تحریر: سعدیہ نارو
کےٹو ٹریک شروع ہونے سے پہلے ۱۹ جولائی کی رات سمٹ ہوٹل سکردو میں گروپ کی پہلی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں گروپ لیڈر عمیر حسن نے ہمیں دو ٹور گائیڈز محمد اقبال اور احمد حسین سے متعارف کروایا۔ اقبال اور احمد دونوں کی تعلیم گریجویشن تک ہے۔ اقبال کا تعلق اسکولی سے ہے اور وہ اس گاؤں کا نمبردار بھی ہے۔ جبکہ احمد کا تعلق اسکردو کے ایک دور افتادہ گاؤں خومرہ روندو سے ہے۔ یہ دونوں نوجوان ۲۰۱۸ سے لائسنس یافتہ ٹور گائیڈز ہیں۔ یہ ناصرف پاکستان کی معروف ٹورسٹ کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں بلکہ ملک کے اہم اور مشکل ٹریکس پر مقامی اور غیر ملکی ٹریکرز کی رہنمائی بھی کر چکے ہیں۔ ان دونوں کو خاص طور پر ہمارے گروپ کی رہنمائی کے لیے بلایا گیا تھا۔
ہمارے ستائیس افراد پر مشتمل گروپ نے بظاہر ایک ساتھ ہی سفر کرنا تھا لیکن عمیر نے انتظامی سہولت کے پیش نظر اس کو دو گروپوں میں بانٹ رکھا تھا۔ ان دونوں گروپس کے ہیڈ گائیڈز اقبال اور احمد تھے۔ ٹور گائیڈ اور ٹورسٹ کے درمیان ربط بہت ضروری ہے۔ اس ابتدائی تعارف کے بعد یہ لوگ ہم سب کے ساتھ یوں گھل مل گئے جیسے برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں ۔
۲۰ جولائی کو ہمارے ٹریک کا آغاز ہوا اور ہم سکردو سے اسکولی کی جانب جیپوں پر روانہ ہوئے۔ اسکولی سے تھوڑا پیچھے تقریباً پونے پانچ بجے ہمارے سفر کا سلسلہ تھوڑی دیر کے لیے رک گیا۔ ہمارے راستے میں ایک منہ زور نالہ تھا جس پر راک سلائیڈنگ کی وجہ سے پتھر آن گرے جنہیں ہٹائے بغیر جیپوں کا وہاں سے گزرنا ممکن نہیں تھا۔ نالے پر ٹوریزم پولیس کے اہلکاروں کی زیرِ نگرانی مقامی لوگ راستہ صاف کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن بات بن نہیں رہی تھی۔ پھر گائیڈز اقبال اور احمد آگے بڑھے۔ انہوں نے بڑی مہارت اور جانفشانی سے پتھر ہٹا کر جیپوں کے لیے راستہ بنایا۔
اسکولی سے جھولا اور پھر پایو جاتے ہوئے احمد زیادہ طرح میرے اور میرے ساتھی کے ساتھ رہا۔ کبھی وہ مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے ہم سے پیچھے رہتا اور ہم پر نظر رکھتا، تو کبھی ہم سے کچھ آگے نکل کر کسی اونچی جگہ رک کر ہمارے پہنچنے کا انتظار کرتا۔ اس نے ہمیں ہماری رفتار سے چلنے دیا اور کہیں پر بھی بے جا مداخلت اور جلدبازی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پایو سے خوبورسے جاتے ہوئے جب بالتورو گلیشئیر پر ہمارے سفر کا آغاز ہوا تب بھی احمد ہمارے ساتھ تھا۔ کچھ وقت ساتھ چلنے کے بعد احمد آگے بڑھ گیا اور اقبال ہم سے آن ملا۔ ہم للیگو کیمپ سائٹ تک ساتھ چلتے رہے اور اس دوران وہ ہمیں اپنی ٹریکنگ کے واقعات سناتا رہا۔ یوں وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ میں نے ان دونوں کو بات چیت میں انتہائی مہذب، خوش اخلاق اور با ادب پایا۔
انتظامی ٹیم میں نور عالم، موسیٰ، حبیب، قمر اور مہدی وغیرہ شامل تھے۔ نور عالم اور موسیٰ ہوشے سے تھے جبکہ حبیب کا تعلق اسکولی سے تھا۔ خوبورسے سے اردوکس، گورو ٹو اور کنکورڈیا تک حبیب میری رہنمائی کرتا رہا۔ کنکورڈیا سے علی کیمپ اور جی جی لا پر نور عالم سائے کی طرح میرے ساتھ رہا۔ قمر جو تربیت یافتہ میل نرس بھی ہے، ادویات اور میڈیکل کٹ کی ذمہ داری سنبھالے رہا۔ گائیڈ احمد کی رہنمائی میں نور عالم اور موسیٰ نے ہمیں پایو اور کنکورڈیا پر جی جی لا کی چڑھائی کے لیے پریکٹس بھی کروائی۔
ان سب لڑکوں نے اپنی ذمہ داریاں نہایت احسن طریقے سے نبھائیں۔ انہیں جب کوئی کام کہا گیا انھوں نے اسے خندہ پیشانی سے سر انجام دیا۔ بنا ماتھے پر بل ڈالے صبح سے شام تک سب گروپ ممبرز کا بھرپور خیال رکھا۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس مشکل ٹریک کی خوش اسلوبی اور محفوظ تکمیل میں ان سب کا بنیادی کردار تھا۔ کک زمان بھائی، ماموں محمد، یہ سب لڑکے اور وہ جن کے ناموں سے نہیں البتہ چہروں سے میں شناسا تھی، ہمیشہ میری کےٹو ٹریک سے جڑی یادوں میں روشن ستاروں کی طرح جگمگاتے رہیں گے۔
کےٹو ٹریک—ایک یادگار آغاز اور شاندار ساتھی



