ایک معصوم سا سوال

تحریر: عابد حسین قریشی

چند روز قبل کسی دوست نے پوچھا کہ بیوی کو کنٹرول کیسے کیا جا سکتا ہے۔ میں نے عرض کی کہ اس میں سے کنٹرول کا لفظ ختم کردیں تو وہ کہنے لگے کہ کیا پھر tackle یا deal کرنا لگا دیں۔ میں نے کہا شاید یہ دونوں بھی درست نہیں۔ فرمانے لگے کہ پھر کس طرح “گزارا” کریں۔ میں نے کہا کہ اب آپ حقیقت کے کچھ کچھ قریب نظر آ رہے ہیں۔ کنٹرول یا tackle کرنے میں تو حاکمیت کی بو آتی ہے، وہ تو میاں بیوی کے درمیان ممکن نہیں ہو سکتی۔ deal کرنا بھی کچھ دفتری سا لفظ ہے اور لگتا ہے کہ جو deal کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسکا معاملات میں upper hand ہے۔ یہ بھی درست نہیں ہے۔آجکل تو عورت برابری کی سطح پر بات کرتی ہے، برابر کے حقوق مانگتی ہے، اور بعض اوقات بلکہ اکثر اوقات وہ مرد پر حاوی نظر آتی ہے۔ عورت، اہلیہ یا بیوی کے ساتھ نبرد آزمائی کرنا مرد کا پرانا شوق ہے۔ وہ روزانہ اپنے دوستوں اور میل ملاقات والوں کے زخمی بدن اور تلملاتی روحیں دیکھتا بھی ہے، observe بھی کرتا ہے، مگر سبق حاصل نہیں کرتا۔ مرد کا یہ شوق حکمرانی اور ذوق جہانگیری اسے چین ہی نہیں لینے دیتا۔ جس طرح تگڑے اور منہ زور بادشاہ کمزور ملکوں پر حملہ کرتے ہیں، یہ مرد بھی عورت کو اسی طرح کی فیلڈ یا جنس سمجھتا ہے، مگر جہاں شکست کے سو فیصد امکانات روشن ہوں، پھر بھی اسی محاذ سے بار بار شکست کھانا کہاں کی دانائی ہے۔ مرد کے پاس سب سے بڑا ہتھیار عورت کو گالی نکالنا یا دست درازی کرنا ہی ہوتا ہے، مگر اس طرح کی حرکت کے بعد وہ اخلاقی طور پر بھی اور سماجی ،طبیعیاتی اور نفسیاتی طور پر بھی یہ جنگ ہار جاتا ہے۔ مرد کو یہ زعم کہ وہ کبھی گھر کا سربراہ تھا، اسکی آمدن سے یہ گھر چلتا تھا، اس نے بچے پڑھائے، انکی شادیاں کیں وغیرہ وغیرہ، یہ چین نہیں لینے دیتا۔ اور اسی احساس تفاخر یا زعم حکمرانی میں باقی زندگی گزارنا چاہتا ہے،
مگر وہ بھول جاتا ہے، کہ زندگی کے اس سفر میں اسکی اہلیہ نے بھی بڑا کشت کاٹا ہے اور زندگی کی سنگلاخ چٹانوں پر چلتے وقت وہ اسکی ہمرکاب رہی ہے۔ مرد کو تو اور بھی بہت سے زعم ہوتے ہیں، مگر اسکا شوق حاکمیت سب سے برتری لے جاتا ہے۔ مگر وہ یہ بات فراموش کر جاتا ہے، کہ عمر میں ہر دن کے اضافہ سے اسکی حکمرانی والی سلطنت ڈھیلی ہوتی جا رہی ہے۔ بلکہ ہاتھ سے نکل رہی ہے۔ مرد بیچارے کا تو عمر میں اضافہ کے ساتھ ہر مرحلہ پر عورت پر انحصار بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مرد بوڑھاپا کسی غمگسار کے سہارے اچھا گزار سکتا ہے، مگر اکلاپا نہیں۔ ویسے جو بات مرد سمجھنا نہیں چاہتا یا اسے سمجھ دیر سے آتی ہے، کہ عورت مرد سے چاہتی کیا ہے۔ پیار کے دو بول، تھوڑی سی چاہت، اخلاص بھری توجہ۔ مگر یہ نہ بھی ہوں تو کام چل جاتا ہے، البتہ عورت منقسم مرد کو پسند نہیں کرتی۔ تقسیم شدہ مرد اسکے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ وہ چونکہ خود مکمل طور پر مرد کے حوالہ ہوتی ہے، اسلئے مکمل اور یکسو مرد ہی پسند کرتی ہے۔ دولت کی لش پش کی خواہش رکھنے والی عورتیں تعداد میں زیادہ نہیں ہوتیں۔ زیادہ تو مرد اور بچوں کو سنبھالنے والی ہی ہوتی ہیں۔ مرد عورت پر دست درازی یا زبان درازی کرکے عورت کو جسمانی اور روحانی طور پر گھائل کرتا ہے۔ زخمی جسم سے بندہ زندہ رہ لیتا ہے، مگر روحانی اور نفسیاتی مار اندر سے مار دیتی ہے اور مرد ہو یا عورت زخمی اور گھائل روح سے چند قدم بھی نہیں چل پاتے۔ویسے بھی اکیلے چلنے سے بہتر ہوتا ہے، کہ کسی مونس و غمگسار کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلا جائے۔ میرے دوست نے اس گفتگو کے بعد کچھ بے صبری سے پوچھا تو پھر بتائیں عورت سے کیسے نبٹا جائے، اگر آپکو control, tackle, یا deal جیسے الفاظ پہ اعتراض ہے، تو میں نے عرض کیا کہ اگر یہ باتیں لکھنے والے کو بھی اس معصوم سے سوال کا جواب آتا تو پھر وہ بات اتنی لمبی کیوں کرتا۔؟؟



  تازہ ترین   
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کو وفاقی حکومت کیخلاف کارروائی سے روک دیا
وزیراعظم شہباز شریف کے اہم غیر ملکی دوروں کا شیڈول تیار
کے پی اور وفاق میں اتفاق: مالا کنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں صوبائی حکومت کو تفویض
وزارت خزانہ کی ورکنگ نامکمل، پانڈا بانڈز کے اجراء میں چوتھی بار تبدیلی





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر