ایڈنبرا کاسل

تحریر: سید مہدی بخاری

سکاٹ لینڈ کی راجدھانی ایڈنبرا میں ناقابل تسخیر ایڈنبرا کاسل یا قلعہ کھڑا ہے۔ سکاٹش لوگ جنگجو تھے۔ برصغیر میں انگریز فوج کی بڑی تعداد سکاٹ لوگوں پر مشتمل تھی۔ میں ایڈنبرا کاسل کے صدر دروازے پر کھڑا ٹکٹ خریدنے کے انتظار میں تھا۔ اس تاریخی قلعے کو وزٹ کرنے کا مقصد ٹیپو سلطان کی تلوار دیکھنا تھا جو یہاں رکھی گئی تھی۔انکشاف ہوا کہ اول تو اس دن کی تمام ٹکٹس فروخت ہو چکی ہیں لہذا میں اندر نہیں جا سکتا۔ دوم، ٹیپو سلطان کی تلوار کو سنہ 2023 میں ایک کروڑ چالیس لاکھ پاؤنڈز میں نیلام کر دیا گیا جسے بھارت کے بزنس ٹائیکون وجے مالیا نے خرید کر اپنی ذاتی کولیکشن کا حصہ بنا لیا ہے۔ البتہ ایک خوش آئند بات یہ ہوئی کہ ہمیں قلعہ کے محدود حصے کی رسائی دی گئی۔

ایڈنبرا کاسل وہ واحد قلعہ ہے جسے فتح کرنے کا خواب تاجِ برطانیہ کبھی پورا نہ کر سکا۔ انگلینڈ کی فوجیں سکاٹ لینڈ کی فوجوں کے ساتھ لڑتی بھڑتی رہیں مگر انگلینڈ ایڈنبرا قلعہ کو فتح نہ کر پایا۔ قلعے کے صدر دروازے سے داخل ہونے پر پہلے سووینئیر شاپ ہے ۔ یہاں سے دنیا بھر کے سیاح اونی ٹوپیاں ، گرم مفلر، سکاٹ بھیڑوں کی اون سے بنیں شالیں اور بینڈ باجوں کے آلات خریدتے دکھائی دیئے ۔ دائیں طرف شیشے کے ایک بڑے کیبن میں غلام ہندوستان کے سب سے آزاد مرد ٹیپو سلطان کا پورٹریٹ نظر آیا۔ جس کے نیچے انگریزی زبان میں نوٹس بورڈ پر یہ لکھا ہے “ یہ تصویر ٹائیگر آف میسور ٹیپو سلطان کے محل سے اُٹھائی گئی ہے”۔ٹیپو سلطان کے پورٹریٹ کے عین نیچے سلطان کا جنگی ہیلمٹ سلیقے سے رکھا گیا ہے۔ جو ٹیپو سلطان نے 4 مئی سنہ 1799 کو شہادت کے وقت پہن رکھا تھا۔ اس کے بائیں طرف ریشم کی کشیدہ کاری والا کُرتا محفوظ ہے جو ٹیپو سلطان کے مردہ جسم سے اُتارا گیا۔

ٹیپو سلطان کی تلوار کوئی معمولی تلوار نہیں تھی۔ تلوار سٹیل سے بنی ہے جس پر سونے کی کاریگری کی گئی ہے۔ اسے اس دور میں اقتدار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس تلوار کو ایسٹ انڈیا کمپنی نے میجر جنرل ڈیوڈ بیرڈ کو انعام کے طور پر پیش کیا تھا۔ ڈیوڈ بیرڈ کے اس حملے میں ٹیپو سلطان کی شہادت ہوئی تھی۔ لندن کے وکٹوریا اینڈ ایلبرٹ میوزیم میں ان کی ایک پینٹنگ ہے جس میں وہ ہرے رنگ کی پگڑی پہنے ہوئے ہیں۔اس میں موتیوں کی لڑی پروئی ہوئی ہے۔ انہوں نے ہرے رنگ کا پاجامہ پہن رکھا ہے ۔بازو میں ایک بیلٹ میں لال میان کے اندر ایک تلوار لٹک رہی ہے۔

ٹیپو سلطان نے انگریز فوج کو دھول چٹا دی تھی۔ گو کہ اس کی آدھی ریاست پر انگریز قابض ہو چکے تھے البتہ ٹیپو نے حملے کرنا جاری رکھے۔ اس کی دہشت ہندوستان بھر میں پھیل رہی تھی۔کمپنی نے اپنی سبکی مٹانے کو بڑی فوج جمع کر کے ٹیپو کا خاتمہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ سنہ 1799 کو جنرل جارج ہیرس کی رہنمائی میں 21 ہزار فوجیوں نے ویلور چھاؤنی سے میسور کی جانب کوچ کیا۔امبر کے نزدیک 16 ہزار فوجیوں کا ایک دستہ ان کے ساتھ آ ملا۔اس میں کنور کے قریب جنرل سٹوئرٹ کی کمان میں 6420 فوجیوں کا دستہ بھی شامل ہو گیا تھا۔ ان سبھی نے مل کر ٹیپو سلطان کے سرنگاپٹنم کے قلعے پر چڑھائی کر دی تھی۔

تین مئی سنہ 1799 کو انگریز فوج نے توپوں سے حملہ کر کے سرنگاپٹنم قلعے کی دیوار میں سوراخ کر دیا۔ تین مئی کی رات تقریباً پانچ ہزار فوجی جن میں قریب تین ہزار انگریز تھے خندقوں میں چھپ گئے تاکہ ٹیپو کی فوج کو ان کی سرگرمی کا پتا نہ لگے۔ جیسے ہی حملے کا وقت نزدیک آیا ٹیپو سلطان سے غداری کرنے والے شخص میر صادق نے فوجیوں کو تنخواہ دینے کے بہانے پیچھے بلایا۔ میر صادق کی کمان میں قلعے سے غدار فوجیوں نے انگریزوں کی جناب سفید رومال ہلانے شروع کر دیے۔یہ پہلے سے طے تھا کہ جب ایسا کیا جائے گا تو انگریز فوج قلعے پر حملہ بول دے گی۔ جیسے ہی سگنل ملا انگریز فوج نے قلعہ کی گری ہوئی دیوار سے داخل ہوتے حملہ بول دیا۔

غداری کے مناظر دیکھ کر ٹیپو سلطان اپنی بچی کچھی آدھی فوج کی ہمت بندھانے خود جنگ میں شامل ہوا۔ اس جنگ میں ٹیپو نے زیادہ تر لڑائی عام فوجیوں کی طرح پیدل ہی لڑی۔ لیکن جب ان کے فوجیوں کی ہمت ٹوٹنے لگی تو وہ گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی ہمت بڑھانے کی کوشش کرنے لگے۔ٹیپو پر لکھی گئی بہترین تاریخی کتاب الیگزنڈر بیٹسن نے عینی شاہدین کے اکاؤنٹس پر لکھی جس کا نام ہے

“ A view of the origin & conduct of the war with Tipu Sultan”

بیٹسن لکھتا ہے کہ اگر ٹیپو چاہتا تو جنگ کے میدان سے بھاگ سکتا تھا۔جب ٹیپو قلعے کے اندرونی گیٹ کی جانب بڑھا تو اس کے بائیں سینے سے ایک گولی نکل گئی۔ اس کا گھوڑا بھی مارا گیا۔ اس کے ساتھیوں نے اسے ڈولی پر بٹھا کر قلعہ سے باہر لے جانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ کیونکہ تب تک وہاں لاشوں کا ڈھیر لگ چکا تھا۔کچھ انگریز فوجی قلعے کے اندرونی گیٹ میں داخل ہوئے۔ان میں سے ایک نے ٹیپو کی تلوار چھیننے کی کوشش کی۔ تب تک ٹیپو کافی خون بہہ جانے کی وجہ سے وہ تقریباً بے ہوش ہو چکا تھا۔ مگر اچانک اس نے اپنی تلوار سے اس فوجی پر حملہ کر دیا اور اس کی گردن اڑا دی۔ اس کے کچھ ثانیوں بعد ٹیپو لاشوں کے درمیاں دم توڑ گیا۔

فوج کی کمان سنبھالنے والے میجر ایلن نے لکھا “جب ٹیپو کی لاش کو ہمارے سامنے لایا گیا تو ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ان کا جسم اتنا گرم تھا کہ ایک لمحے کے لیے مجھے اور کرنل ویلیزلی کو ایسا لگا کہ کہیں وہ زندہ تو نہیں۔ لیکن جب ہم نے ان کی نبض دیکھی اور دل پر ہاتھ رکھا تو ہمارا شک دور ہوا۔ایک گولی ان کے داہنے کان سے داخل ہو کر بائیں گال میں دھنس گئی تھی”۔

جنرل بیئرڈ نے ٹیپو کی لاش کو اسی کی ڈولی میں رکھنے کا حکم دیا۔ دربار کو پیغام بھیجا گیا کہ ٹیپو سلطان اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کی لاش پوری رات ان کے دربار میں رکھی گئی۔ اگلے دن شام کو محل سے ٹیپو سلطان کا جنازہ نکلا۔ ان کے جنازے کو ان کے ذاتی ملازمین نے اٹھایا ہوا تھا۔ ان کے ساتھ انگریزوں کی چار کمپنیاں بھی چل رہی تھیں۔جن سڑکوں سے جنازہ گزرا ان کے دونوں طرف بھیڑ تھی۔ لوگ زمین پر لیٹ کر جنازے کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے۔ لوگ زور زور سے رو رہے تھے۔ ٹیپو کی نعش کو لال باغ میں ان کے والد حیدر علی کی قبر کے بغل میں دفنایا گیا۔اس کے بعد ٹیپو سلطان کے جنازے میں شریک افراد میں کُل پانچ ہزار روپے بانٹے گئے۔ بیٹسن نے لکھا کہ “رات ہوتے ہوتے ماحول اور زیادہ غمزدہ ہو گیا جب بادلوں کی گرج کے ساتھ زبردست آندھی چلی۔ اس آندھی میں دو انگریز فوجی ہلاک ہو گئے اور متعدد زخمی ہو گئے۔”

ٹیپو سلطان کے مرنے کے بعد انگریز فوجیوں نے سرنگاپٹنم کو بری طرح لوٹا۔ٹیپو سلطان کی تلوار کو بلآخر برطانیہ بھجوایا گیا۔جہاں وہ سنہ 2023 تک قلعہ ایڈنبرا میں رکھی رہی۔ ٹیپو کے بعد انگریزوں کو جنگ میں چیلینج کرنے والا کوئی نہیں بچا تھا۔بیٹسن لکھتا ہے کہ “ٹیپو کی شکست کے بعد مشرق ہندوستان کی سلطنت ہمارے قدموں میں آ گری۔”

ٹیپو سلطان کو زیر کرنے میں سکاٹ دستے ہی آگے آگے تھے۔ ٹیپو سلطان کے خیالوں میں چلتے ایڈنبرا قلعہ پر اچانک تیز بارش برسنے لگی۔ ہم نے بھاگ کے گاڑی میں پناہ لی اور شہر کو چھوڑ دیا۔



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر