14 آئل کلر پینٹنگز، ہاتھی دان پر بنائے گئے 22 فن پارے اور 17 تصاویر کے علاوہ چند نوادرات بھی شامل تھے۔ بعد میں حکومت نے ان تمام اشیاء کو قومی ورثہ قرار دے کر خرید لیا۔ شاہی قلعہ لاہور کی سکھ گیلری میں شہزادی بمبا کلیکشن کے نام سے نمائش کے لیے بھی رکھا گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس کلیکشن میں سے بہت سے قیمتی نوادرات اور جواہرات چوری کر لیے گئے ہیں جو حکومت تک پہنچے ہی نہیں یا حکومت کی تحویل میں آنے کے بعد غائب ہوئے، اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔



  تازہ ترین   
سلمان صفدر کی عمران خان سے طویل ملاقات، رپورٹ کل سپریم کورٹ میں پیش کرینگے
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اقتصادی و سرمایہ کاری تعاون کے فروغ پر اتفاق
پاک فضائیہ کی سعودی عرب میں ورلڈ ڈیفنس شو 2026 میں شاندار شرکت
پشاور میں رواں سال پی ایس ایل میچز کے انعقاد کا فیصلہ
بلوچستان کو درپیش چیلنجز میں حکومت پنجاب ہر ممکن تعاون کرے گی: مریم نواز
سپریم کورٹ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے دی
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پر سیپشن انڈیکس 2025ء جاری کردیا
صدر مملکت نے ازبک ہم منصب کی دورہ ازبکستان کی دعوت قبول کر لی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر