تحریر: محمد سعید جاوید
جہانگیر پارک کے مرکزی دروازے سے باہر نکل کر دوبارہ فرئیر سٹریٹ کا رُخ کریں تو وہاں گلی میں دو چار بڑے مزے کے کرداروں سے ٹاکرا ہوتا تھا۔ایک تو صوبہ سرحد کا خوب صورت ادھیڑ عمر مگر چھریرے بدن والا سردار خان تھا، جو ایک ٹھیلے پر مرغ کی گرما گرم اور مصالحے دار یخنی بیچا کرتا تھا ۔یخنی کو سوپ کہنے یا پینے کا رواج ابھی عوام تک نہیں پہنچاتھا ۔اس نے شاید ایک دو مرغیوں کے حصے بخرے کرکے پانی میں ابال کر نیچے ایک بڑے سے اسٹین لیس سٹیل کے چوڑے پتیلے میں ڈال کر ہلکی آنچ پر چڑھائے ہوئے ہوتے تھے اور اس میں شدید قسم کا گرم مصالحہ چھڑکا ہوا ہوتا تھا ۔دراصل اس وقت دیسی مرغی کوئی اتنی سستی بھی نہیں ہوتی تھی ۔ پورے دس روپے کا صحت مند مرغ آتا تھا، مرغی ایک آدھ روپیہ سستی ہوتی ہو گی۔۔برائلر ابھی ایجاد ہی نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے وہ ان دو تین مرغیوں کو بہت احتیاط اور کفایت شعاری سے استعمال کرتا تھا اور اکثر حالات میں اسے اپنا اَن بکا مال اگلے دن کے لیے بچا کر رکھنا پڑتا تھا ۔
اس بڑے پتیلے کے عین اوپرتھوڑی بلندی پر لگے ہوئے ایک فولادی آنکڑے میں ایک تگڑے سے مرغ کی میّت لٹکائی ہوئی ہوتی تھی۔وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک گہرے چمچ کے ساتھ پتیلے میں سے ابلتی ہوئی یخنی نکالتااور ا ور عالم برزخ میں معلق اس مرغ کو غسل دیتا رہتا تھا تاکہ اس میں سے بھی قطرہ قطرہ لذت اور توانائی مسلسل پتیلے میں ٹپکتی رہے ۔اس کے ایسا کرنے سے سامنے کھڑے ہوئے گاہکوں کو یقین بھی ہو جاتا کہ یہ واقعی ہی دیسی مرغی کی یخنی ہے ۔اور وہ مطمئن ہو کر اسے پی جاتے۔
سردار خان کا چہرہ گلاب کے پھول کی طرح آتشی گلابی تھا۔کچھ تو صوبہ سرحدکے لوگ ویسے ہی گورے چٹے ہوتے ہیں ، کچھ سارا دن یخنی سے اٹھتی ہوئی بھاپ کے سامنے کھڑا رہنے سے بھی وہ اور زیادہ سرخ ہو گیا تھا۔
کسی کا منہ بند کر سکا ہے بھلا کوئی! کہنے والے تو مرغ کی طرف اشارہ کرکے یہ بھی کہتے تھے کہ یہ مرغ تو کئی کئی دن سے اسی عالم میں ہے، نہ مرتا ہے نہ جیتا ہے۔اس میں تو اب کچھ بھی نہیں بچا۔ اصل یخنی تو انہی دو مرغیوں کی ہوتی تھی جو اندر پتیلے کے ابلتے پانی میں ڈبکیاں لگا لگا کر دیوانی ہو ہوئی جاتی تھیں۔ یخنی کے نام پراس شدید گرم پانی میں وہ جان بوجھ کربے تحاشا گرم مصالحہ پھینکتا جاتا جو سیدھا تیر کی طرح جا کر گلا پکڑ لیتا تھا اور پھر آنکھوں اور کانوں تک پہنچ کر سارے پنڈے کو ہی پھونک ڈالتا تھا۔اسے پینے والے کو ہچکی ضرور لگ جایا کرتی تھی ، آنکھیں باہر ابل آتیں اور منہ سے ایک خودکار نظام کے تحت بڑی دیر تک پٹاخے بجنے اور چٹخاروں کی آوازیں آتی رہتی تھیں۔سردار خان کسی کو اتنی مہلت ہی نہ دیتا تھا کہ کوئی چھان پھٹک کر اصلی یخنی کی پہچان کر لے ۔بہرحال وہ جو کچھ بھی بیچتا تھا ، وہ ہوتا مزیدار تھا۔اس کا ٹھیلہ اور پیالے بہت صاف ستھرے ہوتے تھے۔
سردار خان کئی برس تک کراچی کے لوگوں پر یہ حسیں ستم ڈھاتا رہا ۔ ایک دن جب وہاں سے گزر ہوا تو یخنی پینے کو من مچلا ، لیکن اس مخصوص جگہ پر اس کا مسکراتا ہوا سرخ چہرہ نظر نہ آیا ۔ اب یہ جگہ کسی اور کے قبضے میں جا چکی ہے ۔وہ پتہ نہیں کہاں کا مسافر ٹھہرا۔
سردار خان کے ٹھیلے سے ذرا ہٹ کر ایک حلیم فروش اپنا ٹھیلا لیے کھڑا رہتا تھا۔ اس کا نام گھسیٹا خان تھا۔ وہ گاہکوں کو متوجہ کرنے کی خاطر بلند آواز میں صدائیں لگاتا اور سلور کے ڈھکن سے ایک بڑے پتیلے کو مسلسل بجاتا رہتا تھا۔اپنی مارکیٹنگ کو مزید موثر بنانے کی خاطراس نے ٹھیلے کی چھت پر چند پھول بوٹے اور ایک موٹی انگریز خاتون کی بھدی سی تصویر بنوا کرنصب کی ہوئی تھی اور ایک تخی پر اپنا ہی ایک سچے موتی جیسا قول جلی حرفوں میں لکھوا لیا تھا جو کچھ یوں تھا
‘‘گھسیٹا خان کا حلیم نہ کھایا، توکچھ بھی نہ کھایا
اس وقت وہ دو آنے کی چھوٹی اور چار آنے کی بڑی پلیٹ دیتا تھا ، جس میں بہترین گھٹی ہوئی حلیم کے ساتھ ایک بوٹی بھی ڈال دیتا تھا اور پھر اس پر بہت سارا مصالحہ چھڑک کر کچھ تلے ہوئے پیاز اور ادرک ڈال کر نیبو کی پچکاری مار کر گاہک کو پکڑا دیتا ۔ وہ حلیم بھی ایک خاص انداز سے پلیٹ میں ڈالتا تھا۔ پلیٹ بائیں ہاتھ میں پکڑ کر دائیں ہاتھ سے پتیلے میں سے چمچ بھر حلیم نکالتا اور زور سے بائیں ہاتھ کی طرف اچھال دیتا۔ حلیم ہوا میں پرواز کرتی ہوئی جاتی اور ٹھیک نشانے پر جا کر المونیم کی پلیٹ میں براجمان ہو جاتی تھی ۔مجھے حسرت ہی رہی کہ میں کبھی یہ دیکھ سکوں کہ اس کا نشانہ چوک جائے اور وہ شرمسار ہو ، مگر ایسا کبھی ہوا نہیں، کبھی بھی نہیں۔گھسیٹا خان ایک ماہر نشانے باز تھا۔ اس کی حلیم کے ذائقے کا ایک جگ معترف تھا ۔ میرے پسندیدہ کھانوں کی فہرست میں بھی حلیم کا پہلا نمبر ہوتا تھا ۔میں دو آنے والی پلیٹ تو تقریباً ہر پھیرے میں کھا آتا تھا ۔اس کے بعد بیسیوں دفعہ طرح طرح کے نئے اور رنگ برنگے کھانے ملنے کے باوجود حلیم کی قدر و قیمت اورمقبولیت میری نظر میں رتی برابر کم نہ ہوئی، اور یہ آج بھی اسی مقام پر فائز ہے ۔
گھسیٹا خان دوپہر کو آتا اور رات کے پہلے پہر تک اپنی ساری حلیم بیچ کر فارغ ہو جاتا۔ اس کے بعد وہ ٹھیلے کو وہیں نصب کھمبے کے ساتھ تالا لگا کر باندھ دیتا اور ایک سائیکل رکشا پر اپنا بڑا سا پتیلا رکھ کرگھر کے لیے رخصت ہو جاتا ۔
پھر کچھ یوں ہوا کہ ایک روز اس گلی میں ایک نیا حلیم فروش آن پہنچا اور بالکل گھسیٹاخان کے پہلو میں ہی اپنا ٹھیلا لگا لیا اور اسی کے انداز میں ڈھکن بجانا شروع کر دیا ۔ گھسیٹاخان کو اس کے آنے کا کوئی غم نہ تھا کیونکہ اسے کامل یقین تھا کہ اس کے گاہک تو پکے اور نپے تلے ہیں ، وہ اتنی جلدی کیسے ٹوٹ جاتے ۔ کم قیمت اور زیادہ مقدار دینے کے باوجود لوگ نو وارد نئے حلیم فروش کی طرف متوجہ نہ ہوئے ۔ جس کو لے کر دونوں میں ہلکی پھلکی تلخی اور مقابلہ بازی چلتی رہتی تھی۔ وہ ایک دوسرے پر خوب آوازے کستے اور اپنی اپنی حلیم کی شان میں بلند آواز سے قصیدے پڑھتے رہتے تھے۔
ایک دن وہی نیا حلیم والا اپنے ٹھیلے کی تختی پر کہیں سے جلی لفظوں میں ایک شعر لکھوا لایا جوانتہائی نامعقول اور بے وزن سا تھا ۔ لگتا تھا کہ یہ شعر اس نے گھسیٹا خان کو چڑانے کے لیے کسی سستے اور تھکے ہوئے سڑک چھاپ شاعر کو حلیم کی ایک بڑی پلیٹ مفت دے کرنازل کروایا تھا۔ اس نے لکھ دیا تھا کہ :
‘‘مالک یہ کرم ہے تیرے نور سے
گھسیٹا ہے گاہک بڑی دور سے ’’
اپنے نام کی یہ توہین دیکھ کرگھسیٹا خان خوب پیچ وتاب کھاتا مگر کچھ کہہ نہیں سکتا تھا ۔ نوواردحلیم فروش نے اس کے نام کو اپنے ہی انداز میں اور اپنے ‘‘مذموم’’مقصد کے حصول کے لیے استعمال کیا تھا اور خوب کیا تھا۔
اگرگھسیٹا خان کا کوئی پکا گاہک فلور کراسنگ کرکے دوسری طرف چلاجاتا تو نیا حلیم فروش اپنا پتیلا خاص طور پر زیادہ جوش و خروش سے کھٹ کھٹاتے ہوئے اور اوپر لکھی ہوئی تختی کی طرف اشارہ کرکے معنی خیز انداز میں گھسیٹا خان کو دیکھ کر مسکراتا تھا، جسے یہ سب کچھ دیکھ کر اسے آگ لگ جاتی تھی ۔یہ کام زیادہ دن چلا نہیں۔ وہ گھسیٹا خان کی مقبولیت کا مقابلہ نہ کرسکا اور ایک دن وہاں سے اپنا ٹھیلا ہٹا کر کہیں اور منتقل ہو گیا۔
اسی گھسیٹا خان کو بعد ازاں اللہ نے کاروبار میں اتنی وسعت اور برکت دی کہ اس نے جہانگیر پارک کے اندر بنے ہوئے چھوٹے سے ریسٹورنٹ کا ٹھیکہ بھی حاصل کر لیا اور اسے حلیم فروشی کا بہترین اڈہ بنا لیا ۔ پھر تو اس پر گویا ہن برسنے لگا اور اس نے شہر میں اس نے اپنی ایک دو اور چھوٹی چھوٹی شاخیں کھول لیں ۔ پھر میں نے ایسا بھی ہوتا دیکھا کہ اس نے چھوٹا سا ایک ٹرک بھی خرید لیا اور اس پرحلیم کی دیگیں ڈھوتارہا اور پھر وہ سیٹھ گھسیٹا خان بن گیا ۔ میرے کراچی چھوڑنے تک تو وہ بہت اونچی پرواز پر تھا ، پھر جیسے ہی میرے قدم کراچی سے اکھڑے علم نہیں کہ بعد میں اس کا کیا ہوا !
ایسا تھا میرا کراچی



