تحریر: محمد زبیر ہاشمی
56 پی ایم اے کے ساتھ کاکول میں پہلا ڈیڑھ سال تو جیسے تیسے گزر ہی گیا لیکن اپریل 1977 کی بہار ہمارے لیے کچھ اور ہی رنگ لے کر ائ۔ نہ رگڑے کا ڈر اور نہ ہی سینیئرز کی چنگھاڑ۔ اب کیاریوں کے پھول رنگین دکھتے اور ان کی مہک دور تک جاتی۔ پلاٹون کمانڈرز سے ڈر بھی ذرا کم لگتا اور سارجنٹ نام کی چیز تو ناپید ہی ہو گئی ۔ وجہ ۔ کیونکہ ہم فائنل ٹرم میں قدم رنجہ فرما چکے تھے۔ اب تو ڈرل سٹاف بھی ذرا مسکرا کے دیکھتے اور پی ایم اے روڈ تو مال روڈ دکھتی کیونکہ اسپر اب ‘شیر اور بکری ایک ساتھ پانی پیتے’۔
سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ دفتری اوقات کے بعد ہمیں سفید قمیض اور ملیشیا رنگ کی پتلون کے بجائے اب انواع رنگ کے لباس پہننے کی اجازت مل گئی جنہیں کاکول کی بھاشا میں “سیویز” کہتے ہیں۔ وہ علیحدہ بات ہے کہ پہلے دن اس لباس میں ملبوس طرح طرح کے نمونے دیکھنے کو ملے۔ کسی نے چیک کوٹ کے ساتھ متفرق رنگ کی چیک پتلون اور کسی نے ایک ہی رنگ کی دونوں چیزیں زیب تن کر رکھی تھی۔ ٹائیوں اور کوٹوں کا تو نہ ہی پوچھیں۔ بس شام کو ایک قوس قزح بٹالین میس میں اتر آئی تھی۔
خیر اس سے پیشتر کہ ہمارا کورس کسی سرکس کا منظر پیش کرتا، ہمارے بٹالین کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمود علی درانی ( بعد میں میجر جنرل اللہ تعالٰی غریق رحمت کرے) نے ہماری لباسیت کو استوار کرنے کی ٹھانی۔ چنانچہ ‘انگل ہال’ میں ایک زیب جامہ پوشی کا لیکچر برپا کیا گیا اور کرنل درانی نے بنفس نفیس ہمیں خوش لباسی کی باریکیوں سے اگاہ کیا۔ ہمارے اساتذہ گواہ ہیں کہ پورے دو سالوں میں یہ واحد لیکچر تھا جو میں نے نہایت غور اور انہماک سے سنا۔
اس تقریر کے اگلے ہی دن ہم نے پال ٹیلر ایبٹ آباد راہ لی اور کچھ ملبوسات سلنے کو ڈال دیئے۔ اب ہم سینیر بھی ہو گئے تھے اور ڈریس بھی قابل قبول تھا، لیکن اب “میں کپڑے بدل کے جاؤں کہاں” والی کیفیت تھی۔ کافی دن تک نئے لباس پہنے بٹالین میس، مونا لیزا کیفے یا مال ایبٹ آباد کی مٹر گشت کرتے رہے لیکن” جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا”۔ کاکول کے شاہینوں کو اب بوریت محسوس ہونے لگی اور نئے آسمانوں کی تلاش شروع ہو گئی۔
پہلے راولپنڈی صدر یا جناح سپر اسلام کا خیال آیا لیکن بات نہ بن سکی کیونکہ یہ بہت ہی وسیع آسمان تھے اور کیڈٹ کی جیب تنگ تھی۔۔ پھر اچانک ملکہء کوہسار کا آئیڈیا ذہن میں کوندا اور عملی جامہ بننے لگا۔ ہم ٹیپو ون کے چار سورماؤں جاوید ملک، محمد سلیم(اللّٰہ دونوں کو غریق رحمت کرے) ذوالفقار اور بندہء ناچیز نے مری جانے کا پروگرام فائنل کر لیا۔
جون 1977کی شاید دوسری جمعرات، ہم چاروں براستہ راولپنڈی مری کو سدھارے۔ جب فائنل ٹرم کے چار ہینڈسم کیڈٹس، مال مری پر مٹر گشت کرنے لگے تو مال روڈ پر باقی سب لفنگوں کا جلوہ مانند پڑ گیا۔ ایک تو منہ زور جوانی، اوپر سے پال درزی کے سلے لباس، ھاتھ میں گولڈ لیف کی ڈبیہ( اس زمانے میں ڈبیا پر کوئی بیہودہ تصویر نہ ہوتی تھی)، لیفٹینی فقط لب بام، چال میں ایک غرور اور بانکپن۔ ایسا لگے کہ تمام دوشیزاؤں کی نگاہ صرف ہم چاروں پر ہے۔
خیر لینٹاٹ میں کافی، سیمز میں لنچ اور پنڈی پوائنٹ کی سیر نے تو سماں ہی باندھ دیا۔ رات کو بخیر وعافیت واپس کاکول آمد پر اپنے پلاٹون ساتھیوں کو ہم نے نمک مرچ لگا کے سیر مری کے قصے سنائے اور ان کے تجسس کو ابھارا۔
قصہ مختصر اس یک روزہ سیر کا رنگین قصہ ٹیپو کمپنی کے درو دیوار سے نکل کر پی ایم اے روڈ کے اس پار قاسم کمپنی تک جا پہنچا اور ہر سو مری جانے کی پلاننگ ہونے لگی۔ آخر کار ٹیپو اور قاسم پلاٹون والوں نے مشترکہ طور پر بذریعہ سالم بس مری جانے کا پروگرام بنایا اور اس کے ساتھ ہی اس سفر کی تیاری کا آغاز ہو گیا اور 7 جولائی 1977 کادن چنا گیا۔
4 جولائی تک سفر کی تمام جزئیات مکمل تھیں کہ قومی افق پر ایک چھوٹے سے واقع نے سفر میں رخنہ ڈال دیا اور ہماری امیدوں پر پانی پھرنے کا احتمال ہونے لگا یعنی مرحوم و مغفور جنرل ضیاء الحق نے ہمیں مری جانے سے روکنے کے لئے ملک میں 5 جولائی کو مارشل لا کا نفاذ کر دیا۔۔
خیر ہم اور ہمارے پلاٹون کمانڈرز کہاں رکنے والے تھے۔ انھوں نے فیصلہ کن انداز میں کہا ” وی ول گو ایز پلینڈ” اس اعلان کے ساتھ ہی مرجھائے ہو چہروں پر دوبارہ خوشی عیاں ہو گئ۔۔
جمعرات کو ہم سب پرائویٹ بس پر براستہ نتھیاگلی مری روانہ ہو کر قریباً 11 بجے منزل پر پہنچ گیے۔ اب مال مری پر وہی سماں تھا جو کہ تین ہفتے قبل کا میں بیان کر چکا ہوں۔ فرق صرف یہ تھا کی اب چار کے بجائے 36 نیم لفٹین مال روڈ پر رواں تھے۔ کچھ نے تو حسب ٹریننگ پی ایم اے روڈ سمجھ کر دو دو کی قطار میں مارچ بھی شروع کر دی تھی۔
یہاں فرق صرف یہ تھا کہ عقابی نگاہوں والے خونخوار سٹاف کے بجائے سڑک کے دونوں جانب رنگ برنگی پوشاکوں میں ملبوس، چہروں پر غازہ سجائے نوخیز دوشیزائیں ہمیں حیرت اور ستائش کی نظروں سے دیکھ رہیں تھیں کہ شاید مستقبل کا جیون ساتھی انھیں میں سے برآمد ہو جائے۔
خیر اسی مٹر گشتی میں دن گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا اور “نقطہء اجتماع” پر جمع ہونے کا وقت آگیا۔۔ لیکن شاپنگ مال میں گھسی لڑکیاں اور مال روڈ پر پھرتے کیڈٹس کہاں واپس آتے ہیں۔ بمشکل سات بجے کے قریب گنتی مکمل ہوئی تو نئی افتاد آن پڑی کہ نتھیاگلی کے اوپر گھنے بادلوں میں بجلی چمکنے لگی۔
کچھ اصحاب عقل نے رائے دی کہ ابر آلود موسم کے کارن واپسی براستہ راولپنڈی کی جائے۔ لیکن ہوش کے ناخن کون لیتا ہے۔ کچھ منچلوں کا ابھی بھی دل نہیں بھرا تھا اور وہ واپسی پر ایوبیہ جانے کی صلاح دینے لگے۔
اس پر ہمارے “بلڈی سویلین” بس ڈرائیور کا ویٹو کام آیا اور براستہ نتھیاگلی ہی واپسی شروع ہوئی۔ بس میں موسیقی کا بھی انتظام تھا اور کیڈٹس نہایت خوشگوار ماحول میں چہچہا رہے تھے۔ اب اندھیرا بھی ہو چلا تھا اور بارش بھی تھی کہ اچانک بس ایوبیہ والے سنگم پر رک گئی کیونکہ چند دیوانے ایوبیہ جانے پر بضد تھے۔ خیر فیصلہ ہوا کہ سیدھے کاکول کی راہ ہی لی جائے۔
ویسے اس دن ہمارے دونوں پلاٹون کمانڈرز مکمل جمہوری “Mode” میں تھے اور تمام فیصلے کثرت رائے سے ہی ہوتے۔۔ اب بس میں کچھ سکون ہو گیا موسیقی کی آواز کچھ تیز ہو گئی اور 70 کی دہائ کا مقبول گانا ” کبھی الوداع نہ کہنا” بجنے لگا۔
ڈونگا گلی کا بازار گزرنے کے بعد مجھے ذرا اونگھ سی آئی ہی تھی کہ اچانک گڑگڑا ہٹ کے ساتھ بس بائیں جانب کھائی میں گرنے لگی۔۔ ذہن میں چند سال قبل اسی جگہ بس گرنے کا واقع کوندا اور کلمہ طیبہ کا ودر شروع ہو گیا۔ بس نے دو قلابازیان اور لیں تو میں نے اپنے آپ کو ایک جھاڑی میں پھنسا ہوا پایا۔
اب فضا پر سکوت تھی اور دور کہیں پانی کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے اپنے اعضاء ٹٹولے تو کوئی ٹوٹ پھوٹ نہ تھی۔ اسی لمحے نیچے وادی میں سے پلاٹون کمانڈر میجر شجاعت لطیف کی انگریزی میں آواز گونجی کہ “حوصلہ کریں سب ٹھیک ہو جایے گا”۔ اس کے بعد اطراف سے زخمیوں کی آہ و پکار کی صدائیں آنے لگیں۔۔
اندھیری رات میں میں نے خود ہی ہمت کرنے کی ٹھانی اور جھاڑیوں اور پتھروں کا سہارا لے کر اوپر چڑھنے لگا۔۔ اس سے قبل پیر صادق شاہ، اور چند دوسرے ساتھی پہلے ہی سڑک پر پہنچ چکے تھے۔ انھوں نے مری کی طرف چلنا شروع کر دیا اور ڈونگا گلی میں ایک بڑے سے گھر کا آہنی دروازہ کھٹکھانے لگے۔
خاتون خانہ انھیں خون میں لت پت دیکھ کر ڈر ہی گئیں۔صورتحال واضح ہونے پر خاتون نے اپنے شوہر کو آواز دے کے کہا ” دیکھیں نزدیک ایکسڈنٹ ہوا ہے اور زخمی بچے آئے ہیں” حالانکہ پیر صادق شاہ کے علاوہ ان میں کوئ بچہ نہ دکھتا تھا۔
اس گھر کے سربراہ نیشنل ریفائنری کراچی کے سربراہ میر افضل خان تھے۔۔ انھوں نے فوراً مری پولیس اور پی ایم اے کو حادثے کی اطلاع دی۔ اس دوران جب میں بمشکل سڑک پر پہنچا تو وہاں دو پولیس والے اور چند مقای لوگ موجود تھے۔ کچھ دیر بعد وھاں میر افضل خان صاحب کی بھیجی ہوئی جیپ ویگنئر گاڑی آرکی اور امداد کی پیشکش کی۔
اب کچھ مزید زخمی سڑک تک پہنچ چکے تھے۔ میں نے چاروں کو ویگنئر میں لٹایا، ایک پولیس سپاہی کو اگے بٹھایا اور نتھیا گلی کے جانب روانہ ہو گئے۔ میرا خیال تھا ائر فورس بیس کالا باغ(ملک امیر محمد خان والا نہیں) چلتے ہیں۔ لیکن پولیس والے نے رائے دی کہ کالا باغ سے قبل ‘موچی ڈھارا’ نامی جگہ پر ہیلتھ سنٹر میں چلتے ہیں کیونکہ وھاں ایک فلمی یونٹ کی آمد کی وجہ سے ڈاکٹر موجود ہے۔
چنانچہ ڈرائیور نے گاڑی موچی ڈھارا کی جانب موڑ دی۔ نصف شب کو اس پرانی اور بوسیدہ عمارت میں زندگی کے کوئی آثار نہ تھے۔ جب ڈرائیور نے ہارن اور پولیس والے نے دروازے کو بجایا تو ہیلتھ سنٹر کے ساتھ والے ریسٹ ہائوس میں سے ماڈرن لباس میں چند خواتین باہر نکالیں اور ہمیں دیکھ کر گبھرا گئیں۔صورتحال سمجھنے پر انھوں نے زخمیوں کو نکالنے میں مدد کی۔
اسی اثناء میں ہیلتھ سنٹر کا دروازہ بھی کھل گیا اور آدھ سوئے ایک ڈاکٹر صاحب برآمد ہوئے۔ لیکن اس دوران وہ خواتین زخمیوں کو سنبھال چکی تھی۔ سینٹر کے اندر جب روشنی ہوئ تو معلوم ہوا کہ یہ تو فلمی یونٹ کی خوبرو اداکارائیں تھیں اور ان کی سرکردہ فلم سٹار نیلو(اداکار شان شاہد کی والدہ) تھیں۔
بس اسی لمحے میں نے تزاویراتی فیصلہ کیا کہ اب میں ان زخمیوں کی تیمارداری کے لئے موچی ڈھارا میں ہی قیام کرون گا۔ چنانچہ کارروائی دکھانے کے لیے دائیں بائیں باگ دوڑ کرنے لگا۔
اسی کشمکش میں کسی نے مجھے چائے کی پیالی پیش کی، جس کے بعد میرے کچھ ہوش ٹھکانے آئے تو خیال کوندا کہ اگر تم نیلو اور اداکارائوں کے چکر میں “موچی ڈھارا” ہی بیٹھے رہے تو ان بیچاروں کا کیا بنے گا جو ڈونگا گلی کی کھائی میں کھلے آسمان تلے بھیگ رہے ہیں۔
بس کسی سستی فلم کے ہیرو کی مانند غیرت جاگی اور ان چاروں کو نیلو،اس سکھیوں اور اللہ کے حوالے کر کے ڈرائیور کو بادل ناخواستہ بولا کہ مجھے واپس جانے حادثہ پر لے چلو ۔
جب ڈونگا گلی واپس پہنچا تو کافی گاڑیاں اور ہل چل تھی۔ کالا باغ بیس سے کمک بھی آ چکی تھی اور ائر فورس کے چند نیم کمانڈو ٹائپ نوجوان امدادی کارروائیوں میں مصروف تھے۔ یہیں اطلاع ملی کہ ہمارے بٹالین کمانڈر بھی جائے وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں اور بذاتِ خود کیڈٹس کو نکال رہے ہیں۔
ان لوگوں نے مجھے چند زخمیوں کے ساتھ ایمبولینس میں بٹھایا اور کالا باغ ہسپتال روانہ کر دیا۔ اب تک میرے گمان تک میں بھی نہیں تھا ہمارے چند دوست ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔۔
کالا باغ ہسپتال میں ایک سٹیچر پر میرے پلاٹون میٹ اور دور کے کزن راحت منیر دراز تھے اور انھیں آکسیجن لگانے کی کوشش کی جا رہی تھی ۔چند لمحوں بعد سلینڈر ہٹانے کے بعد ان کے منہ پر لال کمبل ڈال دیا گیا۔ اب مجھے احساس ہوا کہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے اور میں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ راحت کو کیا ہوا ہے۔
اس دوران ایک نرسنگ نما آدمی ٹیکہ پکڑے میرے پاس آیا اور اسے میرے بازو میں اتار دیا۔ بعد کی کچھ خبر نہیں۔۔ اگلی صبح بیدار ہونے پر مجھے ناشتہ کرانے کے بعد پے ایم اے کی ایک ایمبولینس میں بٹھا دیا گیا۔ جب ایبٹ آباد کو روانہ ہوئے تو ہمارے آگے پی ایم اے کی کوئ دس فورڈ پک اپس جارہی تھیں جن کے عقبی پردے بند تھے۔
میں نے ڈرائیور سے پوچھا تو اس نے گول مول سا جواب دیا ۔مجھے کیا معلوم ان گاڑیوں میں شہدا کی میتیں جا رہی ہیں۔ سی ایم ایچ ایبٹ آباد پہنچنے پر مجھے دفاتر کے ایک کمرے میں بٹھا دیا گیا۔ کچھ دیر بعد ساتھ والے دفتر سے کوئ آفیسر کسی کو فون پر ایک لیسٹ لکھا رہا تھا۔
ضیا، جاوید ، سلیم ، راحت، ظفر ۔ جوں جوں لسٹ آگے بڑھتی جاتی، میرا دل مزید ڈوبنے لگتا۔ میں بنا پوچھے دوسرے کمرے میں جا دھمکا اور اس آفسر سے صدمے کی حالت میں پوچھا ، “ہاؤ مینی آر نو مور” اس نے کہا 16.
میں نے اس کے ہاتھ سے لسٹ جھپٹی اور پر نم آنکھوں کے ساتھ پڑھتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا اور ذہہن مائوف سا ہو گیا۔ خیر حادثہ کے زخمی کیڈٹس کو سی ایم ایچ کی ایک بیرک خالی کرا کے ایک ساتھ رکھا گیا۔
میں اگرچہ بلکل ٹھیک تھا لیکن مجھے بھی ان کے ساتھ داخل کر دیا گیا۔ ہماری تیمارداری کے لیے نہایت اعلی تربیت یافتہ اور خوبرو نرسنگ سٹاف تعینات کیا گیا۔ پہلے چند روز تو شہدا کی تجہیز و تکفین میں مصروفیت کے کارن کوئ زیادہ وزیٹرز نہ آئے لیکن پھر ہماری نہایت اعلی دیکھ بھال کا سنکر تو تیمار دار کیڈٹس کا تانتا ہی بندھ گیا، جو ہمیں کم اور کسی اور کو دکھنے زیادہ آتے تھے۔
ویک اینڈ پر تو یہ حالت ہوتی کہ مریض پلنگ کے کونے میں سمٹ جاتے اور تیمار دار بستر پر دراز رہتے۔۔ کاکول وآپسی پر تو ہر کوئ بہت خیال سے ملتا۔ ڈرل سٹاف تو لگتا بچپن کے کلاس فیلوز ہیں۔ اکتوبر میں پاسنگ آؤٹ پریڈ تک بنا کس واردات کے بخیریت وقت گزر گیا۔
پاسنگ آؤ ٹ کے دن اپنے 16 ساتھیوں کی غیر موجودگی نے دل اداس کر دیا لیکن اپنے اور کورس میٹس کے افسر بننے کی خوشی بھی تھی۔
اس سانحے کے بعد چند دلچسپ باتیں معلوم ہوئیں ۔ کیڈٹ فقراز خان گیا تو ہمارے ساتھ، لیکن واپسی پر مری ہی رک گیا، شاید کسی فرشتے نے ٹپ دے دی تھی۔اسی طرح ضیاء ، ندیم اور سر حامد رولپنڈی ویک اینڈ پر تھے لیکن واپسی پر ہمارے ساتھ ہو لئے۔ ضیا بھی شہداء میں شامل تھا۔
اس پورے سانحے میں میرے پلاٹون میٹ اور پڑوسی جاوید لودھی کو بس ایک ہی فکر لاحق تھی کہ “میرے بوٹ کدھر گئے” ۔
اس حادثہ کے کوئ دس برس بعد پنڈی صدر میں میرا سامنا راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے مرحوم دوست محمد سلیم کے والد سے ہوا جو 2 کمانڈو بٹالین سے ریٹائرڈ فراگ مین تھے ۔ بڑی گرمجوشی سے ملے ساتھ ایک چھوٹے بچے کا تعارف کرایا اور نام سلیم بتایا۔ میرے استفسار پر بولے سلیم میرا اکلوتا بیٹا تھا ۔ اس کے انتقال کے بعد میں نے دوبارہ شادی کی اور اللہ نے ایک اور سلیم دیا ہے۔



