تحریر:عابد حسین قریشی
اس کائنات میں اللہ تعالٰی نے کروڑوں نہیں اربوں انسان پیدا کئے۔ ہر ایک کی نہ صرف شکل، آواز، فنگر پرنٹ اور عقل و فہم دوسرے سے مختلف ترتیب دیئے گئے۔ بلکہ زندگی گزارنے کا ڈھنگ بھی جدا ہی رکھا۔ بظاہر ایک ہی طرح کا کام کرنے والے لاکھوں مزدور اور کسان ایک ہی طرح کی زندگی گزارتے نظر آتے ہیں، مگر یہ معاشی اور سماجی طور پر درست ہو سکتا ہے، جبکہ ہر بندہ دوسرے سے قدرے مختلف انداز فکر کا مالک ہوتا ہے۔ یہاں امارت اور غربت matter نہیں کرتے، سوچ کا انداز فرق ڈالتا ہے۔ دنیا میں لوگوں کی پیدائش سے لیکر موت تک کئی مراحل زندگی طے کرتی چلی جاتی ہے۔تعلیم و تربیت، خوشی غمی، اتار چڑھاو، آداب معاشرت، صحت و تندرستی، بیماری و پریشانی، مال و دولت، غربت و افلاس، اولاد، اہلیہ، ماں باپ، رشتہ دار و دوست احباب، کیا ہر شخص کے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ کیا ہر مرد و عورت خوشحالی اور تنگدستی میں ایک جیسے رویوں کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔ کیا زندگی کے مدو جزر اور اتار چڑھاو انسانی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ کچھ لوگ ساری عمر مال ومتاع اور جایئدادیں بنانے میں گزار دیتے ہیں، مگر خود ڈھنگ سے زندگی نہیں گزار پاتے، اور انکی آنکھیں بند ہوتے ہی، ا نکے وارثان اسی مال پر عیاشی کرتے ہیں۔ کیا اس دنیا میں تھوڑے لوگ ڈسپلن لائف نہیں گزارتے اور بہت سے run of the mill کی طرح وقت گزار کے چلے جاتے ہیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں، وہ لوگ جو مرنے سے پہلے اپنے مال میں کسی کم وسیلہ اور حاجت مند کی مدد کر جاتے ہیں، یا کم از کم اپنے اوپر ہی خرچ کر جاتے ہیں۔ اور بےشمار ایسے ہیں، جو اس سعادت سے محروم رہتے ہیں۔ زندگی بہت مختصر ہے، اسے ڈھنگ سے گزار جائیں۔ نہ کوئی پچھتاوا ہو نہ افسوس۔بلکہ مسرت ہو، اظہار تشکر ہو، اطمینان قلب ہو، فخر و انبساط کی کیفیت ہو۔ ایک ہی سکول یا کالج میں داخل ہونے والے پچاس طالب علموں میں سے دو چار ہی عملی زندگی میں کامیاب ٹھہرتے ہیں، صلاحیتوں کا یہ فرق کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک جیسےانسانوں میں کوئی مخلص ہے، تو کوئی خود غرض، کوئی سخی ہے اور کوئی بخیل، کوئی عفو و درگزر والا ہے، اور کوئی زود رنج، کوئی خوش مزاج ہے، اور کوئی تند ترش، کوئی اعلٰی انسانی اقدار کا علمبردار اور کوئی انسانیت کے لئے ناسور، کوئی قاتل ہے تو کوئی مسیحا۔ کوئی دنیا داری میں غرق ہے، اور کوئی روحانیت میں مگن، کوئی موسیقی کی مدھر دھنوں میں کھویا ہوا، اور کوئی کتب بینی کا شوقین، کوئی صحرا نوردی کا شوقین تو کوئی کوہ پیمائی میں تاک ، کوئی انس و محبت سے لبریز اور کوئی کینہ و بغض میں گندھا ہوا۔ کوئی انسانی درد سے آشنا اور کوئی خود غرضی میں یکتا، کوئی خدا خوفی اور خدا ترسی میں جتا ہوا، اور کوئی ظلم و بربریت کا قائل، غرض جتنے لوگ اس دنیا میں آئے، سب اپنے اپنے ڈھنگ اور رنگ سے زندگی گزار گئے۔ کون کامیاب رہا، کون بامراد اور کون ناکام، اسکا فیصلہ تو رب کائنات کے روبرو یوم حشر میزان حق پر ہوگا، جہاں چھوٹی سے چھوٹی نیکی اور بدی سب پلڑوں میں ڈالیں جائیں گی اور اللہ تعالٰی سے کچھ بھی تو مخفی نہ ہوگا۔ اگر اپنی زندگی ہی جینا ہے، تو کیوں نہ اسے ڈھنگ سے جیا جائے۔ پیار و الفت سے، درد دل سے، اخلاص و مروت سے، ایثار و قربانی سے، اپنوں کی چاہت اور غیروں کی خیر خواہی سے جیا جائے۔حیا اور حیا داری سے، وفا اور وفا شعاری سے جیا جائے۔ جس رنگ میں بھی جیو، کم از کم اپنی مرضی کی کچھ نہ کچھ تو جی جاو۔ محض لوگوں کے دکھاوے کی زندگی جینے کا کیا مزا۔ ہماری تو ساری رسومات ہی دنیا کے دکھاوے کے لئے ہوتی ہیں۔ ہم تو کپڑے بھی لوگوں کو دکھانے کے لئے پہنتے ہیں۔ ہماری ساری نمود و نمائش اپنے لئے کب ہوتی ہے۔ بعض اوقات تو لگتا ہے کہ ہمارے آس پاس لوگ مصنوعی سی، اوپری اوپری سے زندگی جی رہے ہیں۔ جو وہ سوچتے ہیں، کہہ نہیں پاتے، جو کہتے ہیں وہ سوچ سمجھ کے بغیر۔ جو ہم نظر آنا چاہتے ہیں ، وہ ہوتے نہیں، جو ہوتے ہیں، وہ نظر نہیں آنا چاہتے۔ لوگوں کو خوش کرنے کے لئے بہت کچھ کرتے ہیں، مگر لوگ تو کبھی راضی نہیں ہوتے۔ اگر کسی کو راضی ہی کرنا ہے تو اپنے اللہ کو راضی کرکے دنیا چھوڑیں۔ اللہ کی کتاب تو یہی کہتی ہے، کہ انسان کے لئے سب سے بڑی خوشی اور کامیابی اللہ کی رضا میں ہی ہے۔ اور جس سے اللہ راضی ہوگیا، وہ سرخرو ہوگیا۔



