صدر زرداری کادورہ چین! پاکستان کے معاشی مستقبل کیلئےبڑی خوشخبریاں آئیں گی!

تحریر: سجاد اظہر پیرزادہ

1951 سے اب تک جب دنیا کے کئی ملک دوست سے دشمن بن چکے، ایک جہاں حیران ہے کہ پاک چین دوستی ابتک کیسے قائم ہے، مفاد کی دنیا کو کیا معلوم کہ جب کوئی رشتہ صرف فائدہ حاصل کرنے کے لیے قائم کیا جائے تو ہی اس میں خلوص نہیں ہوتا جیسے ہی مفاد ختم ہوتا ہے رشتہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ 

 پاکستان اورچین کے درمیان 21 مئی 1951 ءکو باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہوئےتھے، 1951 سے وفا،قربانی اور احترام کے دھاگے میں پروئی پاک چین دوستی مگر دنیا اور دنیا کے لوگوں کیلئے ایک مثال ہے کہ تعلقات کیسے نبھائے جاتے ہیں۔  

ایک بار پھر پاک چین دوستی ایک نئے سنگِ میل کی طرف گامزن ہے، صدر آصف علی زرداری نے چین کا سرکاری دورہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے، اس دورے میں سی پیک کے اگلے مرحلے پر کام انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی، زرعی ترقی، دفاعی تعاون اور سماجی روابط جیسے شعبے زیرِ غور آئیں گے، یہ دورہ نہ صرف سفارتی اعتبار سے اہم ہے بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے بھی بڑی خوشخبریاں لے کر آئے گا،صدر زرداری کادورہ چین کے مختلف شہروں میں ہوگا، صدر آصف زرداری سےچین کی کمیونسٹ پارٹی کےاعلٰی عہدیداربھی ملاقاتیں کررہےہیں۔صدر زرداری کی ملاقاتیں صدر شی جن پنگ، وزیراعظم لی چیانگ سےبھی شیڈولڈ ہیں،خاص گفت و شنید کا محورسی پیک، انفراسٹرکچر پروجیکٹس، سرمایہ کاری، زرعی تعاون، ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبے ہوں گے۔ 

صدرزرداری کا دورہ چین پاکستان کے لیے خوشخبریاں لائے گا، معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع ملیں گے، نئے صنعتی زونز اور کوریڈورز کی تعمیر سے مزدوروں اور ہنرمندطبقے کو روزگار ملے گا، سڑکیں، ریلوے، شاہراہیں، بندرگاہی سہولیات مضبوط ہوں گی، جس سے عوام اور کاروبار دونوں کو فائدہ ہوگا۔ 

چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی منصوبوں کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے،لیکن گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تواربوں ڈالر کےایک منصوبے کی گونج پوری دنیامیں سنائی دےرہی ہے،اوراس منصوبےکانام سی پیک ہے،یہ پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے چین کے ساتھ تعلقات کو عروج پر پہنچایا،چین کی سرحد سے پاکستان کی گہرے پانی کی بندرگاہوں تک ایک راہداری کے منصوبے کا تصور 1950 کی دہائی سے موجود تھا، جس کے تحت شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا آغاز ہوا، 2002 میں چین نے دوبارہ پاکستان کے بندرگاہوں میں دلچسپی ظاہر کی، جس کے نتیجے میں گوادر بندرگاہ کی تعمیر کا آغاز ہوا اور یہ منصوبہ 2006 میں مکمل ہوا۔ 

سی پیک منصوبہ باضابطہ طور پر 2013 میں سامنے آیا، اس وقت جب آصف علی زرداری صدرپاکستان تھے،22 اور 23 مئی 2013 کو چینی وزیراعظم کے پاکستان کے دورے کے دوران صدر زرداری اورچینی وزیراعظم کے درمیان سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیےگئے،اس طرح سی پیک کےباضابطہ آغازکاکریڈٹ پیپلزپارٹی کوجاتاہے۔ 

آج 2025 میں پاکستان اور چین کے تعلقات فخر کی بلندیوں پر پہنچ چکےہیں، اس تعلق کے بندھن کو مزید پختہ کرنے میں یوسف رضا گیلانی کا کردار قابلِ ذکر ہے۔ چاہے وہ وزیراعظم کے عہد میں ہوں یا سینیٹ چیئرمین کے منصب پر،یوسف رضا گیلانی نے وقتاً فوقتاً یہ ثابت کیا ہے کہ پاک چین دوستی صرف زبانی نعرے نہیں بلکہ عملی اقدامات کا نام ہے۔ 

صدرآصف علی زرداری اور ان کے دست راست یوسف رضاگیلانی نے ہمیشہ سے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ چین پاکستان کا آئرن برادر ہے، جس کے ساتھ کسی بھی بیرونی دباؤ یا عالمی چیلنج کے باوجود وفاداری کا رشتہ قائم رہے گا،گیلانی کے دورِ وزیراعظم میں چین کے ساتھ کئی اہم معاہدے کیے گئے، دراوت ڈیم پراجیکٹ کی انجینیئرنگ ، تعمیر کے معاہدے،چین پاکستان کیبل سسٹم، آئی ٹی میں تعاون سمیت پورٹ مینجمنٹ اور ٹریننگ کےشعبوں میں بھی اشتراک ہوا، انہوں نے چین کے ساتھ تجارت کا حجم بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا، اور اس کیلئے شاندار کوششیں بھی کیں تاکہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوسکے اور درآمدی توازن بہتر ہو۔ 

یوسف رضا گیلانی جب چیئرمین سینیٹ بنے تو انہوں نے پاک چین تعلقات کو کمال انداز میں مزیدعروج پر پہنچانےکی کوشش کی، سینیٹ اور نیشنل اسمبلی میں پاک چین فرینڈشپ گروپس کا قیام عمل میں لایاگیاہے،تاکہ پارلیمانی سطح پر بھی دوستی اور تعاون گہرا ہو، یوسف رضاگیلانی کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطے بڑھائے جائیں،مشترکہ تعلیمی اور سائنسی منصوبے مشترکہ ہوں، طلبہ کے تبادلے ہوں، تاکہ لوگوں کی سطح پر اعتماد اور دوستی میں اضافہ ہوسکے۔ 

صدر زرداری اور یوسف رضا گیلانی کی کوششوں سے پاکستان کوبہت کچھ ملا ہے، چین سے معاہدوں کی بدولت پاکستان میں ترقیاتی منصوبے شروع ہوئے، توانائی کی کمی کو کم کرنے میں مدد ملی، اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری ہوئی،چینی سرمایہ کاری روزگار کے نئے مواقع لائی ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں اور توانائی منصوبوں میں۔سچ تو یہ ہے کہ پاک چین ریاستیں جغرافیائی قربت، مشترکہ اقتصادی مفادات، دفاعی روابط اور سیاسی ہم آہنگی کی بنیاد پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں،صدرزرداری کادورہ چین اس رشتےمیں مزید تقویت کا باعث بنےگا۔ 



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر