تحریر: سعدیہ نارو
جھولا سے پایو کیمپ
۲۲ ۔ ۲۳ جولائی ۲۰۲۵
جولائی کی بائیس تاریخ تھی۔ جھولا کیمپ سائٹ پر جب میں خیمے سے باہر نکلی تو صبح ابھی پوری طرح بیدار نہیں ہوئی تھی۔ ہر طرف روح کو چھو جانے والی ایک گہری خاموشی تھی۔ نہ کسی کے قدموں کی آہٹ، نہ آواز کا شائبہ بس ایک گہرا سناٹا۔ نجانے یہ پہاڑوں کی طرف لوٹنے کی خواہش ہے یا خود کو آزمانے کی ایک لگن جو مجھے ہر برس شہروں کی ہنگامہ خیزی سے نکال کر ان وادیوں میں کھینچ لاتی ہے۔ میں انہی خیالات میں گم خاموش کھڑی تھی کہ آہستہ آہستہ خیموں میں ہلچل ہونے لگی۔ کہیں ٹارچ کی روشنی جھلکی تو کہیں زِپ کھلنے کی آواز سنائی دی۔ گروپ کے ساتھی جاگنے اور تیار ہونے لگے تھے۔ کوئی سامان باندھ رہا تھا تو کوئی جوتے کس رہا تھا۔ کیمپ سائٹ ایک بار پھر زندگی سے بھرنے لگی تھی۔

علی الصبح ہمیں پایو کیمپ کی جانب نکلنا تھا۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی کچن اسٹاف ناشتے کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔ ہم تیار ہو کر میس کیمپ میں ناشتہ کرنے بیٹھ گئے۔ باہر خچروں پر سامان لادا جا رہا تھا اور پورٹر خیمے سمیٹ رہے تھے۔ ناشتہ ختم کرتے ہی سب نے اپنی پانی کی بوتلیں بھریں کیونکہ آج بھی سفر کے دوران صاف پانی کا حصول ممکن نہ تھا اور ایک ایک گھونٹ قیمتی بننے والا تھا۔ عمیر نے روانگی کا جو وقت گزشتہ رات طے کیا تھا اس وقت تک سب ممبرز تیار کھڑے تھے۔ کمر بند، سازوسامان درست، اور دل میں ایک اور پہاڑی دن کی مسافت کا عزم لیے ہوئے۔ صبح ٹھیک چھ بجے ہم نے پایو کیمپ کی جانب ٹریکنگ کا آغاز کیا۔ تازہ دم ٹریکرز چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں اپنے گائیڈز کے ہمراہ آگے پیچھے رواں دواں تھے۔ فضا میں ایک تازگی اور ایک انجانی سی سرشاری محسوس ہو رہی تھی۔

آج بھی موسم گرم اور خشک تھا۔ جیسے جیسے سورج بلندی پر آ رہا تھا گرمی کی شدت بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ ہم دریائے برالدو کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے جو پتھروں سے الجھتا، شور مچاتا نشیب کی جانب بہہ رہا تھا۔ ایک بے قابو مگر مسلسل بہاؤ۔ اردگرد کا ماحول، پہاڑوں کی خاموش عظمت، اور فطرت کا جلال دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا۔ چلتے چلتے جب تھکن ہم پر حاوی ہونے لگتی تو ہم کسی بڑے پتھر پر بیٹھ کر چند لمحے سستا لیتے۔ سانس بحال کرتے، پسینہ پونچھتے، اور پانی کے چند گھونٹ پی کر پھر چل پڑتے۔ میرے کان دریا کے مسلسل شور میں الجھے رہے اور نظریں قدموں پر مرکوز رہیں۔

دن کے تقریباً گیارہ بجے ہم بردومل پہنچے، جہاں ہماری ٹیم نے کیمپ لگا رکھا تھا اور لنچ بریک کے لیے سستانے بیٹھی تھی۔ گرمی یوں زوروں پر تھی جیسے سورج سوا نیزے پر ہو اور اردگرد میلوں تک کوئی درخت نہیں تھا۔ کچھ پورٹر پتھروں کی اوٹ میں بیٹھے تھکن اتار رہے تھے جبکہ باقی دھوپ میں ہی زمین پر بیٹھے تھے۔ ان کے خچر دائیں بائیں پھیلی خودرو گھاس چر رہے تھے۔ شکم سیری اور مختصر آرام کے بعد ہم نے دوبارہ رختِ سفر باندھا۔ دورانِ سفر کئی غیر ملکی گروپس بھی ملے۔ چہروں پر مسکراہٹیں، آنکھوں میں تھکن اور لبوں پر مختصر مگر دل سے نکلی دعائیں۔ چند لمحوں کی مسکراہٹوں کا تبادلہ اور پھر سب اپنے اپنے راستے کی جانب بڑھ جاتے۔
اس دن ہمیں تقریباً اکیس کلومیٹر کا طویل، تھکا دینے والا اور مشکل سفر درپیش تھا۔ نہ صرف ہمارے لیے، بلکہ جانوروں کے لیے بھی۔ ایک پورٹر دو بکریوں کی رسی تھامے ہمارے ساتھ چل رہا تھا۔ گرمی اور پیاس کی شدت سے ایک بکری لڑکھڑا کر زمین پر گر گئی اور بری طرح ہانپنے لگی۔ علی بھائی اور ان کے بیٹے حسام نے فوراً اپنی پانی کی بوتلوں سے اسے پانی پلایا اور یوں اس بے زبان کی جان بچ گئی۔ جہاں پینے کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نایاب ہو وہاں ایک جانور کو اپنی ذات پر ترجیح دینا اعلیٰ ظرفی اور سخاوت کی وہ مثال ہے جو کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔
دھوپ، دھول اور تھکن نے ہم سب کا حال بے حال کر رکھا تھا مگر سب نے کمال ہمت کا مظاہرہ کیا۔ راستے میں کئی تیز نالے بھی آئے جنہیں عبور کرنا آسان نہ تھا لیکن ہمارے قدموں میں ہچکچاہٹ نہ آئی۔ اُتار چڑھاؤ سے بھرا ہوا یہ سفر مزید ڈھائی گھنٹے جاری رہا یہاں تک کہ ہم دریائے برالدو کے کنارے اُتر آئے۔ اس مقام پر تقریباً سو میٹر کی سیدھی، کھڑی چڑھائی ہمارا انتظار کر رہی تھی۔ اس سے پہلے ہم نے کچھ دیر سستانے کے لیے بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔ چڑھائی عبور کرنے کے بعد ہم دریائے برالدو کے ساتھ ساتھ ایک تنگ پگڈنڈی پر متوازن رفتار سے آگے بڑھنے لگے۔ گائیڈ احمد ہم سے آگے تھا مگر اس کی نظریں ہر وقت ہم پر تھیں۔ جیسے ہی ہم سست پڑتے وہ کسی چٹان کے سائے میں رک کر ہمارے پہنچنے کا انتظار کرتا اور ہماری ہمت بڑھانے کی کوشش کرتا۔ خاموشی سے دی جانے والی یہ رہنمائی میرے دل میں گھر کر گئی اور ہمیشہ یاد رہے گی۔
پایو کیمپ سے کچھ دیر پہلے ہریالی اور سبزہ آنکھوں کو چھو گیا۔ دن بھر سنگلاخ ویرانوں کی خاک چھاننے کے بعد جب درختوں کے جھنڈ دکھائی دیے تو یوں لگا جیسے زندگی نے دوبارہ سانس لینا شروع کر دی ہو۔ کیمپ سائٹ کے آثار نمودار ہوتے ہی قدموں میں خودبخود تیزی آ گئی۔ دریائے برالدو کے کنارے، گھنے درختوں کے سائے میں چھپی ہوئی پایو کیمپ سائٹ پر جب نظر پڑی تو دل میں ایک عجیب سی خوشی بھر گئی۔ ایسی خوشی جو صرف ایک تھکا ہارا، راستہ ناپتا مسافر ہی محسوس کر سکتا ہے۔ منزل سامنے تھی اور میں شاداں و فرحاں اُس کی جانب قدم بڑھا رہی تھی۔ میرے من چاہے سفر کے دو طویل، تھکا دینے والے دن صبرو حوصلے اور عزم کے ساتھ کٹ چکے تھے۔ اچھی صحت، بہترین ٹیم لیڈر اور ہم مزاج ساتھیوں کی موجودگی نے اس سفر کو مزید خوشگوار بنا دیا تھا۔ اور ہر گزرتے دن کے ساتھ میں کے ٹو کے ایک قدم اور قریب ہو رہی تھی۔
پایو کیمپ سائٹ اب تک کی سب سے دلکش اور خوبصورت جگہ تھی۔ ہمارے علاوہ کئی دیگر گروپس بھی یہاں قیام پذیر تھے۔ ایک غیر ملکی گروپ جو ٹرینگو ٹاورز کی مہم پر تھا وہ بھی یہاں پہنچ چکا تھا۔ حسبِ روایت ہمارے خیمے نصب ہو چکے تھے اور چائے و دیگر لوازمات بھی تیار تھے۔ کچھ ساتھی میس کیمپ میں خوش گپیوں میں مصروف تھے اور کچھ اپنے خیموں میں آرام کر رہے تھے۔ سٹاف ممبرز رات کے کھانے اور دیگر انتظامات میں مصروفِ عمل تھے۔ تین ہموار سطحوں پر مشتمل یہ کیمپ سائٹ زندگی سے بھر گئی تھی۔ رات کے کھانے کے بعد کسی کو سونے کی جلدی نہیں تھی کیونکہ اگلا دن مکمل آرام کا دن تھا۔ یہی وجہ تھی کہ رات گئے تک میس کیمپ میں باتوں اور قہقہوں کا ہلکا ہلکا شور گونجتا رہا۔
۲۳ جولائی کو دن کا آغاز حلوہ پوری اور پراٹھوں کے پر تکلف ناشتے سے ہوا۔ ناشتہ ختم ہوتے ہی کچھ ساتھی نہانے اور کچھ کپڑے دھونے میں مصروف ہو گئے۔ چونکہ پانی صاف اور وافر مقدار میں دستیاب تھا تو میں نے بھی وقت اور موقع سے فائدہ اٹھایا۔ جلد ہی کیمپ کے آس پاس کی جھاڑیوں پر رنگ برنگے دھلے ہوئے کپڑے سوکھنے کو پھیل چکے تھے۔ کیمپ میں ہر طرف چہل پہل، ہنسی، آوازیں، اور تازگی کا احساس تھا۔ کیمپ سائٹ سے غیر ملکی گروپ روانہ ہو چکا تھا اور ان کی جگہ سعدیہ مقبول کا گروپ آ چکا تھا۔
وقت سست روی سے گزر رہا تھا جیسے خود بھی آرام کا دن منا رہا ہو۔ ایسے میں عمیر نے سب ممبرز کو اکٹھا کیا اور انہیں ایک دلچسپ دماغی کھیل “Prisoner’s Dilemma” میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ تمام ممبران کو چار گروپس میں تقسیم کر کے کیمپ کے مختلف کونوں میں بٹھایا گیا۔ ہر گروپ نے ایک ہزار روپے جمع کروائے۔ شرط یہ تھی کہ یا تو ایک گروپ تمام رقم جیتے گا، یا اگر مقابلہ برابر رہا تو سب مل کر ایک اجتماعی پارٹی کریں گے۔ گیم میں ذہانت، حکمتِ عملی اور اعتماد کا امتحان تھا۔ سب نے اسے خوب انجوائے کیا اور آخرکار نتیجہ برابری پر ختم ہوا۔ چنانچہ جمع شدہ رقم سے کیمپ کی کینٹین سے کوکا کولا کی بوتلیں خریدی گئیں جو بعد میں سب نے مل کر کھانے کے ساتھ انجوائے کیں۔ لیکن گیم کا اصل حسن اس کے بعد شروع ہوا۔ جب سب گروپس ساتھ میں بیٹھے اور اس تجربے کے اثرات پر بات چیت کی۔ گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ چاہے بات رشتوں کی ہو یا دوستی کی، کاروبار کی ہو یا کسی ادارے کی، ہر تعلق کی بنیاد “اعتماد” ہے۔ یہ کھیل صرف تفریح نہیں تھا بلکہ ایک خاموش سبق بھی تھا جو دلوں میں کہیں نہ کہیں نقش ہو چکا تھا۔
دوپہر کے وقت موسم نے اچانک کروٹ لی۔ افق پر بادل اُمڈ آئے، ہوائیں تیز ہو گئیں اور پھر بارش نے کیمپ کو گھیر لیا۔ جھاڑیوں اور خیموں پر سوکھنے کو ڈالے گئے کپڑے آدھے بھیگ چکے تھے جن کو سب نے بھاگ بھاگ کر سمیٹا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد جب موسم کچھ بہتر ہوا تو عمیر نے ہم سب کو اپنی ٹیم کے ہمراہ کیمپ کے قریب واقع ایک پہاڑی ڈھلان پر *جی جی لا* کی ٹریننگ کے لیے روانہ کر دیا۔ موسیٰ، احمد اور نور عالم نے ہمیں crampons, carabiners, harness اور Jumar کے استعمال سے چڑھائی اور اترائی کی مشق کروائی۔ میرے لیے یہ تجربہ بالکل نیا اور سنسنی خیز تھا۔ ہر تکنیک، ہر گرِپ، اور ہر قدم ایک نیا سبق تھا۔ میرے لیے یہ پہاڑ سے ہم آہنگی، خود پر بھروسہ، اور آنے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کی ذہنی تیاری تھی۔
رات کے کھانے پر تمام ممبرز میس کیمپ میں جمع ہوئے تو عمیر نے اگلے دن کی بریفنگ دی۔ اس لمحے کیمپ پر خاموشی طاری ہو گئی جب انھوں نے بتایا کہ یہ آخری کیمپ سائٹ ہے جہاں ہمیں درختوں کا سایہ اور سونے کو ہموار زمین میسر ہے۔ اگلی صبح سے ہمارا سفر بالتورو گلیشیئر پر شروع ہونا ہے۔ جو برف، پتھروں اور کیچڑ سے بھرپور وہ ٹریک ہے جہاں نہ سبزہ ہوتا ہے اور نہ ہموار سطح۔ اگلی صبح شروع ہونے والی ٹریکنگ کی نوعیت پچھلے تمام دنوں سے مختلف اور زیادہ کٹھن تھی۔ کھانے کے بعد کیمپ میں قہقہے اور چہل پہل مدھم پڑ گئی اور سب ممبران آرام کی غرض سے اپنے خیموں کی طرف لوٹ گئے۔
جاری ہے۔۔۔



