تحریر: ڈاکٹر فیاض عالم
بلاشبہ محسنِ پاکستان کا لقب اگر کسی کو ملنا چاہیے تو وہ یہ شخص ہے۔ جسکے باعث آج بھی لاکھوں پاکستانی روزگار کما رہے ہیں۔
فرینک مچل کی عمر محض 47 برس تھی جب گالف کھیلتے ہوئے اسے ایک تار موصول ہوا کہ جنوبی افریقہ کی کانوں میں لگائی گئی اس کی ساری سرمایہ کاری ڈوب چکی تھی۔ وہ لمحہ اس کی زندگی کا سب سے کڑا امتحان تھا۔ وہ یکسر مفلس ہو گیا۔
اس نے اپنے بیٹوں کا داخلہ ایک خیراتی اسکول میں کروایا اور خود کشمیر میں اپنے بھائیوں کے پاس آگیا جہاں ان کا قالین بافی کا کاروبار تھا۔ چند برس وہ انہی کے ساتھ کام کرتا رہا اور اسی عرصے میں اون رنگنے کے لیے ایک خاص ڈائی بھی تیار کر لی۔
معاشی حالات بہتر ہونے کے بعد وہ واپس انگلستان گیا، بچوں کو بہتر تعلیمی اداروں میں داخل کروایا اور پھر دوبارہ کشمیر کی طرف روانہ ہوا۔ اس بار وہ اپنے دوست ڈیوک آف بیڈفورڈ کی ہیچری سے ٹراوٹ مچھلی کے انڈے لارہا تھا، مگر لمبے سمندری اور ریل کے سفر نے یہ انڈے خراب کر دیے۔
لیکن فرینک نے ہمت نہ ہاری۔ کچھ عرصے بعد وہ اسکاٹ لینڈ گیا اور وہاں سے دوبارہ ٹراوٹ کے انڈے لے کر آیا۔ مہاراجہ کشمیر کے زیر انتظام ایک دریا میں اس نے ہیچری قائم کی اور یہ انڈے ڈال دیے. یہی وہ لمحہ تھا جب برصغیر میں ٹراوٹ مچھلی کی افزائش کا انقلابی سفر شروع ہوا۔ آج وہی ٹراوٹ ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ نہ صرف غذائی ذائقے کے طور پر پسند کی جاتی ہے بلکہ ہزاروں خاندانوں کے رزق کا ذریعہ بھی ہے۔
1907 میں فرینک مچل نے کشمیر کے علاقے چھتر کلاس میں زیتون کے پودے لگائے، جو اطالوی اور ہسپانوی نسل کے تھے اور وہ انہیں فرانس سے منگوا کر لایا تھا۔ بعد ازاں گورنر پنجاب کی ہدایت پر اس نے خیری مورت میں بھی زیتون کاری کی اور یہاں لگائے گئے پودوں نے پھل بھی دیا۔ کچھ پودے اس نے تارو جبہ بھی بھیجے، یوں موجودہ خیبر پختونخوا میں زیتون کی کاشت کا آغاز ہوا۔
1920 میں گورنر پنجاب نے اسے 700 ایکڑ بنجر زمین لیز پر دی تاکہ وہاں تجرباتی طور پر پھلدار درخت لگائے جائیں۔ فرینک دنیا بھر سے مختلف اقسام کے پودے لایا اور اس زمین کو ایک وسیع باغ میں بدل دیا.. انگور، مالٹے، زیتون اور کئی دوسری اقسام کے پھل یہاں کامیابی سے اگائے گئے۔
1933 میں اس نے اس خطے میں پھلوں کی مصنوعات تیار کرنے والی پہلی کمپنی انڈین ملڈیورا فارم لمیٹڈ قائم کی۔ اسی دوران اسے اٹک کے علاقے میں زیر زمین تیل کے ذخائر کا اندازہ ہوا۔ اس نے سرمایہ کار تلاش کیے، بھائیوں اور دوستوں کو آمادہ کیا مگر مطلوبہ سرمایہ نہ مل سکا۔ بالآخر وہ انگلستان گیا اور اسٹیل برادرز سے ملا، جنہوں نے دلچسپی ظاہر کی۔ یوں اٹک آئل کمپنی وجود میں آئی. برصغیر کی اولین آئل کمپنیوں میں سے ایک۔
اسی سال، 1933 میں، فرینک مچل دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا اور بارہ مولا کشمیر میں دفن ہوا۔
قیامِ پاکستان کے بعد انڈین ملڈیورا فارم کا نام بدل کر مچلز فارم لمیٹڈ رکھ دیا گیا۔ 1960 کی دہائی میں یہ کمپنی بابر علی خاندان کی ملکیت میں آگئی، جبکہ اٹک آئل کمپنی میں آج بھی شاید مچل خاندان کے حصص موجود ہوں۔
ایک ایسا شخص جس کا تعلق اس خطے سے نہیں تھا، جو نہ کوئی حکومتی عہدیدار تھا، نہ سیاست دان، نہ ہی کسی بڑی تنظیم کا سربراہ.. اس نے محض اپنے عزم، جستجو اور مسلسل محنت سے اس خطے کی زراعت، خوراک اور معیشت پر گہرے اثرات چھوڑے۔ ٹراوٹ مچھلی کی افزائش، زیتون کی کاشت، پھلوں کے بڑے باغات اور پھلوں کی مصنوعات کی صنعہوا۔یہ سب اس کے عزم کے ثمرات ہیں۔
فرینک مچل کی زندگی نئی نسل کے لیے ایک روشن سبق ہے: ایک فرد، تنہا بھی، اگر جذبہ اور ارادہ رکھتا ہو تو پورے خطے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
فرانسِس جیمز مِچل



