پاک-سعودی دفاعی اتحاد: ایک نیا دور

تحریر:عرفان کیانی

دنیا کی سیاست بعض اوقات لمحوں کے فیصلوں سے بدلتی ہے اور بعض اوقات برسوں کی خاموش محنت کے بعد ایک ایسا دھماکہ خیز موڑ آتا ہے جو آنے والی کئی دہائیوں کی سمت متعین کر دیتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا یہ تاریخی دفاعی معاہدہ بھی کچھ ایسا ہی لمحہ ہے۔ یہ محض ایک کاغذ پر لکھی ہوئی ڈیل نہیں بلکہ طاقت، قربانی، حکمت اور تاریخ کا امتزاج ہے، جو نہ صرف سعودی عرب کی سلامتی بلکہ پورے خطے کے طاقت کے توازن کو نئی شکل دینے والا ہے۔

ولی عہد محمد بن سلمان کی شخصیت ہمیشہ سے ایک غیر معمولی امتزاج رہی ہے، جس میں نوجوانی کی جرات، خواب دیکھنے کی ہمت اور اقتدار کی حقیقتوں کو سمجھنے کی باریک بینی شامل ہے۔ جب وہ عالمی طاقتوں کی چالاکیوں اور خطے کے بدلتے ہوئے منظرنامے کو دیکھتے ہیں تو جانتے ہیں کہ محض امریکہ پر بھروسہ کر کے اب سعودی سلطنت کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ واشنگٹن کی بدلتی پالیسیاں، اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ڈیلنگ، اور ایران کے ساتھ بدلتے تعلقات نے ریاض کو سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا واقعی پرانی دوستیاں اب بھی اسی شدت سے موجود ہیں یا سب کچھ وقتی مفاد کی بنیاد پر چل رہا ہے؟ ایسے میں ایک فیصلہ سامنے آیا جو سعودی مستقبل کے لیے گیم چینجر ثابت ہوا۔

پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق محض دو ملکوں کے درمیان رسمی معاہدہ نہیں، بلکہ ایک جذباتی اور روحانی رشتہ ہے۔ پاکستانی فوجی جب سعودی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو وہ اسے اپنی دوسری سرزمین سمجھتے ہیں، کیونکہ یہاں وہ مقدس مقامات ہیں جن کے لیے ہر پاکستانی اپنی جان بھی قربان کرنے کو تیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی فوجی مہارت اور قربانیوں پر سعودی قیادت کا اعتماد باقی دنیا سے زیادہ ہے۔ اس معاہدے نے سعودی عرب کو نہ صرف ایک ناقابلِ تسخیر دفاعی ڈھال فراہم کی بلکہ ولی عہد کے لیے یہ ایک ذاتی انشورنس بھی ثابت ہوئی کہ ان کے اقتدار، اصلاحاتی وژن اور سلطنت کو اب ایک مضبوط سہارا میسر آ چکا ہے۔

لیکن اس کہانی کا ایک اور رخ بھی ہے، اور وہ ہے پاکستان کی خطے میں بڑھتی ہوئی حیثیت۔ پچھلے مہینوں میں جب پاک-بھارت کشیدگی اپنے عروج پر پہنچی اور بھارت اپنی روایتی طاقت کے نشے میں پاکستان کو دبانے کی کوشش کر رہا تھا، تب پاکستانی افواج نے ایک ایسا وار کیا جس نے پورے منظرنامے کو بدل دیا۔ بھارت کے جدید جنگی جہاز آسمان پر گر کر زمین بوس ہوئے، اس کے فوجی ٹھکانے نشانہ بنے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا نے ایک بار پھر دیکھ لیا کہ پاکستان صرف دعووں پر نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی برتری دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی برتری سعودی قیادت کے اعتماد کو دوگنا کر گئی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر پاکستان بھارت جیسے بڑے حریف کو اس کی اوقات یاد دلا سکتا ہے تو سعودی سرزمین کے دفاع میں اس کا کردار کتنا فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔

یہ معاہدہ محض فوجی ٹریننگ یا ہتھیاروں کی فراہمی تک محدود نہیں۔ اس میں وہ سب کچھ شامل ہے جو ایک مکمل دفاعی چھتری کے لیے درکار ہوتا ہے۔ جدید میزائل سسٹمز سے لے کر سائبر ڈیفنس تک، فوجی تربیت سے لے کر انٹیلی جنس شیئرنگ تک، سب کچھ اس کا حصہ ہے۔ سعودی عرب نے محض پانچ فیصد ابتدائی سرمایہ کاری کے ساتھ ایک ایسا نظام حاصل کیا ہے جس کی قدر اربوں ڈالر میں ہے۔ یہ پاکستان اور سعودی عرب کی اس اسٹریٹجک دوستی کا نتیجہ ہے کہ دونوں نے اخراجات کو کم اور نتائج کو زیادہ رکھنے کا فارمولا بنایا ہے۔ سعودی عرب کو یقین ہے کہ اب اس کے دفاع میں وہ کمزوری باقی نہیں رہی جو اسے ہمیشہ سے کھٹکتی رہی۔

اس اتحاد کا ایک اور پہلو خطے کی سیاست پر بھی گہرے اثرات ڈالے گا۔ بھارت کے لیے یہ اتحاد کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ دہلی جانتا ہے کہ اگر خلیجی دنیا میں پاکستان کو مرکزی حیثیت مل گئی تو اس کی ساری حکمتِ عملی خاک میں مل جائے گی۔ متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان جیسے ممالک بھی اس اتحاد سے متاثر ہو کر مستقبل میں اس ماڈل کو اپنانے کی طرف جا سکتے ہیں، اور یوں خلیجی دنیا ایک نئے دفاعی بلاک میں ڈھل سکتی ہے۔ اسرائیل کے لیے بھی یہ اتحاد ایک نئی حقیقت ہے، کیونکہ اب سعودی عرب کا دفاع صرف امریکی ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ پاکستان کی عسکری مہارت پر بھی کھڑا ہے، اور یہ حقیقت تل ابیب کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگی۔

امریکہ کا ردعمل بھی اس کہانی کا اہم حصہ ہے۔ واشنگٹن برسوں سے سعودی دفاع کا ضامن رہا، لیکن اب وہ دیکھ رہا ہے کہ ریاض اس کے دائرے سے نکل کر ایک نئی سمت میں جا رہا ہے۔ یہ امریکہ کے لیے صرف ایک دفاعی نقصان نہیں بلکہ خطے میں اپنی سٹریٹجک گرفت کھونے کا اشارہ ہے۔ امریکی پالیسی ساز جانتے ہیں کہ اگر پاکستان اور سعودی عرب کا یہ اتحاد مزید مستحکم ہو گیا تو مشرقِ وسطیٰ میں ان کے لیے جگہ مزید تنگ ہو جائے گی۔

مگر سب سے دلچسپ پہلو پاکستانی فوجی کا کردار ہے۔ وہ سپاہی جو سرحدوں پر دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے، جو اپنے خون سے دھرتی کو سیراب کرتا ہے، اب سعودی عرب کے لیے بھی ایک محافظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستانی فوجیوں کی یہ قربانی اور جذبہ کسی بھی معاہدے سے بڑھ کر ہے۔ سعودی عوام کو یہ احساس دلانا کہ ان کے مقدس مقامات کی حفاظت وہ فوج کر رہی ہے جو اپنی قربانیوں کے لیے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے، یقیناً ایک ناقابلِ بیان سکون کا باعث ہے۔

یہ معاہدہ صرف آج کے دن کا واقعہ نہیں بلکہ آنے والے کئی برسوں کا تعین ہے۔ خطہ جس تیزی سے بدل رہا ہے، اس میں نئے اتحاد، نئی دشمنیاں اور نئی امیدیں جنم لے رہی ہیں۔ پاک-سعودی اتحاد ان سب کے درمیان ایک روشن حقیقت کے طور پر کھڑا ہے۔ آنے والے دنوں میں جب دنیا اس خطے کو دیکھے گی تو اسے ایک نیا طاقتور بلاک نظر آئے گا، جس میں پاکستان کی قربانی، سعودی قیادت کی بصیرت اور خطے کے عوام کی امیدیں شامل ہوں گی۔

یہ لمحہ صرف سعودی عرب یا پاکستان کے لیے اہم نہیں، بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے ایک سنگِ میل ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب نیت صاف ہو، قربانی کا جذبہ موجود ہو اور حکمتِ عملی مضبوط ہو تو دنیا کی کوئی طاقت راستہ نہیں روک سکتی۔ پاکستان اور سعودی عرب کا یہ دفاعی اتحاد آج ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے، اور آنے والی نسلیں اسے اس دن کے طور پر یاد رکھیں گی جب خطے نے اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں میں لے لی تھی۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر