6 جولائی 2001کی وہ شام مجھے کبھی نہیں بھولے گی جب مجھے گھر سے فون پر بتایا گیا کہ عمرین کی طبیعت بہت خراب ھے جلدی گھر پہنچیں۔۔اور میں دل ھی دل میں عمرین کی سلامتی کی دعائیں کرتا ھوا دفتر سے گھر پہنچا تو گھر کے تمام افراد عمرین کے ارد گرد جمح تھے کوئی قرآن پاک کی تلاوت کر رھا تھا تو کوئی سورت یسین پڑھنے میں مصروف تھا اور کوئی کلمہ طیبہ کا ورد کر رھا تھا۔ میں تمام صورتحال دیکھ کر فوراًعمرین کی چارپائی کی طرف لپکا اور دیکھا کہ عمرین اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رھی تھی اور وقت نزع بالکل قریب تھا وہ بھی شاید اپنے بابا کے انتظار میں تھی کہ کب میرے بابا آئیں اورتب میں سب کو خدا حافظ کہ دوں۔عمرین کی حالت دیکھ کر میرا دل کٹ کر رہ گیا۔با با بابا آؤ مل لو مجھے۔اسنے اپنے ناتواں بازو کھول دیے اور میں نے اپنا گلا اس کے گلے سے لگایا اور پھر اسے جیسے سکون سا مل گیا ھو میں نے اس کے زرد چہرے پر گہری طمانیت محسوس کی۔عمرین اپنے بابا کو چھوڑ کر نہ جانا۔عمرین کے چہرے پر ایک بے جان سی مسکراھٹ ابھری اور میں نے سوال کیا ۔میری جان ۔مجھے اتنا بتا دو کیا تم اپنے بابا سے ناراض تو نہیں ھو۔نہیں بابا میں بہت خوش ھوں آپ سے۔عمرین کی حالت ھر گزرتے لمحے کے ساتھ غیر ھوتی جارھی تھی۔عمرین پڑھو لا الہ الا اللہ محمد رسول للہ۔عمرین نے جونہی کلمہ طیبہ پڑھا اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔اناللہ واناالیہ راجعون۔گھر والے سب رو رھے تھے۔میرے چہرے پر مردنی چھائی ھوئی تھی اور میں اس کی ڈیڈ باڈی کے قریب پتھر بنا بیٹھا تھا اور پھر میرے دماغ میں ایک جھماکہ سا ھوا اور عمرین کی زندگی کے 11سالہ لمحات میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے۔عمرین اس وقت 4 سال کی تھی جب میں نے اسے سکول داخل کروایا ۔ساتھ ساتھ مسجد میں قرآن پاک سیکھنا اور پڑھنا اس کا محمول بن گیا۔اور ماشاءاللہ 7سال کی عمر میں مکمل قرآن پاک پڑھ لیا۔ جیسے وہ قرآن پاک کی بے حد پیاری تلاوت کرتی تھی بالکل اسی طرح انگریزی اور اردو فر فر پڑھتی تھی۔ماشاءاللہ اس قدر ذھین تھی کہ دیکھنے والا دیکھتا رہ جاتا تھا۔ھر ھفتے چھٹی والے دن ھمراہ اپنی چھوٹی بہن کے میرے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ کر انارکلی جانا محمول تھا اور وھاں ایک ریڑھی سے 10روپے والی گڑیا اور کھلونوں کے پیکٹوں سے شاپر بھر کر لانا ھوتا تھا۔اور پھر دونوں بہنوں نے چھت پر جا کر دری بچھا کر دکان سجانی ھوتی تھی اور اپنی ماما اور مجھے بلا کر مہنگے داموں سودا بیچنا ھوتا تھا ۔یوں وہ اپنے بابا کی لاڈلی بیٹی بنتی گئی اور پاپا کی زندگی کا بھی ایک ھی مشن تھا کہ اس کی ھر فرمائش کو پورا کرنا۔یوں وہ سب بہن بھائیوں کی آنکھ کا تارا بن چکی تھی۔وقت گزرتا گیا اوروہ کلاس 5 میں پہنچ گئی۔جنوری 2001میں اسکی طبیعت خراب ھونا شروع ھوئی اور اسے روزانہ خالی پیٹ الٹیاں آنی شروع ھوئیں اور ھم نے ھر اچھے ڈاکٹر سے اسکا علاج کروایا مگر یہ سلسلہ رک نہ سکا ۔نتیجتاًپڑھائی چھوٹ گئی۔اور میں ھر وقت پریشان رھنے لگا۔عمرین کی صحت دن بدن گرتی چلی گئی۔اور پھر میں نے عمرین کو چلڈرن ھسپتال لاھور داخل کروا دیا۔اس وقت چلڈرن ھسپتال کے ڈاکٹر ساجد مقبول MS تھے اور میرے دوست تھے ۔اوران کی خصوصی شفقت مجھے ھمیشہ یاد رھے گی۔ا ور ڈاکٹر قمر وارڈ انچارج تھےجو کہ میرے کولیگ اور شاگرد رضوان میٹر ریڈر کے چچا تھے۔مجھے کسی بھی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ڈاکٹر ز کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ ھم بیماری diagnose کر کے چھوڑیں گے اورعلاج کریں گے۔ میں عمرین کی دن رات دل جو ئی کرتا رھا اور اس کے ٹیسٹ ھوتے رھے ۔لیکن کسی ٹیسٹ میں کچھ نہیں آیا اور بالاخر ڈاکٹر ندیم ملک نیورو سرجن نے دماغ کا MRI ٹیسٹ کروایا۔اور رپورٹ کا انتظار ھونے لگا۔ڈاکٹر قمر عمرین سے بہت پیار کرتے تھے اور وہ بھی ان سے کافی مانوس ھو گئی تھی۔اور میری بھی اکثر ڈاکٹر قمر سے بات چیت ھوتی رھتی تھی۔اور مجھے اب یہی کہ رھے تھے کہ یار بچی اتنے حوصلے والی ھے کہ اس کے جسم میں درد بھی ھوتا ھے تو بولتی ھے کہ میں ٹھیک ھوں۔مجھے اس کی حالت دیکھ کر بڑا دکھ ھوتا ھے ۔MRI رپورٹ میں برین ٹیومر آگئی۔پھر ڈاکٹر ندیم ملک نے ریڑھ کی ھڈی سے کٹ کر کے چھوٹا اپریشن کیا تاکہ پتہ چل سکے کہ ٹیومر ٹی بی کی ھے یا پھر کینسر کی۔سیمپل لیبارٹری بھجوا دیا گیا اور چند دن بعد رپورٹ ملنا تھی۔اس دوران ڈاکٹر قمر میری ڈھارس بندھاتے رھے اورمجھے یہی کہتے رھے یار دعا کرو ٹی بی کی رپورٹ آئے جس کا علاج آسانی سے ممکن ھے۔رپورٹ کا بے چینی سے انتظار ھونے لگا اور پھر وہ وقت بھی آگیا جب ڈاکٹر قمر مجھ سے پہلے رپورٹ لا چکے تھے اورمیرے باربار اصرار کے باوجود بتایا نہیں جا رھا تھا کہ رپورٹ میں کیا ھے۔آخر کار ڈاکٹر قمر ھمارے روم میں آئے اور وہ مسلسل عمرین کی طرف دیکھتے جا رھے تھے اور پھر ان کی آنکھوں سے دو آنسو گرے۔۔اورانہوں نے دیوانہ وار مجھے گلے لگا لیا اور بولے حوصلے سے میری بات سنو ۔یار کینسر کی رپورٹ آئی ھے اور میری آنکھوں سے ساون بھادوں کی جھڑی لگ گئی۔۔اور رات کے راؤنڈ پر ڈاکٹر ساجد مقبول اور نیورو سرجن ندیم ملک خود تشریف لائے اور آپریٹ کرنے کا فیصلہ سنا دیااور وہ پروسیجر بتایا کہ سن کر انسان پاگل ھوجائے۔مجھے 2 دن سوچ کر فیصلہ کرناتھا کہ بچی کو آپریٹ کروانا ھے یا گھر لے کر جانا ھے۔میں نے ڈاکٹر قمر سے مشورہ کیا کہ کیا کرنا چاھیے۔انہوں نے کہا کہ As aڈاکٹر ھمیں آخری وقت تک مریض کی جان بچانے کی فکر ھوتی ھے اس لیے ڈاکٹر جو کہتے ھیں انہیں کرنے دیں۔پھر میں نے ڈاکٹر اکبر حسین جو کہ میرے دوست اور جناح ھسپتال کے ایڈ منسٹریٹر تھے سے ان کے گھر جا کر مشورہ کیا۔انہوں نے مجھے ڈاکٹر بن کر نہیں بلکہ دوست بن کر مشورہ دیا۔کہ عمرین کو گھر لے جاؤ اور اس کی خدمت کرو ۔اسے اتنے بڑے عذاب سے مت گزارنا۔کیونکہ جہاں برین ٹیومر ھے وھاں اپریشن سے کوئی ڈاکٹر 50% سے زیادہ removeنہیں کر سکتا اور اپریشن بھی بڑا خطر ناک ھے۔اور باقی ماندہ ٹیومر کو شعائیں لگیں گی۔اور یہ پراسیس کامیاب ھو بھی گیا تو اس کو 5 سال زندگی مل سکتی ھے اور اس کے بعد پھر اندھیرا ھی اندھیرا ھے ۔اورمیں بوجھل دل سے واپس چلڈرن ھسپتال آگیا۔مسلسل 3ماہ ھسپتالوں کے دھکے اور نیند پوری نہ ھونے کی وجہ سے میری صحت بھی گر چکی تھی اور اس کی والدہ کا بھی برا حال تھا اور اوپر سے عمرین کو کینسر کا درد شدت اختیار کرتا جا رھا تھا۔ رات کو ڈاکٹر ندیم ملک راؤنڈ پر آئے اور اپریشن کے لیے مجھے قائل کرنے لگے اور وہ اپنے فرائض منصبی کے ھاتھوں مجبور تھے لیکن بچی کی آپریشن تھیٹر سے واپسی پر بھی پر امید نہ تھے اور اگلے دن میں اورخصوصاً اس کی والدہ نے اپریشن نہ کروانے کا فیصلہ کر لیا اور یوں ھم اپنے محسن ڈاکٹروں کے اپریشن کے بے حد اصرار کے باوجود ان کا شکریہ ادا کر کے بچی کو گھر لے آئے۔ آپریشن کی کامیابی کی امید اس لیے بھی دم تو ڑ چکی تھی کہ عمرین بے حد کمزور ھو چکی تھی اور ڈاکٹر ندیم ملک نے ھسپتال سے جاتے ھوئے بتایا تھا کی بچی کم وبیش 2 ماہ تک زندہ رھے گی۔ عمرین کے منہ سے نکلی ھوئی ھر بات اور خواھش کو پورا کرنا میں نے اپنا مقصد بنا لیا۔راتو ں کو تمام گھر والوں سے چھپ چھپ کر روتا رھتا تھا بیٹی سے جدائی کا تصور بھی محال تھا اور خدا کے لکھے کو کون ٹال سکتا تھا۔میں جب بھی عمرین سے دفتر سے واپسی پر پو چھتا ۔لاڈو کیسی ھو۔میں ٹھیک ھوں بابا۔ اتنے شدید درد کے باوجودکبھی یہ نہیں کہتے سنا کہ اسے شدید تکلیف ھے ۔ھم درود شریف پڑھ کر پھونک مارتے تو درد کی شدت کم ھو جاتی تھی جب کہ کوئی گولی ٹیکہ اثر نہیں کرتا تھا۔بچی کی نظر بے حد کمزور ھو چکی تھی اور بعض اوقات آنکھوں سے نظر آنا بند ھو جاتا تھا اور کچھ دیر بعد دوبارہ بھی نظر آنا شروع ھو جاتاتھا۔ھائے میں قربان پتری تیریاں تکلیفاں توں۔ میں مر جاواں۔میں دفتر سے واپسی پر آواز دیتا ۔کہ بچے کیا حال ھے تو مجھے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ میں ٹھیک نہیں ھوں۔ اور میں نے کھانے سے لیکر کھلونوں تک اس کی ھر فرمائش پوری کی۔اور پھر 6جولائی کی آخری ملاقات کر کے میرے ھاتھوں میں مجھ سےبچھڑ گئی کبھی نہ آنے کے لیے۔جیسے کہ رھی ھو بابا میرے کھلونے سنبھال کر رکھنا ۔میری گڑیاں سنبھال کر رکھنا۔سا ڈا چڑیاں داچمبا ای بابل اسیں اڈ جانا۔۔۔۔۔میں گم سم عمرین کی یادوں سے اس وقت باھر نکلا جب کوئی میرے گلے لگ کر رو رھا تھا۔ اگلے دن مورخہ 7 جولائی کو عمرین اپنے آخری سفر پر روانہ ھوگئی۔اور اس کا با با چپکے چپکے اس کی یاد میں روتا رھتا۔اپنے آپ کو سنبھالنا مشکل ھوگیا لیکن وقت ایک ایسا مرھم ھے جو ھر گزرتے لمحات کے ساتھ ساتھ بڑے سے بڑے زخموں کو بھر دیتا ھے۔ اور عمرین اپنی وفات کے دس دن بعد مجھے خواب میں ملی کہ بابا آپ مت رویا کرو میں جنت کے باغوں میں بہت خوش ھوں۔ آپ میری امی کا خیال رکھیے گا۔پھر دوبارہ میرے خواب میں تو نہیں آئی لیکن میں اسے کبھی بھلا نہیں پاؤں گا اس سے ملا قات ھو گی ضرور ھو گی اور روز محشر ھوگی۔ اور آج بھی اس کی گڈیاں کھلونے کتابیں اور کاپیاں محفوظ ھیں۔اور جب اس کی یاد آتی ھے قبر پر فاتحہ کہ آتا ھوں اس دعا کے ساتھ خدا تجھ پر اپنی رحمتوں کی بارش کرے اور ھماری جدائی کا یہ فیصلہ میرے مولا کا فیصلہ تھا اور میں اسے قبول کرتا ھوں(جاری ہے) تحریر۔محمد اصغر لاہور
عمرین — میرے دل کا ٹکڑا، جو ہمیشہ زندہ رہے گی



