تحریر: عابد حسین قریشی
انسانی رویوں پر غور و فکر کرتے ہوئے یہ خوبصورت جملہ کانوں کی سماعت سے ٹکرایا کہ انسان کو ہر دس سال بعد اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور دیکھنا چاہیئے کہ گزشتہ دس سالوں میں اردگرد کی دنیا کتنی بدل چکی ہے اور کیا وہ بھی اس بدلتی دنیا کے ساتھ اپنے رویوں میں تبدیلی محسوس کر رہا ہے یا ابھی تک پرانی ڈگر پر ہی چل رہا ہے۔ بات بڑی دلچسپ بھی تھی اور معنی خیز بھی۔ جب اسے اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کی تو کچھ حیرانگی ضرور ہوئی کہ ہم نے تو کبھی اس بات کی ضرورت ہی محسوس نہ کی کہ اس بات پر غور کریں کہ وقت کے بدلتے دھارے کے ساتھ کیا ہم نے اپنے آپ کو بدلنے کی شعوری کوشش کی۔ ہم تو اپنی الجھنوں میں ہی الجھے رہے اور بقول منیر نیازی۔ کچھ وقت چاہتے تھے کہ سوچیں تیرے لیے۔ تو نے وہ وقت ہم کو زمانے نہیں دیا۔ جونہی زمانہ طالب علمی ختم ہوا اور عملی زندگی کی سنگلاخ زمینوں ، دشوار گاٹیوں ، بے رحم زمینی حقائق ، سخت اور ناقابل تسخیر چیلنجر سے آنکھیں چار کرنے کا وقت شروع ہوا۔ پھر سرکاری ملازمت کے اپنے کچھ تقاضے ہوتے ہیں، اور ملازمت بھی شعبہ عدل میں۔ کہ جہاں بعض اوقات واقف کاروں اور اچھے خاصے تعلق داروں سے بھی اجنبیوں والا سلوک کرنا پڑتا ہے ۔ لوگ اس وقت آپکی تند و ترش اور سخت باتیں بھی برداشت کر لیتے ہیں کہ بندہ ابھی کرسی پر ہوتا ہے اور اس مادی دنیا میں کسی وقت بھی کوئی کام پڑ سکتا ہے، مگر سلسلہ ملازمت ختم ہونے پر لوگوں کے بدلتے رویے بڑے دلچسپ بھی ہوتے ہیں، معنی خیز بھی اور بعض اوقات تکلیف دہ بھی۔ مگر اس میں نہ تو کوئی حیرانگی والی بات ہوتی ہے نہ پریشانی والی کہ یہ یہی دستور زمانہ ہے۔ یہی چلن ہے، یہی رواج ہے، یہی روایات ہیں اور یہی رویے اور معاملات ہیں۔ اسی طرح کے حالات میں بقول مجید امجد۔ گھات پہ ہو منتظر چلے پہ تیر. ہرنیوں کو چوکڑی بھرنی تو ہے،۔ دوست یہ سب سچ ہے لیکن زندگی. کاٹنی تو ہے، بسر کرنی تو ہے۔ ہمارے خیال میں انسان کی زندگی میں وہ لمحہ، وہ پل ضرور آنا چاہیے جہاں ذرا رک کر لوگوں کے بدلتے رویوں پر نکتہ چیں اور نوحہ کناں ہونے کی بجائے اپنے رویوں پر غور و خوض اور فکر و تدبر کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔۔ اگرچہ انسانی زندگی میں خود شناسی ، خود احتسابی اور خود آگاہی کی منزل بہت مشکل سے آتی ہے اور اکثر اوقات انسان اپنی خودی اور انا کے منہ زور گھوڑے پر سوار نظر آتا ہے مگر چلیں خود احتسابی تو ذرا مشکل کام ہے ، خود شناسی اور خود آگاہی تو ممکن ہے۔ اور اگر انسان اپنے رویوں پر کم از کم اپنی زندگی کے دس سال گزرنے پر ہی غور وفکر کر لے تو بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے ۔ اگر دس سال پہلے آپ جوان تھے تو دس سال بعد آپ ڈھلتی عمر میں داخل ہو گئے اور اس کے تقاضے بھی بدل گئے ۔ اسی طرح آپ کے بچوں کی بڑھتی عمر کے ساتھ انکی ضروریات کے ساتھ ساتھ انکی سوچ میں تبدیلی بھی آتی جائے گی ۔ آپکے اردگرد دوست احباب ، عزیز رشتہ دار وہ بھی تو ان دس سالوں میں بدل چکے ہونگے۔ اور مزید دس سال گزرنے پر تو ایک زمانہ گزر چکا ہوگا۔ لہزا یہ کیسے ممکن ہے کہ آپکے آس پاس تو ہر چیز بدل جائے مگر آپ وہیں ساکت و جامد رہیں۔ آپکو بھی زمانہ کے ساتھ بدلنا ہوگا۔ اپنے رویے بدلنا ہونگے، اپنے اندر وقت کی رفتار کے ساتھ تبدیلی لانا ہوگی۔ آپ سے جڑے لوگ خصوصاً آپکے بیوی بچے، آپکے رشتہ دار، دوست احباب سبھی یہ تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں اور فرض کریں کوئی بھی آپ کی ذات میں دلچسپی نہیں رکھتا پھر بھی اپنے رویوں پر وقتاً فوقتاً نظر رکھنی ہوگی کہ کہیں ان میں ضد اور ہٹ دھرمی تو نہیں۔ کہاں کہاں یہ رویے بدلنے کی ضرورت ہے۔ کب اور کیسے بدلنے ہیں یہ ہر انسان پر خود منحصر ہے مگر یہ بات طے ہے کہ اس دنیا میں زندہ رہنے کے لیے بلکہ پرامن اور خوشحالی اور خوشگواری کی زندگی گزارنے کے لیے اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنے اور ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے . ہمارے خیال میں انسان کسی عمر میں بھی ہو، اسکی جھوٹی انا اسے تنگ کرتی ہے۔ آپ صاحب اختیار ہیں، تو یہ آپکا لہجہ، تیور، بدن بولی کچھ اور طرح کے احساس تفاخر کا شکار ہوگی۔ اور اگر آپ عام آدمی ہیں تو یہ سب کچھ مختلف ہوگا۔ زندگی میں بڑے کم لوگ ملتے ہیں، جو ہر طرح کی صورتحال میں ایک جیسے متوازن رویوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، ورنہ عمومی طور پر لوگ افراط و تفریط کا شکار ہی نظر آتے ہیں۔ بیلنس یا متوازن رویہ ہر عمر، ہر وقت اور ہر عروج و زوال میں اکسیر ہے۔ اور ایک پر امن، اور مطمئن و خوشحال زندگی کا ضامن بھی۔



