معاشرہ میں شادیاں ناکام کیوں ہو رہی ہیں

تحریر: عابد حسین قریشی

ایک “معصوم سا سوال “والا ذرا lighter موڈ میں لکھا گیا آرٹیکل لوگوں نے پسند بھی کیا مگر ساتھ کچھ دوستوں نے آجکل شادیوں کی ناکامی کی وجوہات پر بھی کچھ لکھنے کی ترغیب دی۔ کہ اس وقت ہمارے معاشرہ میں طلاق کی شرح خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ آج سے چھ سات سال قبل لاہور کے ڈسٹرکٹ جج کی حثیت سے یہ observe کیا کہ بیک وقت بیس ہزار سے زائد فیملی مقدمات زیر سماعت ہوتے تھے۔ اب شاید یہ تعداد اس سے بڑھ چکی ہے۔ یہ شادیاں کیوں ناکام ہو رہی ہیں، اسکی وجوہات اور بہتری کی تجاویز۔ یہ ایک مشکل اور حساس مسئلہ بھی ہے۔ ہم اس نہج تک کیسے پہنچے اس پر بات ہو سکتی ہے۔ ایک طویل عدالتی تجربہ کے بعد جو بات سمجھ آسکی اسے مختصراً اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے، کہ آج سے تیس چالیس سال قبل شادیاں زیادہ تر فیملی کے اندر ہوتی تھیں۔ بعض اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی بزرگوں اور فیملی کے خوف سے گزارہ کرنا پڑتا تھا۔ لوگ سادہ تھے اور مطالبات اور خواہشات محدود۔ پھر دولت کی ریل پیل نے ہمارے کلچر کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ لڑکیاں زیادہ پڑھ لکھ گیئں۔ شادیاں out of family اور ذات برادری سے باہر بھی ہونا شروع ہوگئیں۔ وہ باتیں جو پہلے فیملی کے بزرگوں کے خوف کی وجہ سے چھپ جاتی تھیں۔اب ظاہر بھی ہونے لگیں اور وجہ نزاع بھی۔ بڑی چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھر اجڑنے لگے۔ بچیوں کے زیادہ پڑھ لکھ جانے اور دونوں گھروں کے طرز بود و باش نے سب سے بڑا مسئلہ compatibility کا بنا دیا۔ لڑکی سسرال کے گھر میں نہ آسانی سے ایڈجسٹ ہوتی ہے، نہ اسے ہونے دیا جاتا ہے۔ پھر عدم برداشت یا intolerance ایک اور بڑی وجہ ہے۔ جو طلاق پر منتج ہوتی ہے۔ نہ لڑکی میں برداشت ہے اور نہ لڑکے میں تحمل و بردباری ۔ شادیاں فیملی سے باہر ہونے کی وجہ سے breakup جلدی ہونا شروع ہو گئے۔ لالچ اور خود غرضی، دکھاوا اور کھوکھلا پن، لڑکی والوں سے مطالبات یا توقعات بھی شادی میں ناکامی کی ایک اہم وجہ ہے۔ پھر serving ladies کا تصور اور اسکے محرکات طلاق کی ایک بڑی وجہ ہے۔ عورت اب برابری اور اپنی عزت و احترام کا تقاضا کرتی ہے۔ مرد اپنی روایتی حکمرانی کا تصور ذہن میں رکھتا ہے۔ لہزا ہر وقت چوں چراں چلتی رہتی ہے۔ شادی کے فوری بعد لڑکی یا لڑکی کے گھر والوں کا الگ گھر کا مطالبہ، آمدن سے زیادہ اخراجات، پر تعیش زندگی کا تصور، سوشل میڈیا پر بے سروپا باتیں، ساس ، سسر اور نندوں کی مداخلت، بزرگوں یا elders کا بڑا تگڑا institution ختم ہوگیا۔ اب اگر کوئی بزرگ رہ بھی گئے تو انکی سنتا کوئی نہیں، نوجوان نسل ضدی بھی اور منہ زور بھی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر انا کا مجروح ہو جانا، دین سے دوری، دنیا کمانے اور اسے فتح کرنے کی دھن یہ سب factors ہیں جو طلاق کی شرح میں تیزی سے اضافہ کا سبب بن رہے ہیں، اور آخر میں رہی سہی کسر موبائل فون پر سسرال سے میکے رننگ کمنڑی نے نکال دی۔ اگر صرف میاں بیوی پر شادی کے پہلے چھ ماہ موبائل کے استعمال پر ہی پابندی لگا دی جائے تو کافی شادیاں کامیاب ہو جائیں۔ لڑکی کے میکے سے اگر براہ راست ڈائریکشنز جاری نہ ہوں، تو بھی معاملات خوش اسلوبی سے چل سکتے ہیں۔ عدالتی تجربہ سے یہ بات بھی عیاں ہوئی کہ اگر شادی ایک سال تک بخوبی چل جائے اور اولاد بھی بر وقت ہوجائے تو عمومی طور پر وہ شادی چل جاتی ہے۔ پہلا ایک سال ہی شاید compatibility کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ دونوں گھروں کے لوگ اگر میاں بیوی کے معاملات میں مداخلت نہ کریں تو بھی اصلاح احوال کی گنجائش ہوتی ہے۔ اور سب سے بڑھکر شادی تو ایک سماجی ضرورت ہے، معاملات کو آگے خوش اسلوبی سے بڑھانے کے لئے کسی نہ کسی لیول پر کچھ لچک، کچھ compromise, کچھ وضع داری تو دکھانا پڑے گی۔ شادی کے بعد اگر لڑکی کے میکے سے اسکے سسرال میں براہ راست مداخلت نہ ہو، اور لڑکی یہ سمجھ جائے کہ سسرالیوں کی ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، تو بھی حالات کافی بہتر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر لڑکے کی ماں اپنی بہو کو اسی طرح treat کرے جس طرح وہ اپنی بیٹی کو اسکے سسرال میں سکون اور راحت میں دیکھنا چاہتی ہے اور اپنے لڑکے کا possession تھوڑی دیر کے لئے اپنی بہو کے سپرد ہونے دے، پھر بھی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ لڑکا اگر شادی کے بعد خاتم طائی نہ بھی بنے تو اسے کنجوس اور بخیل نہیں ہونا چاہیئے۔ اور آخر میں اعتدال ، توازن، ایثار و قربانی، کچھ بھول جاو، کچھ درگزر کر جاو اور بہت سا معاف کر دو،کامیاب شادی کے راز ہیں۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر