تحریر: سعدیہ نارو
گلگت بلتستان کے ضلع شگر کی برالدو وادی میں واقع گاؤں اسکولی شمالی خطے کی آخری انسانی بستی ہے۔ دریائے برالدو کے کنارے آباد یہ دل آویز گاؤں سطح سمندر سے تقریباً تین ہزار میٹر بلندی پر ہے۔ پاکستان کا بلند اور دور افتادہ گاؤں کہلانا اسکولی کا پورا حق ہے۔ یہ اسکردو سے تقریباً ایک سو انتیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے دنیا کے طویل ترین گلیشیئرز بالتورو، بیافو اور چوکٹوئی کی جانب ٹریکنگ کا آغاز ہوتا ہے۔ اسکولی کوہ قراقرم کی سربفلک چوٹیوں کےٹو، براڈ پیک، گاشر برومز، مزتاغ ٹاور، اُولی بیاہو ٹاور، پائیو پیک، بینتھا براک اور لیٹوک پیکس سمیت بے شمار بلند پہاڑوں تک پہنچنے کا دروازہ ہے۔
ہماری ٹیم 20 جولائی کو سکردو سے جیپ کے ذریعے اسکولی پہنچی۔ اگلی صبح یہاں سے کےٹو بیس کیمپ کے طویل سفر کا آغاز ہونا تھا۔ گاؤں میں قدم رکھتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے میں صدیوں پیچھے کسی قدیم زمانے میں آ گئی ہوں۔ لکڑی اور پتھروں سے بنے دو منزلہ گھر، جن کی چھتیں سردیوں میں حرارت برقرار رکھنے کے لیے نیچی رکھی گئی تھیں۔ گھروں کے باہر بچے کھیل رہے تھے اور خواتین محوِ گفتگو تھیں۔ ہمیں دیکھ کر لمحہ بھر کو ان کی باتیں تھم گئیں اور نگاہیں ہماری جانب اُٹھ گئیں۔
میں چند ساتھیوں کے ساتھ گاؤں کے دو نوجوانوں کی رہنمائی میں اسکولی میوزیم کی طرف بڑھ گئی۔ میوزیم میں داخلے کا ٹکٹ پانچ سو روپے فی فرد تھا۔ رقم ہم نے ایک تالہ بند ڈبے میں ڈالی اور اس قدیم طرزِ تعمیر والے مکان کو دیکھنے لگے۔گراؤنڈ فلور پر دو کمروں کے درمیان ایک چھوٹا سا حصہ تھا جہاں کپڑا بُننے والی کھڈی رکھی تھی۔ مرکزی حصے میں قدیم برتن، لباس، زیورات، اوزار، ہتھیار اور روزمرہ استعمال کی اشیاء نمائش کے طور پر سجی تھیں۔ دالان کے مرکز میں لکڑی کی سیڑھی تہہ خانے کی طرف لے جاتی تھی۔ ہم احتیاط سے نیچے اُترے تو بائیں جانب جانوروں کا باڑا اور سامنے خاندان کے افراد کی آرام گاہیں نظر آئیں۔ قریب ہی ایک کھلا باورچی خانہ بھی موجود تھا جہاں پتھر سے تراشے ہوئے برتن ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ میوزیم کے دلچسپ مشاہدے میں کچھ وقت گزار کر ہم گاؤں کی سیر کے لئے باہر نکل آئے۔
اسکولی میں تقریباً ایک سو پانچ گھرانے آباد ہیں اور آبادی سولہ سو افراد کے قریب ہے۔ ایک روایت کے مطابق گلگت بلتستان کے ضلع شگر کی آبادی کا آغاز اسکولی سے ہوا تھا۔ یہ گاؤں اس ضلع کی اولین آبادی تھی جہاں سے پھیل کر لوگ پورے شگر میں آباد ہوئے۔ گاؤں کے بیچ سے گزرتا شفاف نالہ زندگی کی روانی کا احساس دلا رہا تھا۔ خواتین اس کے پانی سے برتن دھو رہی تھیں اور چند قدم آگے ایک ننھی سی بچی کپڑے دھونے میں مصروف تھی۔ مجھے دیکھ کر وہ اُٹھی اور اپنے کپڑے وہیں چھوڑ کر شرماتے ہوئے اپنے گھر کے اندر چلی گئی۔
گرمیوں میں یہاں زندگی نسبتاً آسان ہوتی ہے۔ یہی موسم سردیوں کی تیاریوں کا وقت ہوتا ہے۔ اشیائے خورد و نوش اور اناج اکٹھا کیا جاتا ہے اور ایندھن کے لیے لکڑیاں جمع کی جاتی ہیں۔ نومبر سے سردی بڑھنے لگتی ہے اور دسمبر سے مارچ تک علاقہ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتا ہے۔ برف باری کے آغاز کے ساتھ ہی لوگ گھروں کے نچلے حصے یعنی تہہ خانوں میں منتقل ہو جاتے ہیں اور چار ماہ وہیں سرما گزارتے ہیں۔ سخت موسم میں یہ پناہ گاہیں ان کے لیے حرارت اور بقا کا ذریعہ بنتی ہیں۔
برالدو ویلی کے نو گاؤں جن میں اسکولی بھی شامل ہے، زیادہ تر اہلِ تشیع آبادی پر مشتمل ہیں۔ اسکولی میں اسی فقہ کی دو امام بارگاہیں اور دو مساجد موجود ہیں۔ علاج کے لیے دو ڈسپنسریاں ہیں ۔ سرکاری ڈسپنسری میں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ اٹلی کی حکومت کے تعاون سے چلائی جانے والی ڈسپنسری میں سہولیات نسبتاً بہتر ہیں۔ اس کے علاوہ اسکولی میں ایک چھوٹا سا بازار بھی ہے جہاں سے ضروریات زندگی کی اشیاء مناسب قیمت پر مل جاتی ہیں۔ یہیں ایک دکان سے میرے ساتھی نے اونی دستانوں کا ایک جوڑا، جرابیں اور ٹارچ کے سیل بھی خریدے۔
گاؤں میں ایک پرائمری اور ایک مڈل سکول قائم ہیں جن میں سرکاری اساتذہ کی کمی نمایاں ہے۔ سڑک سال بھر کھلی رہتی ہے لیکن سردیوں میں برفانی تودوں کی وجہ سے کہیں کہیں عارضی بندش ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت سڑک بحال کر لیتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہوتو کے مقام پر پل گرنے پر بھی لوگوں نے خود ہی ایک عارضی پل بنا کر گزر گاہ بحال کی تھی۔
ہمارے گروپ کے گائیڈ محمد اقبال کا تعلق گاؤں کے نمبردار خاندان سے ہے اور وہی گاؤں کے موجودہ نمبردار بھی ہیں۔ گاؤں کے انتظامی معاملات اور فلاحی ذمہ داریاں ان کے سپرد ہیں۔ اسکولی کے باسی باربرداری اور کھیتی باڑی سے وابستہ ہیں۔ کوہ پیماؤں اورسیاحوں کی آمد ہی ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہے۔ CKNP کی کیمپ سائٹ ہونے کے باعث دنیا بھر سے آنے والے کلائمبرز اور ٹریکرز یہاں قیام کرتے ہیں اور کےٹو سمیت دیگر چوٹیوں کے لیے گائیڈز اور پورٹرز کا انتظام بھی یہیں سے ہوتا ہے۔
اس گاؤں کے لوگوں کا دوسرا اہم ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہے۔ سردیوں کے موسم میں یہاں زندگی بالکل رک سی جاتی ہے۔ اس دوران یہ لوگ گھروں میں رہ کر آرام کرتے ہیں۔ ان چار پانچ ماہ میں ایک طرف تو وہ سردی کا مقابلہ کرتے ہیں اور دوسری طرف اگلے برس کی فصل کے لئے جانوروں کے گوبر سے کھاد اکٹھی کرتے رہتے ہیں۔
جب شام ڈھلنے لگی اور سائے لمبے ہونے لگے تو ہم نے بھی اپنی کیمپ سائٹ کا رُخ کیا۔ پورا گاؤں خاموشی میں ڈوب گیا اور سرمائی شام نے اسکولی کو ایک جادوئی سا رنگ دے دیا۔ جلد ہی ہم کیمپ سائٹ پہنچ گئے۔ اس صاف ستھرے اور خوبصورت گاؤں میں گزرا یہ خوشگوار وقت میری یاد داشت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔



